التسميات

الخميس، 15 يناير 2026

کتابی ہدیہ

سنی دعوت اسلامی کے 2025 کے بابرکت اجتماع کے موقع پر ایک کہنہ مشق قلم کار، ممتاز عالمِ دین اور مخلص داعیِ اسلام حضرت مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات نہایت خوشگوار، ایمان افروز اور یادگار ثابت ہوئی۔ پہلی ہی نشست میں آپ کو نہایت باوقار، خوش اخلاق، منکسر المزاج اور علم وعمل کا پیکر پایا۔ گفت گو کے دوران آپ کی دینی بصیرت اور امت کے تئیں درد و احساس نمایاں طور پر جھلکتا رہا۔ مفتی صاحب کی زندگی کا ہر پہلو مجاہدہ، محنت اور خلوص سے عبارت ہے۔ آپ جہاں ایک بلند پایہ قلم کار ہیں، وہیں امتِ مسلمہ کے نَو نہالوں کو زیورِ علم و ادب سے آراستہ کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں بھی ہیں۔ اسی عظیم مقصد کے تحت آپ نے بنگال کی سرزمین پر مدینۃ العلوم انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی ہے، جو دینی وتعلیمی سرگرمیوں کا ایک روشن مرکز بنتا جا رہا ہے۔ آپ شب وروز اس ادارے کی تعمیری وتعلیمی ترقی کے لیے فکرمند اور سرگرمِ عمل ہیں اور یہ ادارہ آپ کی اخلاص بھری کاوشوں کا زندہ ثبوت ہے۔ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی کا مقام نہایت بلند ہے۔ آپ کی قلمی خدمات کا دائرہ وسیع اور اثر انگیز ہے۔ آپ کی معروف اور مقبول تصانیف میں امام احمد رضا: حیات و خدمات، تاج الشریعہ: حیات و خدمات، مختصر سیرتِ رسولِ عربی ﷺ، اسلام اور خدمتِ خلق، کوثر و تسنیم، محبتِ رسول، عظمتِ رسول، میلادِ رسول خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد علمی واصلاحی کتابیں آپ کے قلم کی سوغات ہیں، جن کی تعداد سو سے متجاوز ہو چکی ہے، جو آپ کی علمی جدوجہد، فکری وسعت اور دینی غیرت کا روشن ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مفتی صاحب جیسے شفیق، باہمت اور مخلص افراد جماعتِ اہلِ سنت میں مزید پیدا فرمائے، ان کی علمی ودعوتی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے ادارے کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا کرے اور ان کے عزائم ومقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔ ابو الفواد توحید احمد طرابلسی

سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت

قاضی مہاراشٹر حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد اشرف رضا نوری قادری دام ظلہ العالیہ کی عطا کردہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت کا عکس نیز آپ نے جملہ علوم وفنون اور افتا کی بھی اجازت عطا فرمائی

الثلاثاء، 26 أغسطس 2025

نیپال اردو ٹائمز ایک سال کا تجزیاتی جائزہ

اردو صحافت کی تاریخ میں یہ حقیقت ہمیشہ روشن رہی ہے کہ جب بھی خلوص، محنت اور جذبہ شامل ہو تو محدود وسائل کے باوجود بڑے کام انجام پاتے ہیں۔ اسی حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے، "نیپال اردو ٹائمز"، جس نے اپنے قیام کے صرف ایک سال کے اندر قارئین اور اہلِ فکر کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ گزشتہ برس ربیع الاول شریف کی متبرک ساعتوں میں یہ اخبار منظر عام پر آیا۔ ابتدا میں اسے محض ایک نیا تجربہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن ایک سال کے اندر اس نے اپنی صحافتی دیانت داری، بروقت اشاعت اور معیاری مواد کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ یہ ایک عارضی کوشش نہیں ہے، بلکہ ایک پائیدار مشن ہے۔ "نیپال اردو ٹائمز" نے اپنی مختصر عمر میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، پانچ خصوصی نمبرات کی اشاعت، ہفتہ وار پابندی کے ساتھ بروقت ریلیز، مثبت اور تعمیری مواد کی فراہمی یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ اخبار نہ صرف جدوجہد کر رہا ہے، بلکہ معیار کو بھی ترجیح دے رہا ہے۔ اس کامیابی کے پس منظر میں ایک متحرک اور سنجیدہ ٹیم ہے۔ محترم ایڈیٹر حضرت مولانا عبدالجبار علیمیؔ نظامی صاحب کی سربراہی میں یہ قافلہ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں ان کے شانہ بشانہ حضرت مفتی محمد رضا مصباحی صاحب، حضرت سید غلام حسین مظہری صاحب (مرکزی صدر علماء فاؤنڈیشن نیپال)، حضرت مولانا نور محمد خالد مصباحی صاحب، حضرت مولانا کلام الدین نعمانی مصباحی صاحب (نائب ایڈیٹر)، حضرت مولانا محمد حسن سراقہ رضوی صاحب (معاون ایڈیٹر) اور تمام نامہ نگار وکالم نگار حضرات شامل ہیں۔ انہی سب کی محنت، رہنمائی اور فکری صلاحیتوں نے اس اخبار کو وہ وقار بخشا ہے، جو آج اسے حاصل ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نیپال میں اردو زبان کے فروغ کے لیے مواقع محدود ہیں، لیکن "نیپال اردو ٹائمز" نے اس کمی کو اپنی لگن اور صحافتی عزم سے پورا کیا۔ اس نے نہ صرف اردو داں طبقے کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، بلکہ نئی نسل کو بھی اردو زبان وادب سے جوڑنے کی ایک کوشش کی ہے۔ پہلی سالگرہ اس اخبار کے لیے ایک خوشی کا موقع ضرور ہے، مگر ساتھ ہی ایک نئے سفر کا آغاز بھی ہے۔ ان شاء اللہ "نیپال اردو ٹائمز" آئندہ برسوں میں مزید ترقی کی منازل طے کرے گا اور اپنی صحافتی دیانت اور اردو زبان کی خدمت کے ذریعے ایک اور مضبوط پہچان قائم کرے گا۔ دعا گو ودعا جو ابو الفواد توحید احمد طرابلسی استاذ: جامعہ غوثیہ نجم العلوم، مرکزی ادارہ سنی دعوت اسلامی، ممبئی یکم ربیع الاول 1447ھ مطابق 25 اگست 2025ء

الجمعة، 28 فبراير 2025

مولانا عبد الرشید مصباحی صاحب کا شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ پر تبصرہ

کل شام سنی دعوت اسلامی کے مرکزی ادارہ جامعہ غوثیہ نجم العلوم بھنڈی بازار ممبئ جانا ہوا جہاں محب مکرم رفیق محترم مبلغ سنی دعوت اسلامی حضرت علامہ مظہر حسین علیمی صاحب ادام اللہ فیوضہ وبرکاتہ سےایک ملاقات منصوبہ بند تھی۔ جہاں اتفاقیہ " صاحب تصانیف کثیرہ عصر حاضر میں ابھرتے ہوئے قلمکار ، ادیب شہیر حضرت علامہ ابوالفواد توحید احمد علیمی طرابلسی استاذ جامعہ غوثیہ نجم العلوم SDI " سے بھی ملاقات ہوگئی جنھیں دیکھ کر فرحت وانبساط سے دل لبریز ہوگیا کیوں کہ موصوف تحریر و تصنیف وتحقیق وتفتیش سے غیر معمولی شغف رکھتے ہیں اورنادر عنوانات پرتحریری طبع آزمائ کرنا ان کے خواص میں سے ہے جس کی بنیاد پرایسی شخصیت سے ملاقات کا شرف پانااور اپنی ناکارگی کے باوجود حوصلہ افزاء کلمات سے نوازا جانایقیناہم جیسوں کے لئے تو قابل رشک ہے ہی ۔ وقت رخصت میرے دونوں کرم فرماؤں نے جامعہ کے شعبہ جات ، لائبریری ، تعلیمی معیار ، تحریکی سرگرمیوں نیز مستقبل کے عزائم سے روشناس کرایا اور موصوف طرابلسی صاحب کی حالیہ معرض وجود میں آئ مقبول تصنیف " نوح علیہ السّلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ " ساتھ ہی " علامہ کمیل اشرف صاحب قبلہ کے خطبات کا مجموعہ بزبان انگریزی" بطور ہدیہ پیش کیا ۔ جس میں سے اول الذکر جو کہ موضوع کے لحاظ سے نہایت ہی نادراور دلکش ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کی سیرت طیبہ اور ان کے مبلغانہ ومجاہدانہ کردار کو واضح کرنے والی ہے کاآج سرسری نظر سے مطالعہ کاموقعہ ملا ، اسلوب و انداز ، طرز تحریر ، دلائل و براہین مآخذ ومصادر کا ذکر ، حوالہ جات کا التزام دیکھ کر مصنف کے فنی ذوق و علمی گیرائی کااندازہ ہوتا ہے ۔ خدا کرے زور قلم اور ہو زیادہ کتاب قابل مطالعہ اور علم وفن میں اضافہ کا سبب ہے لہذا آپ بھی حاصل کریں اور اپنی علمی تشنگی بجھانے کا سامان مہیا کریں ۔

الجمعة، 10 يناير 2025

شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ پر مولانا صدام علیمی صاحب کا تبصرہ

آج *شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت و تبلیغ* نامی کتاب حضرت مولانا توحید احمد طرابلسی صاحب کے ہاتھ سے ہمیں موصول ہوئی۔ یہ تصنیف حضرت مولانا توحید احمد طرابلسی کی تحقیقی کاوش کی ترجمانی کرتی ہے، جو چھ ابواب اور مختلف فصلوں میں حضرت نوح علیہ السلام کی حیات، مقصد بعثت، داعیانہ صفات، قوم کی خصوصیات، اہل خانہ کی بے وفائی، اور اسلوب دعوت پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب اردو زبان میں اپنی نوعیت کی منفرد تصنیف ہے، جسے علما اور مشائخ نے بھی سراہا ہے۔ مؤلف نے اس کتاب کا انتساب استاد محترم علامہ محمد تفسیر القادری قیامی علیہ الرحمہ کے نام کیا ہے۔ اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن کی اشاعت کردہ اس کتاب کا مقصد دعوتی اسلوب پر ایک خلا کو پر کرنا ہے۔ یہ مؤلف کی ایک اہم علمی خدمت ہے، جسے اہل علم حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
مولانا صدام علیمی علیمی پبلک ڈیجیٹل اسکول

الجمعة، 13 ديسمبر 2024

حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ پر اکک تبصرہ

حضرت علامہ مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی کی تصنیف "شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ" کے کچھ حصوں کو پڑھ کر میں بےحد متاثر ہوا ہوں۔ یہ اپنے موضوع کے لحاظ سے ایک منفرد اور مثال کے طور پر پیش کی جانے والی کتاب ہے۔ مصنف نے اس میں نہ صرف حضرت نوح علیہ السلام کے دعوت و تبلیغ کے اسلوب پر گہری بصیرت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے بلکہ اسے جدید دور کے تناظر میں بھی پیش کیا ہے۔ کتاب کے باب سوم نے خاص طور پر میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، جہاں مصنف نے حضرت نوح علیہ السلام کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو نہایت دلکش انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اس باب میں مصنف نے قرآن کی آیات کا حوالہ دے کر ان تمام باتوں کو اس قدر جامع اور گہرائی سے واضح کیا ہے ۔ توکل علی اللہ، صبر، شکر گزاری، ثابت قدمی، نرم گفتاری، اور مؤثر دعوت کے انمول اوصاف کو ایسے دلنشین انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ قاری نہ صرف متاثر ہوتا ہے بلکہ ان صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب بھی پاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف آپ کو دعوتِ دین کے اصول و آداب سکھاتی ہے بلکہ اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حکمت و صبر سے سامنا کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ اگر آپ دین کے پیغام کو عام کرنے کی نیت رکھتے ہیں یا اپنے کردار و عمل میں نکھار لانا چاہتے ہیں تو یہ کتاب یقیناً آپ کے لیے ایک بہترین رہنما ثابت ہوگی۔
حضرت علامہ مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی ایک سنجیدہ، محنتی اور زبردست عالم دین ہیں۔ دار العلوم علیمیہ (جمداشاہی بستی) اور کلية الدعوة الإسلامية (طرابلس، لیبیا) جیسی معتبر درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی علمی صلاحیتوں کو قلم کے ذریعے دنیا کے سامنے ایک منفرد علمی سرمایہ پیش کیا۔ ان کی یہ تصنیف نہ صرف ان کی گہری علمی بصیرت کا آئینہ دار ہے بلکہ ان کے تحقیقی ذوق اور فکری بلوغت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں حضرت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ یہ قیمتی تحفہ مجھے دیا اور اس کتاب کے ذریعے ہمیں حضرت نوح علیہ السلام کی مبارک زندگی اور ان کی دعوتِ حق کے قیمتی اسباق کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ تصنیف ان افراد کے لیے بے حد مفید ہے جو اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں اور دین کی خدمت کے لیے عملی قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ حضرت اپنی قلمی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے رہیں گے اور آئندہ بھی ایسے قیمتی کام پیش کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم محمد اویس رضوی صدیقی نعت اکیڈمی 8 دسمبر 2024

الأحد، 8 ديسمبر 2024

شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ

حضرت علامہ مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی کی تصنیف "شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ" کے کچھ حصوں کو پڑھ کر میں بےحد متاثر ہوا ہوں۔ یہ اپنے موضوع کے لحاظ سے ایک منفرد اور مثال کے طور پر پیش کی جانے والی کتاب ہے۔ مصنف نے اس میں نہ صرف حضرت نوح علیہ السلام کے دعوت و تبلیغ کے اسلوب پر گہری بصیرت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے بلکہ اسے جدید دور کے تناظر میں بھی پیش کیا ہے۔ کتاب کے باب سوم نے خاص طور پر میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، جہاں مصنف نے حضرت نوح علیہ السلام کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو نہایت دلکش انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اس باب میں مصنف نے قرآن کی آیات کا حوالہ دے کر ان تمام باتوں کو اس قدر جامع اور گہرائی سے واضح کیا ہے ۔ توکل علی اللہ، صبر، شکر گزاری، ثابت قدمی، نرم گفتاری، اور مؤثر دعوت کے انمول اوصاف کو ایسے دلنشین انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ قاری نہ صرف متاثر ہوتا ہے بلکہ ان صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب بھی پاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف آپ کو دعوتِ دین کے اصول و آداب سکھاتی ہے بلکہ اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حکمت و صبر سے سامنا کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ اگر آپ دین کے پیغام کو عام کرنے کی نیت رکھتے ہیں یا اپنے کردار و عمل میں نکھار لانا چاہتے ہیں تو یہ کتاب یقیناً آپ کے لیے ایک بہترین رہنما ثابت ہوگی۔ حضرت علامہ مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی ایک سنجیدہ، محنتی اور زبردست عالم دین ہیں۔ دار العلوم علیمیہ (جمداشاہی بستی) اور کلية الدعوة الإسلامية (طرابلس، لیبیا) جیسی معتبر درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی علمی صلاحیتوں کو قلم کے ذریعے دنیا کے سامنے ایک منفرد علمی سرمایہ پیش کیا۔ ان کی یہ تصنیف نہ صرف ان کی گہری علمی بصیرت کا آئینہ دار ہے بلکہ ان کے تحقیقی ذوق اور فکری بلوغت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
میں حضرت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ یہ قیمتی تحفہ مجھے دیا اور اس کتاب کے ذریعے ہمیں حضرت نوح علیہ السلام کی مبارک زندگی اور ان کی دعوتِ حق کے قیمتی اسباق کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ تصنیف ان افراد کے لیے بے حد مفید ہے جو اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں اور دین کی خدمت کے لیے عملی قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ حضرت اپنی قلمی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے رہیں گے اور آئندہ بھی ایسے قیمتی کام پیش کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم محمد اویس رضوی صدیقی 8 دسمبر 2024