توحید أحمد العليمي
الأحد، 26 يوليو 2026
شاعر اسلام شبنم بستوی کا انتقال پر ملال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج صبح آپ کے والدِ گرامی، حضرت حافظ و قاری عبد الرحمن عرف شبنم بستوی رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر پڑھ کر دلی صدمہ پہنچا۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ مکرم ﷺ کے صدقے مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
حضرت سے میری صرف ایک ہی مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت میں دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی کے شعبہ پرائمری کا طالبِ علم تھا۔ رمضان المبارک کی تعطیلات شروع ہونے کے بعد جب میں ممبئی آ رہا تھا تو بستی ریلوے اسٹیشن پر حضرت سے ملاقات ہوئی۔ معلوم ہوا کہ حضرت کا ٹکٹ کنفرم نہ ہونے کی وجہ سے وہ کچھ پریشان تھے۔ میرا ٹکٹ کنفرم تھا اور میں اکیلا سفر کر رہا تھا، چناں چہ حضرت میرے ساتھ بطورِ سرپرست سفر میں شامل ہو گئے، تاکہ میں راستے میں تنہا نہ رہوں۔ اس سفر میں ان کی سادگی، شفقت، محبت، خوش اخلاقی اور اپنائیت نے میرے دل پر ایسا نقش چھوڑا جو آج تک تازہ ہے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت صرف ہمارے علاقے کے معروف اور ہر دل عزیز شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک باعمل عالمِ دین، بہترین منتظم اور دینی خدمات کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنے والے عظیم انسان ہیں۔
مدرسہ اہلِ سنت فیض العلوم علیمیہ، ہنومان گنج کے ناظمِ اعلیٰ کی حیثیت سے آپ نے جو خدمات انجام دیں، وہ یقیناً آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کی دینی، علمی، تعلیمی اور ادبی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ہر نیکی کو آپ کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے، آپ کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور جنت الفردوس میں اپنے مقرب بندوں کے ساتھ اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو، تمام اہلِ خانہ، متعلقین، احباب اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
استاذ جامعہ غوثیہ نجم العلوم، مرکزی ادارہ سنی دعوت اسلامی، ممبئی
23/ جولائی 2026 مطابق 8 صفر المظفر 1448ھج
إجازة رواية الحديث والعلوم الشرعية من فضيلة الشيخ العلامة المفتي محمد فياض احمد بن العلامة محمد فياض احمد الأويسي الرضوي
إجازة رواية الحديث والعلوم الشرعية من فضيلة الشيخ العلامة المفتي محمد فياض احمد بن العلامة محمد فياض احمد الأويسي الرضوي حفظه الله ورعاه
الخميس، 2 يوليو 2026
جامع الفتاوی گلشن آبادی جلد اول
جامع الفتاوی مصنف سید عبد الفتاح گلشن آبادی جلد اول کی اس ناچیز نے ٹائپنگ اور از اول تا آخر نظر ثانی کی ہے۔
الاثنين، 22 يونيو 2026
الأربعاء، 17 يونيو 2026
علم وقلم کا ایک عہد اختتام پزیر
علم وقلم کا ایک عہد اختتام پذیر
---------------------------------
رات کی خاموشی میں موصول ہونے والی ایک افسوس ناک خبر نے دل کو غمگین کر دیا۔ معلوم ہوا کہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے سینئر استاذ، علمی وادبی حلقوں کی ممتاز شخصیت اور ماہ نامہ اشرفیہ کے مدیر حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی صاحب اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔
إنا لله وإنا إليه راجعون
بعض شخصیات اپنی ذمہ داریوں اور خدمات کے سبب محض ایک فرد نہیں رہتیں بلکہ ایک فکر، ایک روایت اور ایک ادارے کی علامت بن جاتی ہیں۔ حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ درس وتدریس، تصنیف وتالیف اور علمی ورثے کی حفاظت وترویج میں صرف کیا۔
جامعہ اشرفیہ کے علمی ماحول سے وابستہ افراد بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت کی ذات علم دوستی، سنجیدگی اور اخلاص کا حسین نمونہ تھی۔ آپ نے نہ صرف طلبہ کی علمی رہنمائی فرمائی بلکہ ان کی فکری واخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی مجلسوں میں علم کی وقعت اور اہلِ علم کا احترام نمایاں نظر آتا تھا۔
ادارت کے میدان میں بھی آپ کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ آپ کی نگرانی میں ماہ نامہ اشرفیہ نے علمی وقار، تحقیقی معیار اور فکری اعتدال کی اپنی روایت کو برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم کے درمیان اس رسالے کو اعتماد اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔
آج آپ کی رحلت کی خبر نے اہلِ اشرفیہ، تلامذہ، رفقائے کار اور محبین کے دلوں میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔ ایسے اہلِ علم کی جدائی ہمیشہ محسوس کی جاتی ہے، کیوں کہ ان کا وجود صرف حال کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان، شاگردوں اور متعلقین کو صبر و استقامت نصیب فرمائے۔آمین
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی، ممبئی
الثلاثاء، 16 يونيو 2026
قاضی مظفر حسنین رومی برکاتی صاحب سے ایک ملاقات انھیں کی زبانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ممبئی کے سفر کا ایک یادگار لمحہ
ممبئی کے سفر میں ایک ایسا یادگار لمحہ نصیب ہوا جو محض چائے کی محفل یا طعام کی دعوت تک محدود نہ تھا، بلکہ علمِ دین، سنیت کے درد سے سرشار مخلص احباب اور اہلِ علم کے ساتھ گزارا گیا وہ قیمتی وقت تھا جس کی یاد مدتوں دل و دماغ کو معطر رکھے گی۔
اسی سفر کے دوران مجھے ممبئی کی مینارہ مسجد میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ وہاں ہمارے کرم فرما محترم مولانا مظہر حسین علیمی صاحب مسجد کے دروازے پر اپنے محبت آمیز لہجے اور خلوص بھری مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کے لیے موجود تھے۔ مولانا علیمی صاحب سے اس سے قبل صرف ٹیلی فون پر گفتگو ہوتی رہی تھی، مگر اس موقع پر رسمِ تعارف کا پردہ اٹھا اور بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جیسا تصور ذہن میں تھا، حقیقت اس سے کہیں بڑھ کر نکلی۔ آپ کو نہایت شریف النفس، خوش اخلاق اور نیک دل انسان پایا۔
مولانا صاحب نے نہایت محبت و خلوص کے ساتھ استقبال فرمایا اور مجھے مولی علی ریسرچ سینٹر لے گئے، جو مینارہ مسجد میں قائم ہے۔ دراصل اسی مرکز کو دیکھنے کی خواہش نے مجھے مینارہ مسجد جانے پر آمادہ کیا تھا۔ اس عظیم علمی و تحقیقی مرکز کے بارے میں فیس بک کے ذریعے بہت کچھ سن چکا تھا، مگر حاضری اور مشاہدے کا موقع پہلی بار نصیب ہوا۔
ماشاء اللہ! یہاں نشر و اشاعت اور تحقیق و تالیف کا نہایت معیاری، منظم اور وقیع کام انجام دیا جا رہا ہے، اور یہ امر باعثِ تعجب بھی نہیں، جب اس مرکز سے وابستہ افراد مخلص ہوں، سنیت کا درد رکھتے ہوں اور دین و مسلک کی خدمت کے لیے بلند عزائم اور دور رس منصوبے رکھتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام نیک ارادوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین۔
مرکز میں میری ملاقات مولانا توحید علیمی طرابلسی صاحب اور انجینئر حافظ بلال اشرفی صاحب سے بھی ہوئی۔ میں کافی دیر وہاں موجود رہا اور مختلف موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ ماشاء اللہ! سبھی حضرات نے بے حد محبت و شفقت کا مظاہرہ فرمایا۔ ان کے علمی و تحقیقی کاموں کو دیکھ کر میرے اندر بھی دینی و علمی خدمات کے لیے ایک نیا جذبہ اور حوصلہ پیدا ہوا۔
دورانِ گفتگو خانوادۂ اشرفیہ، خانقاہِ مارہرہ شریف، حضور سید کمیل اشرف علیہ الرحمہ اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت کا بھی تذکرہ ہوا۔ اسی طرح اہلِ علم کے درمیان ہمارے مرکزِ عقیدت، حضور سراج الفقہاء حضرت مفتی نظام الدین رضوی برکاتی صاحب کا خصوصی ذکر بھی رہا۔ یہ میرے لیے باعثِ سعادت و افتخار تھا۔
اتفاق سے مولانا توحید علیمی صاحب اور حافظ بلال اشرفی صاحب دونوں نوجوان ہیں اور بالخصوص تحقیقی نہج پر کتب کی نشر و اشاعت میں مصروفِ کار ہیں۔ ایسے باہمت نوجوان علما اور خدامِ کتب کے درمیان ہمارے عزیز دوست، عظیم خانوادے کے روشن چراغ، شہیدِ بغداد حضرت اسید الحق قادری علیہ الرحمہ کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن ہی نہ تھا۔
شہیدِ بغداد!
آپ بہت یاد آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے مقبول بندوں کا ذکر کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
گفتگو کا سلسلہ اس قدر دل نشیں تھا کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ مولانا علیمی صاحب اور حافظ بلال اشرفی صاحب نے دوپہر کے طعام کا بھی وہیں اہتمام فرمایا اور بڑی محبت سے خاطر مدارات کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات سے مل کر ایسا محسوس ہوا کہ ان پر اکابر و اسلاف کی خصوصی عنایت و نظرِ کرم ہے۔ آج کے دور میں بعض اوقات شہرت کے بعد اخلاق و اخلاص میں کمی محسوس کی جاتی ہے، لیکن جب کسی کا رشتہ اپنے اکابر سے مضبوط ہو تو عاجزی، محبت اور خلوص میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ یہ حضرات اپنی پہچان ہی بزرگانِ دین کی نسبت سے کراتے ہیں، اس لیے ان کے اندر اخلاق و اخلاص کی کمی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو سلامت رکھے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں مزید ترقی، استقامت اور کامیابیوں سے نوازے۔ آمین۔
اس نشست میں میری نگاہیں مولانا فاروق ماہیمی صاحب کو بھی تلاش کرتی رہیں، لیکن کسی مصروفیت کے باعث وہ تشریف نہ لا سکے۔ ان سے ملاقات نہ ہو سکنے کی کسک بہرحال دل میں باقی رہی۔
واپسی کے وقت علی ریسرچ سینٹر کی چند کتابیں بھی بطورِ تحفہ عنایت کی گئیں، جو میرے لیے ایک گراں قدر نعمت سے کم نہیں۔ ان شاء اللہ ان کتابوں کا تذکرہ کسی مستقل مضمون میں کروں گا۔
گفتگو سمیٹتے ہوئے اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ ممبئی کے اس سفر میں آج سے قبل جن عمارات، عجائب گھروں اور تاریخی مقامات کی زیارت ہوئی، وہ معلومات میں اضافے اور فکر کی وسعت کا سبب بنے؛ لیکن آج کی یہ علمی نشست، اہلِ علم کی صحبت، کتابوں کا تحفہ اور بزرگانِ دین کا تذکرہ ایسا سرمایہ ہے جو ان شاء اللہ دنیا و آخرت، دونوں میں نافع و مفید ثابت ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی نیک نیتوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔
قاضی مظفر حسنین رومی برکاتی
16/6/2026
الاثنين، 18 مايو 2026
مولانا توحید احمد طرابلسی کی تحقیقی کاوشیں
*مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی کی تحقیقی کاوشیں*
25 اپریل 2026ء کو عازمینِ حج حضرت مولانا مفتی محمد یوسف صاحب قبلہ مصباحی اور اُن کی اہلیہ محترمہ، یعنی میری ہمشیرہ، کو رخصت کرنے کے لیے عروس البلاد Mumbai جانے کا شرف حاصل ہوا۔
حج ہاؤس کی کاغذی کارروائی اور دیگر ضروری مراحل سے فراغت کے بعد برادرِ گرامی حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی زید مجدہ کو فون کیا اور عرض کیا کہ اس وقت ہم ممبئی میں ہیں اور شرفِ ملاقات کے خواہاں ہیں۔ ادھر سے دل کو موہ لینے والی آواز آئی:
"بلال بھائی! ابھی میں آپ ہی کو یاد کر رہا تھا اور رابطہ کرنے والا تھا تاکہ کتابیں آپ تک پہنچ جائیں۔"
اس کے بعد آپ نے Moula Ali Research Center، مینارہ مسجد کا پتہ بتایا۔ چنانچہ ہم چند افراد عصر سے قبل ہی وہاں پہنچ گئے۔
ریسرچ سینٹر میں حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب کے علاوہ ایک اور ممتاز علمی شخصیت، حضرت مولانا مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی صاحب قبلہ بھی جلوہ افروز تھے۔ دونوں حضرات سے مصافحہ و معانقہ ہوا۔ رسمی تعارف اور پرتکلف ضیافت کے بعد مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی صاحب نے اپنی تازہ علمی کاوش جامع الفتاویٰ عنایت فرمائی، اور پھر مہائم شریف کے لیے روانہ ہوگئے۔
مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب زید مجدہ و فضلہم نے مولیٰ علی ریسرچ سینٹر کی دیگر مطبوعات کے ساتھ اپنی دو اہم تحقیقی کتابیں بھی عنایت فرمائیں، جو حال ہی میں Darul Hadith Wal Asanad al-Hindiya سے شائع ہوئی ہیں:
مسند کھمس بن الحسن القیسی البصری
مسند الربیع بن صبیح السعدی البصری
یہ دونوں مسانید، مذکورہ حضرات کی اُن روایات پر مشتمل ہیں جو مختلف کتبِ حدیث میں منتشر تھیں۔ مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب نے نہایت جانفشانی، محنتِ شاقہ اور دماغ سوزی کے ساتھ ان روایات کو جمع کیا، تحقیق و تخریج کے مراحل سے گزارا، اور ایک مرتب و منقح صورت میں اہلِ علم کے سامنے پیش کیا۔
حضرت کھمس بن حسن بصری رحمہ اللہ (متوفی 149ھ) اور حضرت ربیع بن صبیح بصری رحمہ اللہ (متوفی 160ھ) بصرہ کے جلیل القدر محدثین اور بلند پایہ علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
برصغیر میں اشاعتِ اسلام کے حوالے سے بھی ان دونوں اکابر کا نام نمایاں ہے۔ حضرت کھمس بن حسن بصری رحمہ اللہ محمد بن قاسم ثقفی کے ساتھ سندھ تشریف لائے اور راجہ داہر کے ظلم و ستم کے خاتمے میں شریک رہے۔ اسی طرح حضرت ربیع بن صبیح بصری رحمہ اللہ نے علاقۂ گجرات کے شہر بھڑوچ کے اطراف میں واقع بھاڑبھوت نامی قلعہ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب ایک تحقیقی ذہن کے حامل عالمِ دین ہیں۔ ان کی بیشتر تصانیف تحقیق و تدقیق کے اعلیٰ معیار کی آئینہ دار ہیں۔ ان کا قلم رواں دواں ہے؛ لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی پختگی، تحقیقی بصیرت اور تاریخی شعور نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو شرفِ قبول عطا فرمائے، انہیں صحت و عافیت کے ساتھ مزید خدمتِ دین کی توفیق بخشے، اور ان کے علم و قلم سے امتِ مسلمہ کو بھرپور نفع پہنچائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
بلال احمد نظامی مندسوری، رتلام مدھیہ پردیش
18/05/2026
الاثنين، 11 مايو 2026
الخميس، 7 مايو 2026
الجمعة، 1 مايو 2026
مولا علی ریسرچ سینٹر کا قیام: ایک ایم پیش رفت
*مولا علی ریسرچ سینٹر کا قیام: ایک اہم پیش رفت*
( مینارہ مسجد، محمد علی روڈ، ممبئی )
*محسن رضا ضیائی*
پروفیسر: لیڈی حوابائی جونیئر کالج،کیمپ،پونے
9921934812
کسی بھی معاشرے میں دینی، علمی اور فکری روایات کو پروان چڑھانے میں اشاعتی اور قلمی اداروں کا کردار نہایت ہی اہم ہوتا ہے، کیوں کہ اگر کتابیں موجود نہ ہوں اور انھیں شائع کرنے والے ادارے نہ ہوں تو قوم نہ صرف تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے ، بلکہ جہالت کے قعرِ عمیق میں جا گرتی ہے۔ اسی لیے انھیں معاشرے کی ہدایت و رہنمائی اور تعمیر و ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔
لہٰذا اس طرح کے اشاعتی اور قلمی اداروں کا قیام مسلم معاشرے میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جہاں سے مختلف موضوعات پر کتب و رسائل تیار کیے جائیں اور انھیں قوم و ملت تک پہنچایا جائے، اس لیے کہ موجودہ دور میں مسلم معاشرہ جن فتنوں اور چیلنجوں سے دوچار ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آئے دن نت نئے فتنے پیدا ہو رہے ہیں، جو اپنے باطل عقائد و نظریات سے لوگوں کے ایمان و عقیدے پر شب خون مار رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ جہاں تقریر و خطابت کا سہارا لے رہے ہیں، وہیں کتب و رسائل کے ذریعے پڑھے لکھے طبقے کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔اس مشن کی تکمیل کے لیے ان کے پاس متعدد اشاعتی ادارے قائم ہیں، جہاں سے وہ اپنے گمراہ کن عقائد و نظریات کی بھر پور ترویج و اشاعت کر رہے ہیں۔
ایسے فتنہ پرور عناصر کا علمی رد و ابطال نہایت ضروری ہے، تاکہ عوام کے سامنے ان کی اصل حقیقت لائی جا سکے اور لوگوں کو ان کے دامِ تزویر میں پھنسنے سے بچایا جا سکے۔
اسی طرح الحادی فتنوں اور ان کی ریشہ دوانیوں کا مدلل اور مؤثر جواب دینا بھی امت کی اہم ذمہ داری ہے۔
الحمدللہ!
مینارہ مسجد، ممبئی کے منتظمین قابلِ مبارک باد ہیں، جنھوں نے عصرِ حاضر کی اس اہم ضرورت کو شدت کے ساتھ محسوس کیا اور قلمی و تصنیفی کاموں کے اہم مقصد سے مولا علی ریسرچ سینٹر کا قیام عمل میں لایا، جو یقیناً لائقِ تحسین اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔
اس سینٹر کے چند اہم مقاصد ہیں، جوحسبِ ذیل ہیں:
(1) اپنے اسلاف و اکابر کی کتب کو سہل اور جدید انداز میں شائع کرنا۔
(2) اُردو اور مروجہ زبانوں میں عربی و فارسی کتب و رسائل کے تراجم و حواشی تیار کرنا۔
(3) سینٹر کی تمام مطبوعات کو ملک کے ہر تعلیمی ادارے اور لائبریری تک پہنچانا۔
(4) افادۂ عام کے لیے ہندی اور رومن میں بھی کتب و رسائل تیار کرکے غیر اُردو داں طبقے تک پہنچانا۔
اس کے علاوہ بھی دیگر اہداف و مقاصد ہیں، جنھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے قابل اور ماہر قلم کاروں کی ایک مستحکم ٹیم شب و روز مصروفِ عمل ہے، جو تحقیق و تصنیف کا گراں بہا کام انجام دے رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب تک مختلف زبانوں میں کئی علمی وتحقیقی اور درسی کتب منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جو ملک کے بیشتر دینی و عصری اداروں اور لائبریریوں کی زینت بن چکی ہیں۔
بڑی ناسپاسی ہوگی اگر اس ادارے میں دینی و اشاعتی خدمات انجام دینے والے علما و قلم کاروں کا ذکر نہ کیا جائے، جن میں خاص طور پر قابلِ ذکر حضرات یہ ہیں:
(1) *حضرت مولانا مظہر حسین علیمی صاحب*
(2) *حضرت مولانا مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی صاحب*
(3) *حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلیسی صاحب*
یہ تینوں حضرات تصنیف و تالیف کے میدان میں اپنی مثال آپ ہیں، جن کے اشہبِ قلم سے نکلے ہوئے متعدد کتب و رسائل آج اہلِ علم کی آنکھوں کا سرمہ بنے ہوئے ہیں اور انھیں علمی و فکری غذا فراہم کر رہے ہیں۔ایسے باصلاحیت اور فعال قلم کاروں کی بدولت یہ سینٹر روز افزوں شاہراہِ ترقی پر گامزن ہے۔
ان کے علاوہ *حافظ محمد بلال اشرفی، حافظ محمد عمیر اشرفی اور حافظ محمد فیض اشرفی* جیسے متحرک افراد بھئ ہیں، جو اس سینٹر کا حصہ بن کر مختلف دینی، علمی، قلمی اور اشاعتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سینٹر کے جملہ اخراجات و انتظامات مینارہ مسجد ٹرسٹ کے تحت انجام پاتے ہیں، جو نہ صرف ممبئی شہر کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مینارۂ نور ثابت ہوا ہے، جس نے خیر القرون کی مساجد کی یاد تازہ کر دی ہے۔یہ دیگر مساجد کے ذمہ داران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ بھی مساجد کے حقیقی کردار کو سمجھیں اور وہاں سے دینی، علمی، قلمی، سماجی، ثقافتی اور اشاعتی خدمات انجام دے کر تلافیٔ ما فات کی کوشش کریں۔
مؤرخہ 19 اپریل 2026ء بمطابق 1 ذی القعدہ 1447ھ بروز اتوار، سفرِ ممبئی کے دوران ناچیز نے مولا علی ریسرچ سینٹر کا وزٹ کیا، جہاں رفیقِ محترم جواں سال قلم کار حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب سے کافی دیر تک اہم اور حساس مسائل پر گفتگو ہوئی۔ اس دوران موصوف نے مولا علی ریسرچ سینٹر کی چند اہم مطبوعات عنایت فرمائیں :
(1) *جامع الفتاویٰ*
(مصنف: مفتی سید عبد الفتاح گلشن آبادی)
(تحقیق و تخریج : مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی)
یہ مفتی سید عبد الفتاح حسینی قادری گلشن آبادی(ناسک، مہاراشٹر) کے فتاویٰ جات کا ایک عطر بیز مجموعہ ہے، جو آپ کے وصال کے تقریباً ایک سو چالیس سالوں کے طویل عرصے کے بعد زیورِ طبع سے آراستہ ہوا ہے۔ یہ 660؍ صفحات پر مشتمل فتاویٰ جات پر ایک تحقیقی اور تفصیلی کتاب ہے۔ مفتی سید عبد الفتاح علیہ الرحمہ نے اس میں بہت سے مشکل مسائل کو زیرِ بحث لایا ہے اور بڑی آسانی سے قرآن و احادیث اور فقہ و فتاویٰ کی عظیم کتابوں کی روشنی میں بہترین حل دریافت فرمایا ہے۔
یہ کتاب خاص طور سے علما، ائمہ اور طلبۂ کرام کے لیے بہت زیادہ مفید ہے۔
مفتی صاحب کا تعلق شہرِ ناسک سے تھا،جہاں رہ کر آپ نے دین و سنیت کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ فقہ و فتاویٰ میں بھی وقیع خدمات انجام دیں۔ اخیر عمر میں آپ نے ممبئی میں قیام فرمایا، اور یہی پر آپ کا وصال بھی ہوا۔ منارہ مسجد کے بیسمنٹ کے مغربی سمت آپ کا مزارِ پُر انوارواقع ہے۔
(2) *غاية الجود بمعرفة وحدة الوجود*
( مصنف: قطبِ کوکن، امامِ ربانی فقیہ مخدوم علی بن احمد مہائمی شافعی)
(تحقیق و ترجمہ: مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی)
یہ کتاب فقیہ اعظم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی شافعی کی تصنیفِ لطیف ہے، جو گرچہ ایک مختصر رسالہ ہے لیکن اپنے اندر کئی ایک علمی و تحقیقی بحثوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ خاص طور سے وحدۃ الوجود ہر قرن و صدی میں ایک اختلافی مسئلہ رہا ہے۔ اغیار کی طرف سے بھی اِس کے رد و انکار پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ لیکن فقیہ اعظم علیہ الرحمہ نے نہایت ہی ایجاز و اختصار کے ساتھ وحدۃ الوجود کو واضح دلیلوں سے ثابت فرمایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کو بھی طشت از بام فرمادیا ہے۔یہ رسالہ اپنے موضوع اورمنہج کے لحاظ سے بہت اہم ہے جس کا مطالعہ مسئلۂ وحدۃ الوجود کی باریکیوں کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔
(3) *شرح سید الاستغفار*
( مصنف: قطبِ کوکن، امامِ ربانی فقیہ مخدوم علی بن احمد مہائمی شافعی)
(تحقیق و ترجمہ: مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی)
یہ ادعیہ و اذکار پر ایک گراں بہا کتاب ہے، جس کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسے حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی نے ترتیب دیا ہے۔ اِس کتاب میں بخاری شریف میں موجود ایک دعا جسے’’سید الاستغفار‘‘کہاجاتا ہے، اس کی مختصر شرح ہے، جسے مخدوم فقیہ علی مہائمی نے نہایت ہی جامع اور رقت آمیز انداز میں پیش کیا ہے۔
اگر اِس کتاب کے اذکار و ادعیہ کو پڑھا جائیں تو یقیناً اس کے برکات و حسنات حاصل ہوں گے۔
(4) *ضمیر الانسان*
(مصنف : سید ابراہیم بن سید محمد قادری حسینی مدنی کلیانی)
(ترجمہ و تحقیق: مفتی فاروق خاں مہائمی مصباحی)
یہ کتاب حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے احوال و آثار پر لکھی ہوئی ایک مستند دستاویزی کتاب ہے، جسے حضرت سید ابراہیم بن سید محمد قادری حسینی مدنی کلیانی نے تصنیف کیا ہے۔آپ تیرہویں صدی عیسوی کے ایک زبردست عالم تھے، جنہوں نے کلیان،مہاراشٹر میں آنکھ کھولی اور وہیں پر پردہ بھی فرمایا۔ کلیان اسٹیشن سے دو کلو میٹر کی دوری پر آپ کا مزارِ اقدس واقع ہے۔
(5) *نکاحِ مصطفےٰ : شہوت یا حکمت*
( مصنف: مفتی فاروق خاں مہائمی مصباحی)
یہ علمی و عقلی دلائل سے مزین اور احادیث ِ مصطفےٰ ﷺسےمبرہن نہایت وقیع رسالہ ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کے نکاح پر اعتراض کرنے والوں کو علمی اور سنجیدہ انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ رسول اللہ ﷺ کے نکاح کے مختلف فوائد اور پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ خاص طور پر آپ کے نکاح کے پسِ پردہ جو حکمتیں پوشیدہ تھیں، انہیں احادیث اور دیگر دلائل کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔
یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نکاح سے متعلق مستشرقین اور بعض غیرمسلم اہلِ قلم کی جانب سے مختلف قسم کے اعتراضات اور اشکالات پیش کیے گئے ہیں، جن کا مقصد غلط فہمیوں کو جنم دینا ہے۔
اِس رسالے کا مطالعہ نکاحِ مصطفےٰ ﷺ کے تعلق سے نہ صرف ذہن و فکر کو صاف کرے گا بلکہ غیروں کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات کا جواب دینے کےبھی قابل بنائے گا۔
مندرجہ بالا سطور میں ہم نے ان کتابوں کا مختصر تعارف اور اجمالی تجزیہ پیش کیا ہے، حالاں کہ ان کے فنی محاسن، علمی مباحث اور موضوع و مواد پر مزید تفصیل سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔
سینٹر کی جملہ مطبوعات کی خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر کام اسلاف و اکابر کی کتابوں پر ہوا ہے، جن میں ترجمہ ،تحقیق، تدوین، حواشی اور تزئین شامل ہے۔ یقیناً یہ اسلا ف شناسی کا واضح ثبوت ہے ، اِس اہم اور نمایاں خدمات پر پھر سے مینارہ مسجد کے ذمہ داران خاص طور عبد الوہاب اشرفی، جاوید پاریک، آصف میمن اور سلیمان سوریہ اور اس کے تمام سرگرم افراد کی خدمت میں گلہاے تہنیت و تبریک پیش ہیں، جنھوں نے امت کی طرف سے فرضِ کفایہ اداکرنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اُٹھائی ہے۔
ان کے علاوہ مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب نے اپنی تین اہم تحقیقی کتب بھی ہمیں پیش کی جن کا مختصر تعارف یہ ہے :
(6) *مسند الربیع بن صبیح السعدی البصری*
(جمع و تدوین: مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی)
یہ کتاب حضرت ابو حفص ربیع بن صبیح السعدی البصری کی مسانید و مرویات پر مشتمل ایک ضخیم علمی دستاویز ہے۔ آپ کو برصغیر (ہندوستان) میں ابتدائی محدثین میں شمار کیا جاتا ہے، بلکہ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس خطے کے پہلے محدث ہونے کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہے۔حضرت ربیع بن صبیح السعدی البصری علیہ الرحمہ تبعِ تابعین میں سے اور ثقہ و صدوق محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نہ صرف ایک عظیم عالمِ حدیث تھے بلکہ عابد، زاہد اور مجاہدِ اسلام بھی تھے۔ اسی جذبۂ جہاد کے تحت آپ مجاہدین کے ایک قافلے کے ساتھ سندھ تشریف لائے اور یہیں سنہ 160ھ میں آپ کا وصال ہوا۔اس خطے میں اشاعتِ حدیث کے اولین علمبردار کے طور پر بھی آپ کو یاد کیا جاتا ہے۔
امام ذہبی نے اپنی مشہور کتاب سیر اعلام النبلاء میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’تُوُفِّيَ بِالسِّنْدِ سَنَةَ سِتِّينَ وَمِائَةٍ‘‘
(آپ کا انتقال سندھ میں سنہ 160ھ میں ہوا۔)
آپ کے شاگردوں میں حضرت سفیان ثوری، حضرت عبد اللہ بن مبارک اور ابو داؤد طیالسی جیسے جلیل القدر محدثین شامل ہیں۔یہ کتاب علمی، تحقیقی اور تاریخی ہر اعتبار سے نہایت اہمیت کی حامل ہے جس کا مطالعہ علم میں اضافےکا باعث ہوگا۔
(7) *مسند کہمس بن الحسن القیسی البصری*
(جمع و تدوین: مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی)
یہ کتاب حضرت کہمس بن الحسن القیسی البصری کے احوال، آثار اور مرویات پر مشتمل ایک مفصل تاریخی و تحقیقی تصنیف ہے، جو 368 ؍صفحات پر محیط ہے۔
آپ ایک بلند پایہ محدث ہیں۔ آپ نے متعدد تابعین اور محدثین سے احادیث روایت کیں جس کی ائمۂ جرح و تعدیل نے تصدیق کی اور آپ کو ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے، جن میں امام احمد، امام ابو داؤد اور امام ابن ابی خثیمہ رحمہم اللہ جیسے اکابر محدثین بھی شامل ہیں۔
آپ نہایت متقی اور پرہیزگار انسان تھے اور ہمہ وقت خوف و خشیتِ الٰہی میں مستغرق رہتے تھے۔امام عبد الوہاب شعرانی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب تنبیہ المغترین میں لکھا ہے کہ:
حضرت کہمس بن حسن چالیس سال تک روتے رہے، صرف اس بات کے خوف سے کہ ایک دن انہوں نے اپنے ہمسائے کی مٹی سے بغیر اجازت ہاتھ دھو لیے تھے۔آپ اُس وقت ہندوستان (سندھ) تشریف لائے جب محمد بن قاسم یہاں وارد ہوئے۔ آپ نے ان کے ہمراہ راجہ داہر کے خلاف جہاد میں بنفسِ نفیس شرکت کی، اور اس جنگ میں راجہ داہر کو شکستِ فاش ہوئی۔بعد ازاں آپ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہوگئے، جہاں سنہ 149ھ میں آپ کا وصال ہوا اور وہیں آپ مدفون ہیں۔
(8) *حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوبِ دعوت و تبلیغ*
(تصنیف: مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی)
حضرت نوح علیہ السلام کے واقعات و حالات اور آپ کے اسلوبِ دعوت و تبلیغ پر اُردو زبان میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے، جس میں مصنفِ علام نے نہایت ہی عرق ریزی اور جاں فشانی سے قرآن و احادیث اور دیگر عربی کتب سے مواد اکٹھا کرکے ایک مستند دستاویز تیار کیا ہے۔اِس کتاب پر راقم السطور کی ایک طویل تقریظ بھی ہے۔
یہ کتاب خاص طور سے دعاۃ و مبلغین اور علما و ائمۂ کرام کے لیے ایک شان دار تحفہ ہے کہ وہ اِس کا مطالعہ کریں اور حضرت نوح علیہ السلام کے دعوتی و تبلیغی اسلوب کو اپنائیں۔
نوٹ: یہ کتابیں اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن ، حیدرآباد، دکن سے شائع ہوئی ہے۔
• اللہ تعالیٰ اِس ادارے کے جملہ معاونین، محبین اور مخلصین کو دارین کی نعمتیں عطا فرمائے اور اِس ادارے کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم
الاشتراك في:
الرسائل (Atom)












