التسميات

الجمعة، 1 مايو 2026

شهادة الاختصاص في الفقه والفتاوى

شهادة الاختصاص في الفقه والفتاوى

مولا علی ریسرچ سینٹر کا قیام: ایک ایم پیش رفت

*مولا علی ریسرچ سینٹر کا قیام: ایک اہم پیش رفت* ( مینارہ مسجد، محمد علی روڈ، ممبئی ) *محسن رضا ضیائی* پروفیسر: لیڈی حوابائی جونیئر کالج،کیمپ،پونے 9921934812 کسی بھی معاشرے میں دینی، علمی اور فکری روایات کو پروان چڑھانے میں اشاعتی اور قلمی اداروں کا کردار نہایت ہی اہم ہوتا ہے، کیوں کہ اگر کتابیں موجود نہ ہوں اور انھیں شائع کرنے والے ادارے نہ ہوں تو قوم نہ صرف تعلیم سے محروم رہ جاتی ہے ، بلکہ جہالت کے قعرِ عمیق میں جا گرتی ہے۔ اسی لیے انھیں معاشرے کی ہدایت و رہنمائی اور تعمیر و ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اس طرح کے اشاعتی اور قلمی اداروں کا قیام مسلم معاشرے میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جہاں سے مختلف موضوعات پر کتب و رسائل تیار کیے جائیں اور انھیں قوم و ملت تک پہنچایا جائے، اس لیے کہ موجودہ دور میں مسلم معاشرہ جن فتنوں اور چیلنجوں سے دوچار ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آئے دن نت نئے فتنے پیدا ہو رہے ہیں، جو اپنے باطل عقائد و نظریات سے لوگوں کے ایمان و عقیدے پر شب خون مار رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ جہاں تقریر و خطابت کا سہارا لے رہے ہیں، وہیں کتب و رسائل کے ذریعے پڑھے لکھے طبقے کو بھی گمراہ کر رہے ہیں۔اس مشن کی تکمیل کے لیے ان کے پاس متعدد اشاعتی ادارے قائم ہیں، جہاں سے وہ اپنے گمراہ کن عقائد و نظریات کی بھر پور ترویج و اشاعت کر رہے ہیں۔ ایسے فتنہ پرور عناصر کا علمی رد و ابطال نہایت ضروری ہے، تاکہ عوام کے سامنے ان کی اصل حقیقت لائی جا سکے اور لوگوں کو ان کے دامِ تزویر میں پھنسنے سے بچایا جا سکے۔ اسی طرح الحادی فتنوں اور ان کی ریشہ دوانیوں کا مدلل اور مؤثر جواب دینا بھی امت کی اہم ذمہ داری ہے۔ الحمدللہ! مینارہ مسجد، ممبئی کے منتظمین قابلِ مبارک باد ہیں، جنھوں نے عصرِ حاضر کی اس اہم ضرورت کو شدت کے ساتھ محسوس کیا اور قلمی و تصنیفی کاموں کے اہم مقصد سے مولا علی ریسرچ سینٹر کا قیام عمل میں لایا، جو یقیناً لائقِ تحسین اور قابلِ تقلید اقدام ہے۔ اس سینٹر کے چند اہم مقاصد ہیں، جوحسبِ ذیل ہیں: (1) اپنے اسلاف و اکابر کی کتب کو سہل اور جدید انداز میں شائع کرنا۔ (2) اُردو اور مروجہ زبانوں میں عربی و فارسی کتب و رسائل کے تراجم و حواشی تیار کرنا۔ (3) سینٹر کی تمام مطبوعات کو ملک کے ہر تعلیمی ادارے اور لائبریری تک پہنچانا۔ (4) افادۂ عام کے لیے ہندی اور رومن میں بھی کتب و رسائل تیار کرکے غیر اُردو داں طبقے تک پہنچانا۔ اس کے علاوہ بھی دیگر اہداف و مقاصد ہیں، جنھیں عملی جامہ پہنانے کے لیے قابل اور ماہر قلم کاروں کی ایک مستحکم ٹیم شب و روز مصروفِ عمل ہے، جو تحقیق و تصنیف کا گراں بہا کام انجام دے رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں اب تک مختلف زبانوں میں کئی علمی وتحقیقی اور درسی کتب منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جو ملک کے بیشتر دینی و عصری اداروں اور لائبریریوں کی زینت بن چکی ہیں۔ بڑی ناسپاسی ہوگی اگر اس ادارے میں دینی و اشاعتی خدمات انجام دینے والے علما و قلم کاروں کا ذکر نہ کیا جائے، جن میں خاص طور پر قابلِ ذکر حضرات یہ ہیں: (1) *حضرت مولانا مظہر حسین علیمی صاحب* (2) *حضرت مولانا مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی صاحب* (3) *حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلیسی صاحب* یہ تینوں حضرات تصنیف و تالیف کے میدان میں اپنی مثال آپ ہیں، جن کے اشہبِ قلم سے نکلے ہوئے متعدد کتب و رسائل آج اہلِ علم کی آنکھوں کا سرمہ بنے ہوئے ہیں اور انھیں علمی و فکری غذا فراہم کر رہے ہیں۔ایسے باصلاحیت اور فعال قلم کاروں کی بدولت یہ سینٹر روز افزوں شاہراہِ ترقی پر گامزن ہے۔ ان کے علاوہ *حافظ محمد بلال اشرفی، حافظ محمد عمیر اشرفی اور حافظ محمد فیض اشرفی* جیسے متحرک افراد بھئ ہیں، جو اس سینٹر کا حصہ بن کر مختلف دینی، علمی، قلمی اور اشاعتی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ خیال رہے کہ اس سینٹر کے جملہ اخراجات و انتظامات مینارہ مسجد ٹرسٹ کے تحت انجام پاتے ہیں، جو نہ صرف ممبئی شہر کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مینارۂ نور ثابت ہوا ہے، جس نے خیر القرون کی مساجد کی یاد تازہ کر دی ہے۔یہ دیگر مساجد کے ذمہ داران کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ بھی مساجد کے حقیقی کردار کو سمجھیں اور وہاں سے دینی، علمی، قلمی، سماجی، ثقافتی اور اشاعتی خدمات انجام دے کر تلافیٔ ما فات کی کوشش کریں۔ مؤرخہ 19 اپریل 2026ء بمطابق 1 ذی القعدہ 1447ھ بروز اتوار، سفرِ ممبئی کے دوران ناچیز نے مولا علی ریسرچ سینٹر کا وزٹ کیا، جہاں رفیقِ محترم جواں سال قلم کار حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب سے کافی دیر تک اہم اور حساس مسائل پر گفتگو ہوئی۔ اس دوران موصوف نے مولا علی ریسرچ سینٹر کی چند اہم مطبوعات عنایت فرمائیں : (1) *جامع الفتاویٰ* (مصنف: مفتی سید عبد الفتاح گلشن آبادی) (تحقیق و تخریج : مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی) یہ مفتی سید عبد الفتاح حسینی قادری گلشن آبادی(ناسک، مہاراشٹر) کے فتاویٰ جات کا ایک عطر بیز مجموعہ ہے، جو آپ کے وصال کے تقریباً ایک سو چالیس سالوں کے طویل عرصے کے بعد زیورِ طبع سے آراستہ ہوا ہے۔ یہ 660؍ صفحات پر مشتمل فتاویٰ جات پر ایک تحقیقی اور تفصیلی کتاب ہے۔ مفتی سید عبد الفتاح علیہ الرحمہ نے اس میں بہت سے مشکل مسائل کو زیرِ بحث لایا ہے اور بڑی آسانی سے قرآن و احادیث اور فقہ و فتاویٰ کی عظیم کتابوں کی روشنی میں بہترین حل دریافت فرمایا ہے۔ یہ کتاب خاص طور سے علما، ائمہ اور طلبۂ کرام کے لیے بہت زیادہ مفید ہے۔ مفتی صاحب کا تعلق شہرِ ناسک سے تھا،جہاں رہ کر آپ نے دین و سنیت کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ فقہ و فتاویٰ میں بھی وقیع خدمات انجام دیں۔ اخیر عمر میں آپ نے ممبئی میں قیام فرمایا، اور یہی پر آپ کا وصال بھی ہوا۔ منارہ مسجد کے بیسمنٹ کے مغربی سمت آپ کا مزارِ پُر انوارواقع ہے۔ (2) *غاية الجود بمعرفة وحدة الوجود* ( مصنف: قطبِ کوکن، امامِ ربانی فقیہ مخدوم علی بن احمد مہائمی شافعی) (تحقیق و ترجمہ: مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی) یہ کتاب فقیہ اعظم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی شافعی کی تصنیفِ لطیف ہے، جو گرچہ ایک مختصر رسالہ ہے لیکن اپنے اندر کئی ایک علمی و تحقیقی بحثوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ خاص طور سے وحدۃ الوجود ہر قرن و صدی میں ایک اختلافی مسئلہ رہا ہے۔ اغیار کی طرف سے بھی اِس کے رد و انکار پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ لیکن فقیہ اعظم علیہ الرحمہ نے نہایت ہی ایجاز و اختصار کے ساتھ وحدۃ الوجود کو واضح دلیلوں سے ثابت فرمایا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عیسائیوں کے عقیدہ تثلیث کو بھی طشت از بام فرمادیا ہے۔یہ رسالہ اپنے موضوع اورمنہج کے لحاظ سے بہت اہم ہے جس کا مطالعہ مسئلۂ وحدۃ الوجود کی باریکیوں کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ (3) *شرح سید الاستغفار* ( مصنف: قطبِ کوکن، امامِ ربانی فقیہ مخدوم علی بن احمد مہائمی شافعی) (تحقیق و ترجمہ: مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی) یہ ادعیہ و اذکار پر ایک گراں بہا کتاب ہے، جس کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسے حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی نے ترتیب دیا ہے۔ اِس کتاب میں بخاری شریف میں موجود ایک دعا جسے’’سید الاستغفار‘‘کہاجاتا ہے، اس کی مختصر شرح ہے، جسے مخدوم فقیہ علی مہائمی نے نہایت ہی جامع اور رقت آمیز انداز میں پیش کیا ہے۔ اگر اِس کتاب کے اذکار و ادعیہ کو پڑھا جائیں تو یقیناً اس کے برکات و حسنات حاصل ہوں گے۔ (4) *ضمیر الانسان* (مصنف : سید ابراہیم بن سید محمد قادری حسینی مدنی کلیانی) (ترجمہ و تحقیق: مفتی فاروق خاں مہائمی مصباحی) یہ کتاب حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے احوال و آثار پر لکھی ہوئی ایک مستند دستاویزی کتاب ہے، جسے حضرت سید ابراہیم بن سید محمد قادری حسینی مدنی کلیانی نے تصنیف کیا ہے۔آپ تیرہویں صدی عیسوی کے ایک زبردست عالم تھے، جنہوں نے کلیان،مہاراشٹر میں آنکھ کھولی اور وہیں پر پردہ بھی فرمایا۔ کلیان اسٹیشن سے دو کلو میٹر کی دوری پر آپ کا مزارِ اقدس واقع ہے۔ (5) *نکاحِ مصطفےٰ : شہوت یا حکمت* ( مصنف: مفتی فاروق خاں مہائمی مصباحی) یہ علمی و عقلی دلائل سے مزین اور احادیث ِ مصطفےٰ ﷺسےمبرہن نہایت وقیع رسالہ ہے، جس میں رسول اللہ ﷺ کے نکاح پر اعتراض کرنے والوں کو علمی اور سنجیدہ انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ رسول اللہ ﷺ کے نکاح کے مختلف فوائد اور پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ خاص طور پر آپ کے نکاح کے پسِ پردہ جو حکمتیں پوشیدہ تھیں، انہیں احادیث اور دیگر دلائل کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے۔ یہ بات کسی سے مخفی نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نکاح سے متعلق مستشرقین اور بعض غیرمسلم اہلِ قلم کی جانب سے مختلف قسم کے اعتراضات اور اشکالات پیش کیے گئے ہیں، جن کا مقصد غلط فہمیوں کو جنم دینا ہے۔ اِس رسالے کا مطالعہ نکاحِ مصطفےٰ ﷺ کے تعلق سے نہ صرف ذہن و فکر کو صاف کرے گا بلکہ غیروں کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات کا جواب دینے کےبھی قابل بنائے گا۔ مندرجہ بالا سطور میں ہم نے ان کتابوں کا مختصر تعارف اور اجمالی تجزیہ پیش کیا ہے، حالاں کہ ان کے فنی محاسن، علمی مباحث اور موضوع و مواد پر مزید تفصیل سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ سینٹر کی جملہ مطبوعات کی خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر کام اسلاف و اکابر کی کتابوں پر ہوا ہے، جن میں ترجمہ ،تحقیق، تدوین، حواشی اور تزئین شامل ہے۔ یقیناً یہ اسلا ف شناسی کا واضح ثبوت ہے ، اِس اہم اور نمایاں خدمات پر پھر سے مینارہ مسجد کے ذمہ داران خاص طور عبد الوہاب اشرفی، جاوید پاریک، آصف میمن اور سلیمان سوریہ اور اس کے تمام سرگرم افراد کی خدمت میں گلہاے تہنیت و تبریک پیش ہیں، جنھوں نے امت کی طرف سے فرضِ کفایہ اداکرنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر اُٹھائی ہے۔
ان کے علاوہ مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب نے اپنی تین اہم تحقیقی کتب بھی ہمیں پیش کی جن کا مختصر تعارف یہ ہے : (6) *مسند الربیع بن صبیح السعدی البصری* (جمع و تدوین: مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی) یہ کتاب حضرت ابو حفص ربیع بن صبیح السعدی البصری کی مسانید و مرویات پر مشتمل ایک ضخیم علمی دستاویز ہے۔ آپ کو برصغیر (ہندوستان) میں ابتدائی محدثین میں شمار کیا جاتا ہے، بلکہ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس خطے کے پہلے محدث ہونے کا شرف بھی آپ ہی کو حاصل ہے۔حضرت ربیع بن صبیح السعدی البصری علیہ الرحمہ تبعِ تابعین میں سے اور ثقہ و صدوق محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نہ صرف ایک عظیم عالمِ حدیث تھے بلکہ عابد، زاہد اور مجاہدِ اسلام بھی تھے۔ اسی جذبۂ جہاد کے تحت آپ مجاہدین کے ایک قافلے کے ساتھ سندھ تشریف لائے اور یہیں سنہ 160ھ میں آپ کا وصال ہوا۔اس خطے میں اشاعتِ حدیث کے اولین علمبردار کے طور پر بھی آپ کو یاد کیا جاتا ہے۔ امام ذہبی نے اپنی مشہور کتاب سیر اعلام النبلاء میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’تُوُفِّيَ بِالسِّنْدِ سَنَةَ سِتِّينَ وَمِائَةٍ‘‘ (آپ کا انتقال سندھ میں سنہ 160ھ میں ہوا۔) آپ کے شاگردوں میں حضرت سفیان ثوری، حضرت عبد اللہ بن مبارک اور ابو داؤد طیالسی جیسے جلیل القدر محدثین شامل ہیں۔یہ کتاب علمی، تحقیقی اور تاریخی ہر اعتبار سے نہایت اہمیت کی حامل ہے جس کا مطالعہ علم میں اضافےکا باعث ہوگا۔ (7) *مسند کہمس بن الحسن القیسی البصری* (جمع و تدوین: مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی) یہ کتاب حضرت کہمس بن الحسن القیسی البصری کے احوال، آثار اور مرویات پر مشتمل ایک مفصل تاریخی و تحقیقی تصنیف ہے، جو 368 ؍صفحات پر محیط ہے۔ آپ ایک بلند پایہ محدث ہیں۔ آپ نے متعدد تابعین اور محدثین سے احادیث روایت کیں جس کی ائمۂ جرح و تعدیل نے تصدیق کی اور آپ کو ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے، جن میں امام احمد، امام ابو داؤد اور امام ابن ابی خثیمہ رحمہم اللہ جیسے اکابر محدثین بھی شامل ہیں۔ آپ نہایت متقی اور پرہیزگار انسان تھے اور ہمہ وقت خوف و خشیتِ الٰہی میں مستغرق رہتے تھے۔امام عبد الوہاب شعرانی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب تنبیہ المغترین میں لکھا ہے کہ: حضرت کہمس بن حسن چالیس سال تک روتے رہے، صرف اس بات کے خوف سے کہ ایک دن انہوں نے اپنے ہمسائے کی مٹی سے بغیر اجازت ہاتھ دھو لیے تھے۔آپ اُس وقت ہندوستان (سندھ) تشریف لائے جب محمد بن قاسم یہاں وارد ہوئے۔ آپ نے ان کے ہمراہ راجہ داہر کے خلاف جہاد میں بنفسِ نفیس شرکت کی، اور اس جنگ میں راجہ داہر کو شکستِ فاش ہوئی۔بعد ازاں آپ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہوگئے، جہاں سنہ 149ھ میں آپ کا وصال ہوا اور وہیں آپ مدفون ہیں۔ (8) *حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوبِ دعوت و تبلیغ* (تصنیف: مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی) حضرت نوح علیہ السلام کے واقعات و حالات اور آپ کے اسلوبِ دعوت و تبلیغ پر اُردو زبان میں اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے، جس میں مصنفِ علام نے نہایت ہی عرق ریزی اور جاں فشانی سے قرآن و احادیث اور دیگر عربی کتب سے مواد اکٹھا کرکے ایک مستند دستاویز تیار کیا ہے۔اِس کتاب پر راقم السطور کی ایک طویل تقریظ بھی ہے۔ یہ کتاب خاص طور سے دعاۃ و مبلغین اور علما و ائمۂ کرام کے لیے ایک شان دار تحفہ ہے کہ وہ اِس کا مطالعہ کریں اور حضرت نوح علیہ السلام کے دعوتی و تبلیغی اسلوب کو اپنائیں۔ نوٹ: یہ کتابیں اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن ، حیدرآباد، دکن سے شائع ہوئی ہے۔ • اللہ تعالیٰ اِس ادارے کے جملہ معاونین، محبین اور مخلصین کو دارین کی نعمتیں عطا فرمائے اور اِس ادارے کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم

الخميس، 30 أبريل 2026

مسند ربیع اور مسند کہمس ملنے کی اطلاع

آج، بعد ظہر، محب گرامی مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی کی جانب سے ارسال کردہ دو عظیم علمی تحفے : 1- " مسندِ کھمس بن الحسن القیسی البصری" اور 2- " مسند الربیع بن صبیح السعدی البصری" بذریعہ ڈاک موصول ہوئے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں مسانید حضرت ابو الحسن کھمس بن حسن بصری، (م:149ھ) اور حضرت ربیع بن صبیح بصری(م: 160ھ) کی مرویات پر مشتمل ہیں۔
ان دونوں شخصیات کا تعلق عراق کے مشہور شہر، بصرہ سے ہے، دونوں بلند پایہ محدثین سے ہیں، اور امام ابوحنیفہ کے معاصرین میں سے ہیں۔ ان دونوں نے بر صغیر میں دین اسلام کی نشر واشاعت میں حصہ لیا، اول الذکر نے محمد بن قاسم ثقفی کی معیت میں سندھ میں راجہ داہر کے دانت کھٹے کیے تو ثانی الذکر نے گجرات کے بھڑوچ کے اطراف میں بھاڑبھوت نامی قلعہ کو فتح کرنے میں نمایاں کار انجام دیا، اور وہیں کہیں مدفون بھی ہیں۔ امام ربیع کو تو بصرہ کے اولین مصنفین میں گنا جاتا ہے۔ ان دونوں کی مرویات کتب احادیث میں جا بجا موجود ہیں۔ ( رحمھم اللہ) ان دونوں مسانید کی جمع وتحقیق کا کام محب محترم، مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی نے کی ہے۔ موصوف کا تعلق ضلع بستی یوپی کے مشہور قصبہ جمدا شاہی سے ہے، علیمیہ جمدا شاہی، پھر کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ، طرابلس، لیبیا کے فارغین سے ہیں، تحقیقی ذہن ومزاج کے مالک ہیں۔ ان دونوں مسانید کی ترتیب وجمع، اور تحقیق وتخریج میں جو انھوں نے محنت شاقہ اُٹھائی ہے، اس کے لیے وہ بجا طور پر شکریے کے مستحق ہیں۔ موصوف نے دونوں محدثین کے حالات، ان کے اساتذہ اور تلامذہ کے احوال بڑے شرح وبسط سے تحریر کیے ہیں، ان کا یہ کام آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ اس دور قحط الرجال میں مولانا توحید طرابلسی جیسے ہیرے بھی ہیں، یہ عجیب بات ہے۔ ورنہ ہم جیسے ناکارہ تو ابھی "بریلوی" جیسے لفظیات میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کو صحت و تندرستی وفارغ البالی عطا فرمائے، اور انھیں مزید ایسی دینی خدمات کی توفیق رفیق سے نوازے۔ آمین، بجاہ سید الانبیاء والمرسلین، علیہ وعلی آلہ افضل الصلوات والتسلیم۔ #صادق_مصباحی

الأربعاء، 11 مارس 2026

اظہار تشکر من جانب ابو الفواد توحید احمد طرابلسی

اظہارِ تشکر --------------------------- الحمد للّٰہ ربِّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔ علمِ دین کی خدمت بالخصوص حدیثِ نبوی ﷺ کی حفاظت، تدوین اور اشاعت، یقیناً برّ وتقویٰ کے اعلیٰ ترین مصادیق میں سے ہے۔ علمِ حدیث کی حفاظت وتدوین کا مبارک سلسلہ عہدِ رسالت مآب ﷺ سے شروع ہوا اور قرونِ اولیٰ میں اسے غیر معمولی استحکام نصیب ہوا۔ ائمۂ حدیث نے جس محنتِ شاقہ، دیانتِ علمی اور غیر معمولی احتیاط کے ساتھ اسماء الرجال، اسانید اور مرویات کو جمع کیا، وہ اسلامی علمی تاریخ کا ایک درخشاں اور بے مثال باب ہے۔ اسی سلسلۂ مبارک میں تاریخ بغداد (از خطیب بغدادی) اور تاریخ دمشق (از ابن عساکر) جیسی عظیم الشان تصانیف سامنے آئیں، جنہوں نے رجال ومحدثین کی تاریخ کو ایک مربوط، موسوعی اور تحقیقی قالب عطا کیا۔ ان کتب میں محض سوانح نہیں بلکہ اسانید، مرویات اور علمی مراتب کو بھی نہایت اہتمام سے جمع کیا گیا، جس سے بعد کے اہلِ علم کے لیے تحقیق کے دروازے وسیع تر ہو گئے۔
انہی علمی نقوشِ قدم پر چلتے ہوئے یہ داعیہ پیدا ہوا کہ برصغیرِ ہند میں عہدِ رسالت سے لے کر تبع تابعین کے دور تک جو محدثین تشریف لائے، ان کی حیات، علمی مقام اور ان سے مروی احادیث کو یکجا کیا جائے، تاکہ ہندوستان میں حدیثِ نبوی ﷺ کی ابتدائی اشاعت اور اس کے رجال کی خدمات ایک جامع اور مستند صورت میں سامنے آجائے، اگرچہ علمائے ہند کی تاریخ پر متعدد کتب موجود ہیں، مگر اس طرز پر (کہ ہر محدث کی سوانح کے ساتھ اس کی مرویات اور اسانید کو بھی جمع کیا جائے) ابھی تک کوئی مستقل اور موسوعی کام منظر عام پر نہیں آ سکا۔ اسی مقصد کے تحت اب تک سات مسانید پر کام کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے دو مسانید خاصی ضخامت رکھتی ہیں: (1) مسند الربيع بن صبيح البصري (432 صفحات بیروتی انداز) (2) مسند كهمس بن الحسن القيسي البصري (368 صفحات بیروتی انداز میں، یہ دونوں مسانید فی الحال زیرِ طبع ہیں) مزید پانچ مسانید میں سے: (1) مسند أبي مهلب هريم بن عثمان الطفاوي البصري (2) مسند عون بن كهمس البصري ان میں سے ہر ایک تقریباً 48 صفحات پر مشتمل ہے، جب کہ باقی تین کا مواد جمع کیا جا چکا ہے، صرف ان کی تخریج وترتیب کا مرحلہ باقی ہے۔ یہ مسانید بھی اہلِ خیر کے تعاون کی منتظر ہیں۔ تاکہ یہ بھی ہی حلۂ طباعت سے آراستہ ہو سکیں۔ ان تمام مسانید میں حتی المقدور دستیاب روایات، اسانید، تراجم اور تحقیقی مباحث کو جمع کیا گیا ہے، تاکہ ہر مسند اپنے موضوع کے اعتبار سے مکمل اور مستند مرجع کی حیثیت اختیار کر سکے۔ چوں کہ موجودہ دور میں عربی مصادر کی طباعت ایک دشوار مرحلہ بن چکی ہے۔ اردو کتب کی اشاعت بھی کئی اعتبارات سے مشکلات کا شکار رہتی ہے اور بسا اوقات اختلافی موضوعات کی کتابیں زیادہ توجہ حاصل کر لیتی ہیں، جب کہ تحقیقی اور علمی نوعیت کی کتب پسِ منظر میں چلی جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں تحقیقی اور علمی عربی مسانید کی اشاعت کا مرحلہ طے ہونا اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور اس کے نیک بندوں کے مخلصانہ تعاون کا نتیجہ ہے۔
سپاس نامہ: چوں کہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے، بعض کتابیں برسوں منتظر رہتی ہیں؛ لیکن جب تقدیرِ الٰہی کا وقت آتا ہے تو اسباب خود بخود مہیا ہو جاتے ہیں۔ چناں چہ مسند كهمس بن الحسن القيسي اور مسند الربيع بن صبيح البصري کی اشاعت بھی اپنے مقررہ وقت پر منصۂ شہود پر آ رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس عظیم خیر کے لیے حضرت مولانا صادق مصباحی صاحب کو ذریعہ بنایا، جنہوں نے نہایت خلوص کے ساتھ اس بارِ گراں کو اپنے ذمۂ کرم پر لیا۔ اسی طرح سیٹنگ اور اشاعتی مراحل میں عالی جناب بشارت علی صدیقی صاحب نے اپنی صلاحیت اور قیمتی وقت صرف کر کے اس علمی خدمت کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہیں کتاب کے ٹائٹل کی دیدہ زیب ڈیزائن عالی جناب اویس صاحب نے تیار کی، جو اپنی فنی مہارت کا حسین نمونہ ہے۔ حدیثِ پاک میں ارشاد ہے: مَنْ لَا يَشْكُرِ النَّاسَ لَا يَشْكُرِ اللَّهَ (جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا) رواہ ابو داود لہٰذا معاونین کا ذکرِ خیر اور اظہارِ تشکر نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے، بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ایک پسندیدہ اور باعثِ اجر عمل بھی ہے۔ اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ علمی خدمت میں تعاون کرے تو اس کا تذکرہ کرنا ریا نہیں، بلکہ قدردانی اور اعترافِ حق ہے۔ یہ طرزِ عمل نیکی کو عام کرنے اور اہلِ خیر کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتا ہے۔ یوں معاونین کا شکریہ ادا کرنا درحقیقت اسی قرآنی تعلیم “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ” پر عملی قدم ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، اس علمی مساعی کو امتِ مسلمہ کے لیے نافع اور ذخیرۂ آخرت بنائے اور ہم سب کو اخلاص، تواضع اور دوامِ خدمت کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین۔ وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین۔ ابو الفواد توحید احمد طرابلسی جمدا شاہی، بستی، یوپی 27/ فروری 2026 9/ رمضان المبارک 1447ھ

الخميس، 15 يناير 2026

کتابی ہدیہ

سنی دعوت اسلامی کے 2025 کے بابرکت اجتماع کے موقع پر ایک کہنہ مشق قلم کار، ممتاز عالمِ دین اور مخلص داعیِ اسلام حضرت مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات نہایت خوشگوار، ایمان افروز اور یادگار ثابت ہوئی۔ پہلی ہی نشست میں آپ کو نہایت باوقار، خوش اخلاق، منکسر المزاج اور علم وعمل کا پیکر پایا۔ گفت گو کے دوران آپ کی دینی بصیرت اور امت کے تئیں درد و احساس نمایاں طور پر جھلکتا رہا۔ مفتی صاحب کی زندگی کا ہر پہلو مجاہدہ، محنت اور خلوص سے عبارت ہے۔ آپ جہاں ایک بلند پایہ قلم کار ہیں، وہیں امتِ مسلمہ کے نَو نہالوں کو زیورِ علم و ادب سے آراستہ کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں بھی ہیں۔ اسی عظیم مقصد کے تحت آپ نے بنگال کی سرزمین پر مدینۃ العلوم انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی ہے، جو دینی وتعلیمی سرگرمیوں کا ایک روشن مرکز بنتا جا رہا ہے۔ آپ شب وروز اس ادارے کی تعمیری وتعلیمی ترقی کے لیے فکرمند اور سرگرمِ عمل ہیں اور یہ ادارہ آپ کی اخلاص بھری کاوشوں کا زندہ ثبوت ہے۔ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی کا مقام نہایت بلند ہے۔ آپ کی قلمی خدمات کا دائرہ وسیع اور اثر انگیز ہے۔ آپ کی معروف اور مقبول تصانیف میں امام احمد رضا: حیات و خدمات، تاج الشریعہ: حیات و خدمات، مختصر سیرتِ رسولِ عربی ﷺ، اسلام اور خدمتِ خلق، کوثر و تسنیم، محبتِ رسول، عظمتِ رسول، میلادِ رسول خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد علمی واصلاحی کتابیں آپ کے قلم کی سوغات ہیں، جن کی تعداد سو سے متجاوز ہو چکی ہے، جو آپ کی علمی جدوجہد، فکری وسعت اور دینی غیرت کا روشن ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مفتی صاحب جیسے شفیق، باہمت اور مخلص افراد جماعتِ اہلِ سنت میں مزید پیدا فرمائے، ان کی علمی ودعوتی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے ادارے کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا کرے اور ان کے عزائم ومقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔ ابو الفواد توحید احمد طرابلسی

سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت

قاضی مہاراشٹر حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد اشرف رضا نوری قادری دام ظلہ العالیہ کی عطا کردہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت کا عکس نیز آپ نے جملہ علوم وفنون اور افتا کی بھی اجازت عطا فرمائی

الثلاثاء، 26 أغسطس 2025

نیپال اردو ٹائمز ایک سال کا تجزیاتی جائزہ

اردو صحافت کی تاریخ میں یہ حقیقت ہمیشہ روشن رہی ہے کہ جب بھی خلوص، محنت اور جذبہ شامل ہو تو محدود وسائل کے باوجود بڑے کام انجام پاتے ہیں۔ اسی حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے، "نیپال اردو ٹائمز"، جس نے اپنے قیام کے صرف ایک سال کے اندر قارئین اور اہلِ فکر کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ گزشتہ برس ربیع الاول شریف کی متبرک ساعتوں میں یہ اخبار منظر عام پر آیا۔ ابتدا میں اسے محض ایک نیا تجربہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن ایک سال کے اندر اس نے اپنی صحافتی دیانت داری، بروقت اشاعت اور معیاری مواد کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ یہ ایک عارضی کوشش نہیں ہے، بلکہ ایک پائیدار مشن ہے۔ "نیپال اردو ٹائمز" نے اپنی مختصر عمر میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، پانچ خصوصی نمبرات کی اشاعت، ہفتہ وار پابندی کے ساتھ بروقت ریلیز، مثبت اور تعمیری مواد کی فراہمی یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ اخبار نہ صرف جدوجہد کر رہا ہے، بلکہ معیار کو بھی ترجیح دے رہا ہے۔ اس کامیابی کے پس منظر میں ایک متحرک اور سنجیدہ ٹیم ہے۔ محترم ایڈیٹر حضرت مولانا عبدالجبار علیمیؔ نظامی صاحب کی سربراہی میں یہ قافلہ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں ان کے شانہ بشانہ حضرت مفتی محمد رضا مصباحی صاحب، حضرت سید غلام حسین مظہری صاحب (مرکزی صدر علماء فاؤنڈیشن نیپال)، حضرت مولانا نور محمد خالد مصباحی صاحب، حضرت مولانا کلام الدین نعمانی مصباحی صاحب (نائب ایڈیٹر)، حضرت مولانا محمد حسن سراقہ رضوی صاحب (معاون ایڈیٹر) اور تمام نامہ نگار وکالم نگار حضرات شامل ہیں۔ انہی سب کی محنت، رہنمائی اور فکری صلاحیتوں نے اس اخبار کو وہ وقار بخشا ہے، جو آج اسے حاصل ہے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نیپال میں اردو زبان کے فروغ کے لیے مواقع محدود ہیں، لیکن "نیپال اردو ٹائمز" نے اس کمی کو اپنی لگن اور صحافتی عزم سے پورا کیا۔ اس نے نہ صرف اردو داں طبقے کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، بلکہ نئی نسل کو بھی اردو زبان وادب سے جوڑنے کی ایک کوشش کی ہے۔ پہلی سالگرہ اس اخبار کے لیے ایک خوشی کا موقع ضرور ہے، مگر ساتھ ہی ایک نئے سفر کا آغاز بھی ہے۔ ان شاء اللہ "نیپال اردو ٹائمز" آئندہ برسوں میں مزید ترقی کی منازل طے کرے گا اور اپنی صحافتی دیانت اور اردو زبان کی خدمت کے ذریعے ایک اور مضبوط پہچان قائم کرے گا۔ دعا گو ودعا جو ابو الفواد توحید احمد طرابلسی استاذ: جامعہ غوثیہ نجم العلوم، مرکزی ادارہ سنی دعوت اسلامی، ممبئی یکم ربیع الاول 1447ھ مطابق 25 اگست 2025ء

الجمعة، 28 فبراير 2025

مولانا عبد الرشید مصباحی صاحب کا شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ پر تبصرہ

کل شام سنی دعوت اسلامی کے مرکزی ادارہ جامعہ غوثیہ نجم العلوم بھنڈی بازار ممبئ جانا ہوا جہاں محب مکرم رفیق محترم مبلغ سنی دعوت اسلامی حضرت علامہ مظہر حسین علیمی صاحب ادام اللہ فیوضہ وبرکاتہ سےایک ملاقات منصوبہ بند تھی۔ جہاں اتفاقیہ " صاحب تصانیف کثیرہ عصر حاضر میں ابھرتے ہوئے قلمکار ، ادیب شہیر حضرت علامہ ابوالفواد توحید احمد علیمی طرابلسی استاذ جامعہ غوثیہ نجم العلوم SDI " سے بھی ملاقات ہوگئی جنھیں دیکھ کر فرحت وانبساط سے دل لبریز ہوگیا کیوں کہ موصوف تحریر و تصنیف وتحقیق وتفتیش سے غیر معمولی شغف رکھتے ہیں اورنادر عنوانات پرتحریری طبع آزمائ کرنا ان کے خواص میں سے ہے جس کی بنیاد پرایسی شخصیت سے ملاقات کا شرف پانااور اپنی ناکارگی کے باوجود حوصلہ افزاء کلمات سے نوازا جانایقیناہم جیسوں کے لئے تو قابل رشک ہے ہی ۔ وقت رخصت میرے دونوں کرم فرماؤں نے جامعہ کے شعبہ جات ، لائبریری ، تعلیمی معیار ، تحریکی سرگرمیوں نیز مستقبل کے عزائم سے روشناس کرایا اور موصوف طرابلسی صاحب کی حالیہ معرض وجود میں آئ مقبول تصنیف " نوح علیہ السّلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ " ساتھ ہی " علامہ کمیل اشرف صاحب قبلہ کے خطبات کا مجموعہ بزبان انگریزی" بطور ہدیہ پیش کیا ۔ جس میں سے اول الذکر جو کہ موضوع کے لحاظ سے نہایت ہی نادراور دلکش ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کی سیرت طیبہ اور ان کے مبلغانہ ومجاہدانہ کردار کو واضح کرنے والی ہے کاآج سرسری نظر سے مطالعہ کاموقعہ ملا ، اسلوب و انداز ، طرز تحریر ، دلائل و براہین مآخذ ومصادر کا ذکر ، حوالہ جات کا التزام دیکھ کر مصنف کے فنی ذوق و علمی گیرائی کااندازہ ہوتا ہے ۔ خدا کرے زور قلم اور ہو زیادہ کتاب قابل مطالعہ اور علم وفن میں اضافہ کا سبب ہے لہذا آپ بھی حاصل کریں اور اپنی علمی تشنگی بجھانے کا سامان مہیا کریں ۔