توحید أحمد العليمي
الأربعاء، 11 مارس 2026
اظہار تشکر من جانب ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
اظہارِ تشکر
---------------------------
الحمد للّٰہ ربِّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین۔
علمِ دین کی خدمت بالخصوص حدیثِ نبوی ﷺ کی حفاظت، تدوین اور اشاعت، یقیناً برّ وتقویٰ کے اعلیٰ ترین مصادیق میں سے ہے۔ علمِ حدیث کی حفاظت وتدوین کا مبارک سلسلہ عہدِ رسالت مآب ﷺ سے شروع ہوا اور قرونِ اولیٰ میں اسے غیر معمولی استحکام نصیب ہوا۔ ائمۂ حدیث نے جس محنتِ شاقہ، دیانتِ علمی اور غیر معمولی احتیاط کے ساتھ اسماء الرجال، اسانید اور مرویات کو جمع کیا، وہ اسلامی علمی تاریخ کا ایک درخشاں اور بے مثال باب ہے۔
اسی سلسلۂ مبارک میں تاریخ بغداد (از خطیب بغدادی) اور تاریخ دمشق (از ابن عساکر) جیسی عظیم الشان تصانیف سامنے آئیں، جنہوں نے رجال ومحدثین کی تاریخ کو ایک مربوط، موسوعی اور تحقیقی قالب عطا کیا۔ ان کتب میں محض سوانح نہیں بلکہ اسانید، مرویات اور علمی مراتب کو بھی نہایت اہتمام سے جمع کیا گیا، جس سے بعد کے اہلِ علم کے لیے تحقیق کے دروازے وسیع تر ہو گئے۔
انہی علمی نقوشِ قدم پر چلتے ہوئے یہ داعیہ پیدا ہوا کہ برصغیرِ ہند میں عہدِ رسالت سے لے کر تبع تابعین کے دور تک جو محدثین تشریف لائے، ان کی حیات، علمی مقام اور ان سے مروی احادیث کو یکجا کیا جائے، تاکہ ہندوستان میں حدیثِ نبوی ﷺ کی ابتدائی اشاعت اور اس کے رجال کی خدمات ایک جامع اور مستند صورت میں سامنے آجائے، اگرچہ علمائے ہند کی تاریخ پر متعدد کتب موجود ہیں، مگر اس طرز پر (کہ ہر محدث کی سوانح کے ساتھ اس کی مرویات اور اسانید کو بھی جمع کیا جائے) ابھی تک کوئی مستقل اور موسوعی کام منظر عام پر نہیں آ سکا۔
اسی مقصد کے تحت اب تک سات مسانید پر کام کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے دو مسانید خاصی ضخامت رکھتی ہیں:
(1) مسند الربيع بن صبيح البصري (432 صفحات بیروتی انداز)
(2) مسند كهمس بن الحسن القيسي البصري (368 صفحات بیروتی انداز میں، یہ دونوں مسانید فی الحال زیرِ طبع ہیں)
مزید پانچ مسانید میں سے:
(1) مسند أبي مهلب هريم بن عثمان الطفاوي البصري
(2) مسند عون بن كهمس البصري
ان میں سے ہر ایک تقریباً 48 صفحات پر مشتمل ہے، جب کہ باقی تین کا مواد جمع کیا جا چکا ہے، صرف ان کی تخریج وترتیب کا مرحلہ باقی ہے۔ یہ مسانید بھی اہلِ خیر کے تعاون کی منتظر ہیں۔ تاکہ یہ بھی ہی حلۂ طباعت سے آراستہ ہو سکیں۔
ان تمام مسانید میں حتی المقدور دستیاب روایات، اسانید، تراجم اور تحقیقی مباحث کو جمع کیا گیا ہے، تاکہ ہر مسند اپنے موضوع کے اعتبار سے مکمل اور مستند مرجع کی حیثیت اختیار کر سکے۔
چوں کہ موجودہ دور میں عربی مصادر کی طباعت ایک دشوار مرحلہ بن چکی ہے۔ اردو کتب کی اشاعت بھی کئی اعتبارات سے مشکلات کا شکار رہتی ہے اور بسا اوقات اختلافی موضوعات کی کتابیں زیادہ توجہ حاصل کر لیتی ہیں، جب کہ تحقیقی اور علمی نوعیت کی کتب پسِ منظر میں چلی جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں تحقیقی اور علمی عربی مسانید کی اشاعت کا مرحلہ طے ہونا اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور اس کے نیک بندوں کے مخلصانہ تعاون کا نتیجہ ہے۔
سپاس نامہ:
چوں کہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے، بعض کتابیں برسوں منتظر رہتی ہیں؛ لیکن جب تقدیرِ الٰہی کا وقت آتا ہے تو اسباب خود بخود مہیا ہو جاتے ہیں۔ چناں چہ مسند كهمس بن الحسن القيسي اور مسند الربيع بن صبيح البصري کی اشاعت بھی اپنے مقررہ وقت پر منصۂ شہود پر آ رہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس عظیم خیر کے لیے حضرت مولانا صادق مصباحی صاحب کو ذریعہ بنایا، جنہوں نے نہایت خلوص کے ساتھ اس بارِ گراں کو اپنے ذمۂ کرم پر لیا۔
اسی طرح سیٹنگ اور اشاعتی مراحل میں عالی جناب بشارت علی صدیقی صاحب نے اپنی صلاحیت اور قیمتی وقت صرف کر کے اس علمی خدمت کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
وہیں کتاب کے ٹائٹل کی دیدہ زیب ڈیزائن عالی جناب اویس صاحب نے تیار کی، جو اپنی فنی مہارت کا حسین نمونہ ہے۔
حدیثِ پاک میں ارشاد ہے:
مَنْ لَا يَشْكُرِ النَّاسَ لَا يَشْكُرِ اللَّهَ
(جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا) رواہ ابو داود
لہٰذا معاونین کا ذکرِ خیر اور اظہارِ تشکر نہ صرف اخلاقی ذمہ داری ہے، بلکہ سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ایک پسندیدہ اور باعثِ اجر عمل بھی ہے۔ اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ علمی خدمت میں تعاون کرے تو اس کا تذکرہ کرنا ریا نہیں، بلکہ قدردانی اور اعترافِ حق ہے۔ یہ طرزِ عمل نیکی کو عام کرنے اور اہلِ خیر کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتا ہے۔ یوں معاونین کا شکریہ ادا کرنا درحقیقت اسی قرآنی تعلیم
“وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ”
پر عملی قدم ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، اس علمی مساعی کو امتِ مسلمہ کے لیے نافع اور ذخیرۂ آخرت بنائے اور ہم سب کو اخلاص، تواضع اور دوامِ خدمت کی توفیق مرحمت فرمائے، آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین۔
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
جمدا شاہی، بستی، یوپی
27/ فروری 2026
9/ رمضان المبارک 1447ھ
الخميس، 15 يناير 2026
کتابی ہدیہ
سنی دعوت اسلامی کے 2025 کے بابرکت اجتماع کے موقع پر ایک کہنہ مشق قلم کار، ممتاز عالمِ دین اور مخلص داعیِ اسلام حضرت مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ یہ ملاقات نہایت خوشگوار، ایمان افروز اور یادگار ثابت ہوئی۔ پہلی ہی نشست میں آپ کو نہایت باوقار، خوش اخلاق، منکسر المزاج اور علم وعمل کا پیکر پایا۔ گفت گو کے دوران آپ کی دینی بصیرت اور امت کے تئیں درد و احساس نمایاں طور پر جھلکتا رہا۔
مفتی صاحب کی زندگی کا ہر پہلو مجاہدہ، محنت اور خلوص سے عبارت ہے۔ آپ جہاں ایک بلند پایہ قلم کار ہیں، وہیں امتِ مسلمہ کے نَو نہالوں کو زیورِ علم و ادب سے آراستہ کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں بھی ہیں۔ اسی عظیم مقصد کے تحت آپ نے بنگال کی سرزمین پر مدینۃ العلوم انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی ہے، جو دینی وتعلیمی سرگرمیوں کا ایک روشن مرکز بنتا جا رہا ہے۔ آپ شب وروز اس ادارے کی تعمیری وتعلیمی ترقی کے لیے فکرمند اور سرگرمِ عمل ہیں اور یہ ادارہ آپ کی اخلاص بھری کاوشوں کا زندہ ثبوت ہے۔
تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی کا مقام نہایت بلند ہے۔ آپ کی قلمی خدمات کا دائرہ وسیع اور اثر انگیز ہے۔ آپ کی معروف اور مقبول تصانیف میں
امام احمد رضا: حیات و خدمات، تاج الشریعہ: حیات و خدمات، مختصر سیرتِ رسولِ عربی ﷺ، اسلام اور خدمتِ خلق، کوثر و تسنیم، محبتِ رسول، عظمتِ رسول، میلادِ رسول
خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ بھی متعدد علمی واصلاحی کتابیں آپ کے قلم کی سوغات ہیں، جن کی تعداد سو سے متجاوز ہو چکی ہے، جو آپ کی علمی جدوجہد، فکری وسعت اور دینی غیرت کا روشن ثبوت ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مفتی صاحب جیسے شفیق، باہمت اور مخلص افراد جماعتِ اہلِ سنت میں مزید پیدا فرمائے، ان کی علمی ودعوتی خدمات کو قبول فرمائے، ان کے ادارے کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی عطا کرے اور ان کے عزائم ومقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت
قاضی مہاراشٹر حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد اشرف رضا نوری قادری دام ظلہ العالیہ کی عطا کردہ سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ کی خلافت کا عکس نیز آپ نے جملہ علوم وفنون اور افتا کی بھی اجازت عطا فرمائی
الأربعاء، 15 أكتوبر 2025
Artificial intelligence Origins benefits drawbacks by Tauheed Ahmad
Ameer of Sunni Dawate Islami presenting a book on Artificial Intelligence to Dr. Avinash Ramtohul, Minister for Information Technology, Communication and Innovation, Republic of Mauritius.
الأحد، 14 سبتمبر 2025
الثلاثاء، 26 أغسطس 2025
نیپال اردو ٹائمز ایک سال کا تجزیاتی جائزہ
اردو صحافت کی تاریخ میں یہ حقیقت ہمیشہ روشن رہی ہے کہ جب بھی خلوص، محنت اور جذبہ شامل ہو تو محدود وسائل کے باوجود بڑے کام انجام پاتے ہیں۔ اسی حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے، "نیپال اردو ٹائمز"، جس نے اپنے قیام کے صرف ایک سال کے اندر قارئین اور اہلِ فکر کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔
گزشتہ برس ربیع الاول شریف کی متبرک ساعتوں میں یہ اخبار منظر عام پر آیا۔ ابتدا میں اسے محض ایک نیا تجربہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن ایک سال کے اندر اس نے اپنی صحافتی دیانت داری، بروقت اشاعت اور معیاری مواد کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ یہ ایک عارضی کوشش نہیں ہے، بلکہ ایک پائیدار مشن ہے۔
"نیپال اردو ٹائمز" نے اپنی مختصر عمر میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، پانچ خصوصی نمبرات کی اشاعت، ہفتہ وار پابندی کے ساتھ بروقت ریلیز، مثبت اور تعمیری مواد کی فراہمی یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ اخبار نہ صرف جدوجہد کر رہا ہے، بلکہ معیار کو بھی ترجیح دے رہا ہے۔
اس کامیابی کے پس منظر میں ایک متحرک اور سنجیدہ ٹیم ہے۔ محترم ایڈیٹر حضرت مولانا عبدالجبار علیمیؔ نظامی صاحب کی سربراہی میں یہ قافلہ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں ان کے شانہ بشانہ حضرت مفتی محمد رضا مصباحی صاحب، حضرت سید غلام حسین مظہری صاحب (مرکزی صدر علماء فاؤنڈیشن نیپال)، حضرت مولانا نور محمد خالد مصباحی صاحب، حضرت مولانا کلام الدین نعمانی مصباحی صاحب (نائب ایڈیٹر)، حضرت مولانا محمد حسن سراقہ رضوی صاحب (معاون ایڈیٹر) اور تمام نامہ نگار وکالم نگار حضرات شامل ہیں۔ انہی سب کی محنت، رہنمائی اور فکری صلاحیتوں نے اس اخبار کو وہ وقار بخشا ہے، جو آج اسے حاصل ہے۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نیپال میں اردو زبان کے فروغ کے لیے مواقع محدود ہیں، لیکن "نیپال اردو ٹائمز" نے اس کمی کو اپنی لگن اور صحافتی عزم سے پورا کیا۔ اس نے نہ صرف اردو داں طبقے کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، بلکہ نئی نسل کو بھی اردو زبان وادب سے جوڑنے کی ایک کوشش کی ہے۔
پہلی سالگرہ اس اخبار کے لیے ایک خوشی کا موقع ضرور ہے، مگر ساتھ ہی ایک نئے سفر کا آغاز بھی ہے۔ ان شاء اللہ "نیپال اردو ٹائمز" آئندہ برسوں میں مزید ترقی کی منازل طے کرے گا اور اپنی صحافتی دیانت اور اردو زبان کی خدمت کے ذریعے ایک اور مضبوط پہچان قائم کرے گا۔
دعا گو ودعا جو
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
استاذ: جامعہ غوثیہ نجم العلوم، مرکزی ادارہ سنی دعوت اسلامی، ممبئی
یکم ربیع الاول 1447ھ مطابق 25 اگست 2025ء
الجمعة، 28 فبراير 2025
مولانا عبد الرشید مصباحی صاحب کا شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ پر تبصرہ
کل شام سنی دعوت اسلامی کے مرکزی ادارہ جامعہ غوثیہ نجم العلوم بھنڈی بازار ممبئ جانا ہوا جہاں محب مکرم رفیق محترم مبلغ سنی دعوت اسلامی حضرت علامہ مظہر حسین علیمی صاحب ادام اللہ فیوضہ وبرکاتہ سےایک ملاقات منصوبہ بند تھی۔
جہاں اتفاقیہ " صاحب تصانیف کثیرہ عصر حاضر میں ابھرتے ہوئے قلمکار ، ادیب شہیر حضرت علامہ ابوالفواد توحید احمد علیمی طرابلسی استاذ جامعہ غوثیہ نجم العلوم SDI " سے بھی ملاقات ہوگئی جنھیں دیکھ کر فرحت وانبساط سے دل لبریز ہوگیا کیوں کہ موصوف تحریر و تصنیف وتحقیق وتفتیش سے غیر معمولی شغف رکھتے ہیں اورنادر عنوانات پرتحریری طبع آزمائ کرنا ان کے خواص میں سے ہے جس کی بنیاد پرایسی شخصیت سے ملاقات کا شرف پانااور اپنی ناکارگی کے باوجود حوصلہ افزاء کلمات سے نوازا جانایقیناہم جیسوں کے لئے تو قابل رشک ہے ہی ۔ وقت رخصت میرے دونوں کرم فرماؤں نے جامعہ کے شعبہ جات ، لائبریری ، تعلیمی معیار ، تحریکی سرگرمیوں نیز مستقبل کے عزائم سے روشناس کرایا اور موصوف طرابلسی صاحب کی حالیہ معرض وجود میں آئ مقبول تصنیف " نوح علیہ السّلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ "
ساتھ ہی " علامہ کمیل اشرف صاحب قبلہ کے خطبات کا مجموعہ بزبان انگریزی" بطور ہدیہ پیش کیا ۔ جس میں سے اول الذکر جو کہ موضوع کے لحاظ سے نہایت ہی نادراور دلکش ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کی سیرت طیبہ اور ان کے مبلغانہ ومجاہدانہ کردار کو واضح کرنے والی ہے کاآج سرسری نظر سے مطالعہ کاموقعہ ملا ، اسلوب و انداز ، طرز تحریر ، دلائل و براہین مآخذ ومصادر کا ذکر ، حوالہ جات کا التزام دیکھ کر مصنف کے فنی ذوق و علمی گیرائی کااندازہ ہوتا ہے ۔
خدا کرے زور قلم اور ہو زیادہ
کتاب قابل مطالعہ اور علم وفن میں اضافہ کا سبب ہے لہذا آپ بھی حاصل کریں اور اپنی علمی تشنگی بجھانے کا سامان مہیا کریں ۔
الاثنين، 10 فبراير 2025
الثلاثاء، 21 يناير 2025
الجمعة، 10 يناير 2025
شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ پر مولانا صدام علیمی صاحب کا تبصرہ
آج *شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت و تبلیغ* نامی کتاب حضرت مولانا توحید احمد طرابلسی صاحب کے ہاتھ سے ہمیں موصول ہوئی۔ یہ تصنیف حضرت مولانا توحید احمد طرابلسی کی تحقیقی کاوش کی ترجمانی کرتی ہے، جو چھ ابواب اور مختلف فصلوں میں حضرت نوح علیہ السلام کی حیات، مقصد بعثت، داعیانہ صفات، قوم کی خصوصیات، اہل خانہ کی بے وفائی، اور اسلوب دعوت پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب اردو زبان میں اپنی نوعیت کی منفرد تصنیف ہے، جسے علما اور مشائخ نے بھی سراہا ہے۔ مؤلف نے اس کتاب کا انتساب استاد محترم علامہ محمد تفسیر القادری قیامی علیہ الرحمہ کے نام کیا ہے۔ اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن کی اشاعت کردہ اس کتاب کا مقصد دعوتی اسلوب پر ایک خلا کو پر کرنا ہے۔ یہ مؤلف کی ایک اہم علمی خدمت ہے، جسے اہل علم حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
مولانا صدام علیمی
علیمی پبلک ڈیجیٹل اسکول
الجمعة، 13 ديسمبر 2024
حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ پر اکک تبصرہ
حضرت علامہ مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی کی تصنیف "شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ" کے کچھ حصوں کو پڑھ کر میں بےحد متاثر ہوا ہوں۔ یہ اپنے موضوع کے لحاظ سے ایک منفرد اور مثال کے طور پر پیش کی جانے والی کتاب ہے۔ مصنف نے اس میں نہ صرف حضرت نوح علیہ السلام کے دعوت و تبلیغ کے اسلوب پر گہری بصیرت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے بلکہ اسے جدید دور کے تناظر میں بھی پیش کیا ہے۔
کتاب کے باب سوم نے خاص طور پر میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، جہاں مصنف نے حضرت نوح علیہ السلام کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو نہایت دلکش انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اس باب میں مصنف نے قرآن کی آیات کا حوالہ دے کر ان تمام باتوں کو اس قدر جامع اور گہرائی سے واضح کیا ہے ۔ توکل علی اللہ، صبر، شکر گزاری، ثابت قدمی، نرم گفتاری، اور مؤثر دعوت کے انمول اوصاف کو ایسے دلنشین انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ قاری نہ صرف متاثر ہوتا ہے بلکہ ان صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب بھی پاتا ہے۔
یہ کتاب نہ صرف آپ کو دعوتِ دین کے اصول و آداب سکھاتی ہے بلکہ اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حکمت و صبر سے سامنا کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ اگر آپ دین کے پیغام کو عام کرنے کی نیت رکھتے ہیں یا اپنے کردار و عمل میں نکھار لانا چاہتے ہیں تو یہ کتاب یقیناً آپ کے لیے ایک بہترین رہنما ثابت ہوگی۔
حضرت علامہ مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی ایک سنجیدہ، محنتی اور زبردست عالم دین ہیں۔ دار العلوم علیمیہ (جمداشاہی بستی) اور کلية الدعوة الإسلامية (طرابلس، لیبیا) جیسی معتبر درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی علمی صلاحیتوں کو قلم کے ذریعے دنیا کے سامنے ایک منفرد علمی سرمایہ پیش کیا۔ ان کی یہ تصنیف نہ صرف ان کی گہری علمی بصیرت کا آئینہ دار ہے بلکہ ان کے تحقیقی ذوق اور فکری بلوغت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
میں حضرت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ یہ قیمتی تحفہ مجھے دیا اور اس کتاب کے ذریعے ہمیں حضرت نوح علیہ السلام کی مبارک زندگی اور ان کی دعوتِ حق کے قیمتی اسباق کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ تصنیف ان افراد کے لیے بے حد مفید ہے جو اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں اور دین کی خدمت کے لیے عملی قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ حضرت اپنی قلمی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے رہیں گے اور آئندہ بھی ایسے قیمتی کام پیش کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد اویس رضوی صدیقی
نعت اکیڈمی
8 دسمبر 2024
الاشتراك في:
التعليقات (Atom)

















