الاثنين، 18 مايو 2026
مولانا توحید احمد طرابلسی کی تحقیقی کاوشیں
*مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی کی تحقیقی کاوشیں*
25 اپریل 2026ء کو عازمینِ حج حضرت مولانا مفتی محمد یوسف صاحب قبلہ مصباحی اور اُن کی اہلیہ محترمہ، یعنی میری ہمشیرہ، کو رخصت کرنے کے لیے عروس البلاد Mumbai جانے کا شرف حاصل ہوا۔
حج ہاؤس کی کاغذی کارروائی اور دیگر ضروری مراحل سے فراغت کے بعد برادرِ گرامی حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی زید مجدہ کو فون کیا اور عرض کیا کہ اس وقت ہم ممبئی میں ہیں اور شرفِ ملاقات کے خواہاں ہیں۔ ادھر سے دل کو موہ لینے والی آواز آئی:
"بلال بھائی! ابھی میں آپ ہی کو یاد کر رہا تھا اور رابطہ کرنے والا تھا تاکہ کتابیں آپ تک پہنچ جائیں۔"
اس کے بعد آپ نے Moula Ali Research Center، مینارہ مسجد کا پتہ بتایا۔ چنانچہ ہم چند افراد عصر سے قبل ہی وہاں پہنچ گئے۔
ریسرچ سینٹر میں حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب کے علاوہ ایک اور ممتاز علمی شخصیت، حضرت مولانا مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی صاحب قبلہ بھی جلوہ افروز تھے۔ دونوں حضرات سے مصافحہ و معانقہ ہوا۔ رسمی تعارف اور پرتکلف ضیافت کے بعد مفتی فاروق خان مہائمی مصباحی صاحب نے اپنی تازہ علمی کاوش جامع الفتاویٰ عنایت فرمائی، اور پھر مہائم شریف کے لیے روانہ ہوگئے۔
مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب زید مجدہ و فضلہم نے مولیٰ علی ریسرچ سینٹر کی دیگر مطبوعات کے ساتھ اپنی دو اہم تحقیقی کتابیں بھی عنایت فرمائیں، جو حال ہی میں Darul Hadith Wal Asanad al-Hindiya سے شائع ہوئی ہیں:
مسند کھمس بن الحسن القیسی البصری
مسند الربیع بن صبیح السعدی البصری
یہ دونوں مسانید، مذکورہ حضرات کی اُن روایات پر مشتمل ہیں جو مختلف کتبِ حدیث میں منتشر تھیں۔ مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب نے نہایت جانفشانی، محنتِ شاقہ اور دماغ سوزی کے ساتھ ان روایات کو جمع کیا، تحقیق و تخریج کے مراحل سے گزارا، اور ایک مرتب و منقح صورت میں اہلِ علم کے سامنے پیش کیا۔
حضرت کھمس بن حسن بصری رحمہ اللہ (متوفی 149ھ) اور حضرت ربیع بن صبیح بصری رحمہ اللہ (متوفی 160ھ) بصرہ کے جلیل القدر محدثین اور بلند پایہ علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
برصغیر میں اشاعتِ اسلام کے حوالے سے بھی ان دونوں اکابر کا نام نمایاں ہے۔ حضرت کھمس بن حسن بصری رحمہ اللہ محمد بن قاسم ثقفی کے ساتھ سندھ تشریف لائے اور راجہ داہر کے ظلم و ستم کے خاتمے میں شریک رہے۔ اسی طرح حضرت ربیع بن صبیح بصری رحمہ اللہ نے علاقۂ گجرات کے شہر بھڑوچ کے اطراف میں واقع بھاڑبھوت نامی قلعہ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب ایک تحقیقی ذہن کے حامل عالمِ دین ہیں۔ ان کی بیشتر تصانیف تحقیق و تدقیق کے اعلیٰ معیار کی آئینہ دار ہیں۔ ان کا قلم رواں دواں ہے؛ لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں علمی پختگی، تحقیقی بصیرت اور تاریخی شعور نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو شرفِ قبول عطا فرمائے، انہیں صحت و عافیت کے ساتھ مزید خدمتِ دین کی توفیق بخشے، اور ان کے علم و قلم سے امتِ مسلمہ کو بھرپور نفع پہنچائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین ﷺ۔
بلال احمد نظامی مندسوری، رتلام مدھیہ پردیش
18/05/2026
الاشتراك في:
تعليقات الرسالة (Atom)



ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق