التسميات

الخميس، 30 أبريل 2026

مسند ربیع اور مسند کہمس ملنے کی اطلاع

آج، بعد ظہر، محب گرامی مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی کی جانب سے ارسال کردہ دو عظیم علمی تحفے : 1- " مسندِ کھمس بن الحسن القیسی البصری" اور 2- " مسند الربیع بن صبیح السعدی البصری" بذریعہ ڈاک موصول ہوئے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ دونوں مسانید حضرت ابو الحسن کھمس بن حسن بصری، (م:149ھ) اور حضرت ربیع بن صبیح بصری(م: 160ھ) کی مرویات پر مشتمل ہیں۔
ان دونوں شخصیات کا تعلق عراق کے مشہور شہر، بصرہ سے ہے، دونوں بلند پایہ محدثین سے ہیں، اور امام ابوحنیفہ کے معاصرین میں سے ہیں۔ ان دونوں نے بر صغیر میں دین اسلام کی نشر واشاعت میں حصہ لیا، اول الذکر نے محمد بن قاسم ثقفی کی معیت میں سندھ میں راجہ داہر کے دانت کھٹے کیے تو ثانی الذکر نے گجرات کے بھڑوچ کے اطراف میں بھاڑبھوت نامی قلعہ کو فتح کرنے میں نمایاں کار انجام دیا، اور وہیں کہیں مدفون بھی ہیں۔ امام ربیع کو تو بصرہ کے اولین مصنفین میں گنا جاتا ہے۔ ان دونوں کی مرویات کتب احادیث میں جا بجا موجود ہیں۔ ( رحمھم اللہ) ان دونوں مسانید کی جمع وتحقیق کا کام محب محترم، مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی نے کی ہے۔ موصوف کا تعلق ضلع بستی یوپی کے مشہور قصبہ جمدا شاہی سے ہے، علیمیہ جمدا شاہی، پھر کلیۃ الدعوۃ الاسلامیہ، طرابلس، لیبیا کے فارغین سے ہیں، تحقیقی ذہن ومزاج کے مالک ہیں۔ ان دونوں مسانید کی ترتیب وجمع، اور تحقیق وتخریج میں جو انھوں نے محنت شاقہ اُٹھائی ہے، اس کے لیے وہ بجا طور پر شکریے کے مستحق ہیں۔ موصوف نے دونوں محدثین کے حالات، ان کے اساتذہ اور تلامذہ کے احوال بڑے شرح وبسط سے تحریر کیے ہیں، ان کا یہ کام آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ اس دور قحط الرجال میں مولانا توحید طرابلسی جیسے ہیرے بھی ہیں، یہ عجیب بات ہے۔ ورنہ ہم جیسے ناکارہ تو ابھی "بریلوی" جیسے لفظیات میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا موصوف کو صحت و تندرستی وفارغ البالی عطا فرمائے، اور انھیں مزید ایسی دینی خدمات کی توفیق رفیق سے نوازے۔ آمین، بجاہ سید الانبیاء والمرسلین، علیہ وعلی آلہ افضل الصلوات والتسلیم۔ #صادق_مصباحی

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق