الاثنين، 22 يونيو 2026
الأربعاء، 17 يونيو 2026
علم وقلم کا ایک عہد اختتام پزیر
علم وقلم کا ایک عہد اختتام پذیر
---------------------------------
رات کی خاموشی میں موصول ہونے والی ایک افسوس ناک خبر نے دل کو غمگین کر دیا۔ معلوم ہوا کہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے سینئر استاذ، علمی وادبی حلقوں کی ممتاز شخصیت اور ماہ نامہ اشرفیہ کے مدیر حضرت علامہ مولانا محمد مبارک حسین مصباحی صاحب اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔
إنا لله وإنا إليه راجعون
بعض شخصیات اپنی ذمہ داریوں اور خدمات کے سبب محض ایک فرد نہیں رہتیں بلکہ ایک فکر، ایک روایت اور ایک ادارے کی علامت بن جاتی ہیں۔ حضرت مولانا مبارک حسین مصباحی صاحب بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ درس وتدریس، تصنیف وتالیف اور علمی ورثے کی حفاظت وترویج میں صرف کیا۔
جامعہ اشرفیہ کے علمی ماحول سے وابستہ افراد بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت کی ذات علم دوستی، سنجیدگی اور اخلاص کا حسین نمونہ تھی۔ آپ نے نہ صرف طلبہ کی علمی رہنمائی فرمائی بلکہ ان کی فکری واخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی مجلسوں میں علم کی وقعت اور اہلِ علم کا احترام نمایاں نظر آتا تھا۔
ادارت کے میدان میں بھی آپ کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ آپ کی نگرانی میں ماہ نامہ اشرفیہ نے علمی وقار، تحقیقی معیار اور فکری اعتدال کی اپنی روایت کو برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ علم کے درمیان اس رسالے کو اعتماد اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا۔
آج آپ کی رحلت کی خبر نے اہلِ اشرفیہ، تلامذہ، رفقائے کار اور محبین کے دلوں میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔ ایسے اہلِ علم کی جدائی ہمیشہ محسوس کی جاتی ہے، کیوں کہ ان کا وجود صرف حال کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندگان، شاگردوں اور متعلقین کو صبر و استقامت نصیب فرمائے۔آمین
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی، ممبئی
الثلاثاء، 16 يونيو 2026
قاضی مظفر حسنین رومی برکاتی صاحب سے ایک ملاقات انھیں کی زبانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ممبئی کے سفر کا ایک یادگار لمحہ
ممبئی کے سفر میں ایک ایسا یادگار لمحہ نصیب ہوا جو محض چائے کی محفل یا طعام کی دعوت تک محدود نہ تھا، بلکہ علمِ دین، سنیت کے درد سے سرشار مخلص احباب اور اہلِ علم کے ساتھ گزارا گیا وہ قیمتی وقت تھا جس کی یاد مدتوں دل و دماغ کو معطر رکھے گی۔
اسی سفر کے دوران مجھے ممبئی کی مینارہ مسجد میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ وہاں ہمارے کرم فرما محترم مولانا مظہر حسین علیمی صاحب مسجد کے دروازے پر اپنے محبت آمیز لہجے اور خلوص بھری مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کے لیے موجود تھے۔ مولانا علیمی صاحب سے اس سے قبل صرف ٹیلی فون پر گفتگو ہوتی رہی تھی، مگر اس موقع پر رسمِ تعارف کا پردہ اٹھا اور بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جیسا تصور ذہن میں تھا، حقیقت اس سے کہیں بڑھ کر نکلی۔ آپ کو نہایت شریف النفس، خوش اخلاق اور نیک دل انسان پایا۔
مولانا صاحب نے نہایت محبت و خلوص کے ساتھ استقبال فرمایا اور مجھے مولی علی ریسرچ سینٹر لے گئے، جو مینارہ مسجد میں قائم ہے۔ دراصل اسی مرکز کو دیکھنے کی خواہش نے مجھے مینارہ مسجد جانے پر آمادہ کیا تھا۔ اس عظیم علمی و تحقیقی مرکز کے بارے میں فیس بک کے ذریعے بہت کچھ سن چکا تھا، مگر حاضری اور مشاہدے کا موقع پہلی بار نصیب ہوا۔
ماشاء اللہ! یہاں نشر و اشاعت اور تحقیق و تالیف کا نہایت معیاری، منظم اور وقیع کام انجام دیا جا رہا ہے، اور یہ امر باعثِ تعجب بھی نہیں، جب اس مرکز سے وابستہ افراد مخلص ہوں، سنیت کا درد رکھتے ہوں اور دین و مسلک کی خدمت کے لیے بلند عزائم اور دور رس منصوبے رکھتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام نیک ارادوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ آمین۔
مرکز میں میری ملاقات مولانا توحید علیمی طرابلسی صاحب اور انجینئر حافظ بلال اشرفی صاحب سے بھی ہوئی۔ میں کافی دیر وہاں موجود رہا اور مختلف موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ ماشاء اللہ! سبھی حضرات نے بے حد محبت و شفقت کا مظاہرہ فرمایا۔ ان کے علمی و تحقیقی کاموں کو دیکھ کر میرے اندر بھی دینی و علمی خدمات کے لیے ایک نیا جذبہ اور حوصلہ پیدا ہوا۔
دورانِ گفتگو خانوادۂ اشرفیہ، خانقاہِ مارہرہ شریف، حضور سید کمیل اشرف علیہ الرحمہ اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت کا بھی تذکرہ ہوا۔ اسی طرح اہلِ علم کے درمیان ہمارے مرکزِ عقیدت، حضور سراج الفقہاء حضرت مفتی نظام الدین رضوی برکاتی صاحب کا خصوصی ذکر بھی رہا۔ یہ میرے لیے باعثِ سعادت و افتخار تھا۔
اتفاق سے مولانا توحید علیمی صاحب اور حافظ بلال اشرفی صاحب دونوں نوجوان ہیں اور بالخصوص تحقیقی نہج پر کتب کی نشر و اشاعت میں مصروفِ کار ہیں۔ ایسے باہمت نوجوان علما اور خدامِ کتب کے درمیان ہمارے عزیز دوست، عظیم خانوادے کے روشن چراغ، شہیدِ بغداد حضرت اسید الحق قادری علیہ الرحمہ کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن ہی نہ تھا۔
شہیدِ بغداد!
آپ بہت یاد آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے مقبول بندوں کا ذکر کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
گفتگو کا سلسلہ اس قدر دل نشیں تھا کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ مولانا علیمی صاحب اور حافظ بلال اشرفی صاحب نے دوپہر کے طعام کا بھی وہیں اہتمام فرمایا اور بڑی محبت سے خاطر مدارات کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان حضرات سے مل کر ایسا محسوس ہوا کہ ان پر اکابر و اسلاف کی خصوصی عنایت و نظرِ کرم ہے۔ آج کے دور میں بعض اوقات شہرت کے بعد اخلاق و اخلاص میں کمی محسوس کی جاتی ہے، لیکن جب کسی کا رشتہ اپنے اکابر سے مضبوط ہو تو عاجزی، محبت اور خلوص میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ یہ حضرات اپنی پہچان ہی بزرگانِ دین کی نسبت سے کراتے ہیں، اس لیے ان کے اندر اخلاق و اخلاص کی کمی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو سلامت رکھے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں مزید ترقی، استقامت اور کامیابیوں سے نوازے۔ آمین۔
اس نشست میں میری نگاہیں مولانا فاروق ماہیمی صاحب کو بھی تلاش کرتی رہیں، لیکن کسی مصروفیت کے باعث وہ تشریف نہ لا سکے۔ ان سے ملاقات نہ ہو سکنے کی کسک بہرحال دل میں باقی رہی۔
واپسی کے وقت علی ریسرچ سینٹر کی چند کتابیں بھی بطورِ تحفہ عنایت کی گئیں، جو میرے لیے ایک گراں قدر نعمت سے کم نہیں۔ ان شاء اللہ ان کتابوں کا تذکرہ کسی مستقل مضمون میں کروں گا۔
گفتگو سمیٹتے ہوئے اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ ممبئی کے اس سفر میں آج سے قبل جن عمارات، عجائب گھروں اور تاریخی مقامات کی زیارت ہوئی، وہ معلومات میں اضافے اور فکر کی وسعت کا سبب بنے؛ لیکن آج کی یہ علمی نشست، اہلِ علم کی صحبت، کتابوں کا تحفہ اور بزرگانِ دین کا تذکرہ ایسا سرمایہ ہے جو ان شاء اللہ دنیا و آخرت، دونوں میں نافع و مفید ثابت ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی نیک نیتوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔
قاضی مظفر حسنین رومی برکاتی
16/6/2026
الاشتراك في:
الرسائل (Atom)

