الأحد، 26 يوليو 2026
شاعر اسلام شبنم بستوی کا انتقال پر ملال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج صبح آپ کے والدِ گرامی، حضرت حافظ و قاری عبد الرحمن عرف شبنم بستوی رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر پڑھ کر دلی صدمہ پہنچا۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیبِ مکرم ﷺ کے صدقے مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
حضرت سے میری صرف ایک ہی مرتبہ ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت میں دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی کے شعبہ پرائمری کا طالبِ علم تھا۔ رمضان المبارک کی تعطیلات شروع ہونے کے بعد جب میں ممبئی آ رہا تھا تو بستی ریلوے اسٹیشن پر حضرت سے ملاقات ہوئی۔ معلوم ہوا کہ حضرت کا ٹکٹ کنفرم نہ ہونے کی وجہ سے وہ کچھ پریشان تھے۔ میرا ٹکٹ کنفرم تھا اور میں اکیلا سفر کر رہا تھا، چناں چہ حضرت میرے ساتھ بطورِ سرپرست سفر میں شامل ہو گئے، تاکہ میں راستے میں تنہا نہ رہوں۔ اس سفر میں ان کی سادگی، شفقت، محبت، خوش اخلاقی اور اپنائیت نے میرے دل پر ایسا نقش چھوڑا جو آج تک تازہ ہے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ حضرت صرف ہمارے علاقے کے معروف اور ہر دل عزیز شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک باعمل عالمِ دین، بہترین منتظم اور دینی خدمات کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہنے والے عظیم انسان ہیں۔
مدرسہ اہلِ سنت فیض العلوم علیمیہ، ہنومان گنج کے ناظمِ اعلیٰ کی حیثیت سے آپ نے جو خدمات انجام دیں، وہ یقیناً آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کی دینی، علمی، تعلیمی اور ادبی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ہر نیکی کو آپ کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے، آپ کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور جنت الفردوس میں اپنے مقرب بندوں کے ساتھ اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ آپ کو، تمام اہلِ خانہ، متعلقین، احباب اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
استاذ جامعہ غوثیہ نجم العلوم، مرکزی ادارہ سنی دعوت اسلامی، ممبئی
23/ جولائی 2026 مطابق 8 صفر المظفر 1448ھج
الاشتراك في:
تعليقات الرسالة (Atom)

ليست هناك تعليقات:
إرسال تعليق