التسميات

الخميس، 20 يوليو 2023

الأربعاء، 10 مايو 2023

اجازت روایت الأربعین الکیلانیة

پروفیسر ڈاکٹر عبد السمیع انیس استاد جامعہ شارق،امارات نے خادم کو الأربعين الكيلانية کی روایت کی اجازت مرحمت فرمائی ہے،جس کے لیے میں آپ کا سراپا سپاس ہوں۔

الأحد، 26 مارس 2023

نونہالان امت بارگاہ الہی نامی کتاب پر مفتی اعظم ہالینڈ کا تبصرہ

نونہالانِ امت بارگاہ الہی میں نامی کتاب کے اشاعتی اعلان پر مفتی اعظم ہالینڈ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق الرحمن مصباحی عزیز یہ صاحب کا تبصرہ مولانا تًو حيد احمد عليمي صاحب زيدحبه هماري جماعت كے طبقہ علما ء مين ايسے خوش فكر صاحب قلم هين كه مختصر مدت مين درجنون كتابون كو تصنيف وتاليف وترجمه وتحقيق سے جماعت کے وقار کو بلند کیا ہے مجھے بیحد مسرت هے کہ عزيز اسعد بشارت علي صديقي مقيم جده شريف نے اپنے اشاعتی ادارہ سے بھر پور معاونت کی ہے فجزاهم الله ميرا اذعان هے کہ مولانا طرابلسي پہ حضور مبلغ اسلام عليه الرحمه كا فيضان هے اور علیمیہ کی تربیت نے مولانا کو بھت قیمتی بنا دیا ہے رفيق محترم علامه فروغ احمد صاحب اعظمي کے ارشد تلامذه هين علامه اعظمي كي نگہ التفات نے علیمیہ کے فرزندون کو کارآمد بنایا ہے کاش یہ سلسلہ تربیت جاری رھتا اور مبلغ اسلام كے منهج واسلوب پہ تعلیمی ورتربیتی و دعوتی واشاعتی کام آگے بڑھتا مجھے مولانا توحيد عليمي صاحب سے بڑی توقع ہے وہ ضرور مبلغ اسلام كے مشن کو آگے بڑھانے مین ھماری مد د فرمائین گے غبار راه طيبه محمد شفيق الرحمن عزيزي مصباحي یی

الأربعاء، 22 مارس 2023

نونہالان امت بارگاہ الہی میں

:::: نونہالان امت بارگاہ الہی میں :::: امت مسلمہ کے لیے رواں صدی پچھلے صدیوں سے زیادہ چیلنجز لے کر آئی ہے۔ اسی میں نونہالان و نوجوانان امت کا مساجد سے دور رہنا بھی ہے۔ ایک بڑی تعداد دین اسلام اور اس کے مرکزی سیکرٹریٹ یعنی مساجد سے دور نظر آتی ہے۔ وجوہات کیا کیا ہوسکتے ہیں؟ اس پر ہم اپنی اپنی آراء وقتا فوقتا پیش کرتے ہی رہتے ہیں۔ اس مسئلہ کا حل کیا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہم سوچتے رہتے ہیں۔ یہ بھی ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارا دعوتی انداز حالات زمانہ کے پیش نظر مؤثر ہے بھی یا نہیں؟ کیا اس میں تبدیلی لانے یا اسے اپڈیٹ کرنے کی ضرورت تو نہیں ہے؟ "نونہالان امت بارگاہ الہی میں" ایک ایسی کتاب ہے جس میں چالیس احادیث کی روشنی میں نوخیز بچوں کو مساجد میں لانے اور اس سے جوڑنے پر علمی و دعوتی انداز سے ترغیب دلائی گئی ہے۔ نونہالان امت کو مساجد اور دینی مراکز سے جوڑنا کتنا اہم کام ہے، ہم سب کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کی ضرورت ہے۔ کتاب کے شروع میں ایک جامع مقدمہ ہے، جس میں اس عمل کے سارے اہم پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ کتاب کا مختصر تعارف تو آپ کو پیش کردیا ہے۔ کتاب کتنی اہم اور مؤثر ہے، یہ آپ خود اسے حاصل کرکے جاننے کی کوشش کریں۔ اب صاحب کتاب کا مختصر تعارف پیش ہے: اس "اربعین" کے مرتب، ہمارے محب گرامی علامہ مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب ہیں، ہمارے پرانے کتابی ساتھی اور دوست ہیں، کئی علمی و تحقیقی کاموں میں معاون ہوتے ہیں۔ جامعہ علیمیہ(جمدا شاہی، انڈیا) میں فیضان مبلغ اسلام عبد العلیم میرٹھی علیہ الرحمہ سے مالا مال ہونے کے بعد طرابلس، لیبیا پہنچے اور وہاں سے "كلية الدعوة الإسلامية" سے فراغت حاصل کی۔ موجودہ مسائل و چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ان کی آراء ہم سب سے مختلف ہوتی ہیں، جسے میں بھی مؤثر جانتا اور سراہتا ہوں۔ "نونہالان امت بارگاہ الہی میں" ان کی دسویں اربعین ہے، اس سے قبل آپ کی جمع کردہ اربعین "تدبر قرآن" اور "راستوں کے حقوق" ہم شائع کرچکے ہیں جبکہ باقی اربعینات بھی اسی سال ان شاءاللہ تعالی منظر عام پر آجائیں گی۔ اربعینات کے جمع و ترتیب پر ہم نے ۵ سال قبل باقاعدہ پروجیکٹ شروع کرکے اپنے متعلقین علما کو وقتا فوقتا اس طرف راغب کرنا شروع کیا تھا۔ تب سے لے کر اب تک جن شخصیات نے ہمارا بھرپور تعاون فرماتے ہوئے نئے نئے عنوانات پر اربعین تیار کیے ہیں، ان میں محب گرامی توحید صاحب کئی لحاظ سے منفرد ہیں۔ عنوانات کے انتخاب سے لے کر روایات کی جمع و ترتیب سب نرالے ہوتے ہیں۔ ہر اربعین پر خود ایک جامع مقدمہ لکھتے ہیں، ذیلی عنوانات و ابواب قائم کرتے ہیں، ہر حدیث کی تفصیلی تخریج کرتے ہیں، ضرورت پڑنے پر روایات کی عمدہ تشریح بھی پیش کرتے ہیں، پھر کتاب کو ممکنہ طور پر سیٹ بھی کردیتے ہیں جس سے ہمارے لیے کافی سہولت ہوجاتی ہے۔ حسن ترتیب میں یہ اربعیانات اپنی مثال رکھتی ہیں۔ علما اور مشائخ میں کافی پسند کی جاتی ہیں۔ ہر کسی کو یہی انداز اپنانے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن اور مولانا توحید علیمی صاحب قبلہ کی یہ پیش کش بھی سابقہ اربعینات کی طرح عوام کے لیے نفع بخش بناے اور اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین! بشارت علی صدیقی اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن حیدرآباد دکن

الخميس، 1 ديسمبر 2022

کلمات شکر وامتنان

کلمات شکر وامتنان استاذ الاساتذہ شیخ المشائخ حضرت مولانا فروغ احمد اعظمی صاحب سے تقریباً ایک دہائی شرف تلمذ حاصل رہا ہے، جس میں پہلی فارسی سے لے کر مسلم شریف تک آپ کی زبان فیض ترجمان سے پڑھنے کی سعادت میسر آئی۔ آپ کو ہمیشہ ایک مشفق استاذ اور طلبہ کا خیر خواہ خاص کر ان کی تعلیم وتربیت سے متعلق متفکر پایا، جب بھی علیمیہ کی تاریخ قلم بند کی جائے گی آپ کی خدمات سنہری حروف میں لکھی جائے گی اور مورخ کو آپ کی ذات ستودہ صفات پر لکھنے کے لیے ایک ضخیم دفتر درکار ہوگا۔ یہ آپ کی بزرگانہ شفقت ہے کہ آپ نے خادم کو فراغت کے سال تحریری اجازت روایت حدیث کی سند عنایت فرمائی تھی اور اب اجازت علوم کے ساتھ اس اجازتی وثیقہ کو دوبارہ مرحمت فرما رہے ہیں، جس کے لیے میں آپ کا صمیم قلب سے شکر گزار ہوں۔ مولی کریم سے دعا ہے کہ آپ کو صحت وعافیت عطا فرمائے اور ناعاقبت اندیشوں کے حسد اور ان کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور آپ کا درسی، علمی اور روحانی فیض عام تشنگان پر جاری وساری رکھے، آمین یارب العالمین۔ ابو الفواد توحید احمد طرابلسی ساکن- جمدا شاہی، بستی، یوپی