التسميات

الجمعة، 5 نوفمبر 2021

نبأ وفاة الشيخ مير محمد طاهر أحد أعمدة التصوف في شبه القارة الهندية

نبأ وفاة الشيخ مير محمد طاهر أحد أعمدة التصوف في شبه القارة الهندية تلقينا ببالغ الحزن والأسى وبقلوب مؤمنة بالله -عز وجل- وراضية بقضائه وقدره نبأ وفاة العالم الجليل، والداعي الكبير، وأحد أعمدة التصوف في شبه قارة الهندية الشيخ مير محمد طاهر ميان، المعروف ب"طاهر ملت"؛ أحد سادات بلجرام، عن عمر يناهز سبعة وسبعين عاما -قَدَّس الله روحه-. كان الشيخ من مواليد ١٩٤٤م، ولد في بيت علم وفضل في مدينة بلجرام الشهيرة، ودرس على علماءها، خاصة تلمذ على يد أبيه، فنهل منه العلوم الدينية، وحفظ القرآن الكريم على يده، ونال به التصوف الإسلامي حتى اشتهر بعلمه الغزير، وأخلاقه الكريم، وحسن الكلام في مسائل الخلاف، فكان خير خلف لخير سلف. ولما توفي أبوه فوضت مشيخته الصوفية إليه، فجلس فيها لإرشاد المريدين والسالكين، ووقايتهم من الزلل والزيغ، فحصل له القبول عند الناس، وجعل طلاب التصوف الإسلامي يرحلون إليه، وينتفعون به حتى وافته المنية في ١٧/أغسطس ٢٠٢١م. لعمرك ما الرزية فقدُ مالٍ ولا شاة تموت ولا بعير ولكن الرزية فقدُ قَرمٍ يموت بموته علمٌ غزير أقاموا بظهرِ الأرضِ فاخضرَّ عُودُها وصاروا ببطنِ الأرضِ فاستوحشََ الظَّهرُ أبو الفؤاد توحيد أحمد الطرابلسي جمدا شاهي، بستي، الهند

الثلاثاء، 2 نوفمبر 2021

اربعین حق طریق پر حضرت مولانا بلال احمد نظامی مندسوری صاحب کا تبصرہ

اربعین حق طریق بلال احمد نظامی مندسوری، رتلام تحریک علمائے مالوہ ________________ اسلام نے سماجی، معاشرتی اور عائلی زندگی کو کام یاب وخوش گوار بنانے کے لیے بہت سے نسخہائے کیمیا عطا فرمائے ہیں، جن کےذریعے زندگی کےتمام لوازامات کو حسن وخوبی کےساتھ پورا کر کےخوش گوار بنایا جاسکتا ہے، اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے، جس نےاہل ایمان کو مکمل ضابطہٕ حیات ونظام حیات عطا فرمایا ہے، غیر اہم وغیر ضروری سمجھی جانے والی باتوں کو بھی خصوصی اہمیت وحقوق دے کر ایک بہترین معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ عمومی طور پر لوگ راستوں کے حقوق ولوازمات سے چشم پوشی کر کے اسے غیر اہم وغیر ضروری خانے میں ڈال دیتے ہیں، حالانکہ موجودہ ترقی یافتہ دور میں راستوں کی آرائش وزیبائش نیز اہتمام وانصرام پر خصوصی توجہ کی جا رہی ہے۔ چنان چہ مسلم علاقوں کے تعلق سے یہ عام رجحان پایا جاتا ہے کہ یہ علاقے گندے، صفائی ستھرائی کے نظام سے دور، تنگ راستے اور تنگ گلیوں پر مشتمل ہوتے ہیں، تنگ گلیوں، تنگ راستے، گندگی اور کوڑا کرکٹ وکچرا دیکھ کر دور سے ہی یہ اندازہ لگا لیا جاتا ہے کہ یہ مسلم علاقہ ہے۔ جس طرح مسلمانوں نے دیگر شعبہائے زندگی میں تعلیمات اسلام سے روگردانی کی ہے، اسی طرح صفائی ستھرائی، راستوں کو کشادہ رکھنے، صاف سھترا رکھنے، تکلیف دہ چیز کو ہٹانے والی تعلیمات سے بھی روگردانی کی ہے، ضرورت اس امر کی تھی راستے کے تعلق سے تعلیمات اسلام واحادیث رسول ﷺ کو یک جا کر کے جدید رنگ وآہنگ میں شائع کیا جائے، تاکہ اپنوں کے ساتھ غیر بھی تعلیمات اسلام سے متاثر ہو کر اس کے دامن میں پناہ لے سکیں، اور اپنے اصلاح احوال کی کوشش کرسکیں، اس ضرورت کا احساس کرتے ہوئے نوجوان محقق، وعالم دین، فاضل لیبیا حضرت مولانا ابو الفواد توحید احمد علیمی طرابلسی زید مجدہ نے "اربعین حق طریق" معروف بہ "راستوں کےحقوق اسلامی تعلیمات کی روشنی میں" تحریر فرما کر ایک اہم ضرورت کو پورا فرمایا ہے۔ اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام یہ کتاب طبع ہوئی ہے، 96 صفحات پر مشتمل یہ اربعین موضوع اور عنوان کی مناسبت سے ایک منفرد کتاب ہے، مصنف موصوف نے اس کتاب میں گفتنی کے عنوان سے راستوں کے حقوق، جدید مسائل، ٹرافک کے معاملات، راہ روی کےآداب، گاڑی چلانے کے آداب، عوام کی ذمہ داریاں، حکمراں کی ذمہ داریاں بیان کی ہیں۔بعد ازاں ترتیب وار راستےکے حقوق،احکام،عید اور وعید پر مشتمل چہل حدیث تحریر فرمائی۔ راستےکےحقوق نیز صفائی وستھرائی کےاحکام پر مشتمل یہ بیش بہا خزانہ مصنف موصوف کی محنتوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہے، موصوف نے تمام احادیث کی بتقاضائے زمانہ تحقیق وتخریج بھی فرمائی ہے۔ موصوف نہایت سادہ طبیعت کےمالک ہیں، منکسر المزاجی غالب ہے، خوش طبع وخوش اخلاق ہیں، برق رفتاری سے اپنے قلمی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں، آپ کی نوک قلم سے متعدد رسائل وکتب طبع ہو کر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئےاور آنکھوں کےذریعہ راحت قلب وجگر کاسامان بنے۔ مصنف موصوف اور ناشر بجا طور پر شکریہ اور داد وتحسین کے مستحق ہیں کہ انھوں نے دماغ سوزی وجگر سوزی کر کے اس قدر اہم موضوع پر قلم اٹھایا۔ اس عنوان پر ہندی ودیگر زبانوں میں بھی کام کی اشد ضرورت ہے۔ اس دور میں راستوں کےحقوق،صفائی ستھرائی،پاکیزگی تعلیمات اسلام کی روشنی میں ہمارا موضوع سخن ہوناچاہیے تاکہ امت میں بیداری آئے اور ہمارا حال ہمارےقال وتعلیمات کےمطابق ہوجائے۔ اللہ کریم! مصنف اور ناشر دونوں حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین! 25/10/2021

الاثنين، 11 أكتوبر 2021

اسلام میں علم کی اہمیت وافادیت

*اسلام میں علم کی اہمیت وافادیت* کاتب..................... أبو الفؤاد توحيد احمد طرابلسی ...........★★★............. حديث شریف: حضرت ابو ہرﻳﺮﺓ- ﺭضی ﺍﻟﻠﻪ تعالی ﻋﻨﻪ -فرماتے ہیں کہ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ- ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ تعالی ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ -نے ارشاد فرمایا : )) ﻣَﻦْ ﺗَﻌَﻠَّﻢَ ﻋِﻠْﻤًﺎ ﻣِﻤَّﺎ ﻳُﺒْﺘَﻐٰﯽ ﺑِﻪِ ﻭَﺟْﻪُ ﺍﷲِ، ﻟَﺎ ﻳَﺘَﻌَﻠَّﻤُﻪُ ﺇِﻻَّ ﻟِﻴُﺼِﻴْﺐَ ﺑِﻪِ ﻋَﺮَﺿًﺎ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺪُّﻧْﻴَﺎ ,ﻟَﻢْ ﻳَﺠِﺪْ ﻋَﺮْﻑَ ﺍﻟْﺠَﻨَّﺔِ ﻳَﻮْﻡَ ﺍﻟْﻘِﻴَﺎﻣَﺔ .(( )مسند امام احمد بن حنبل :2/338 ,حديث نمبر :8438 ,سنن اﺑﻮ ﺩﺍﻭﺩ ﻓﻲ ﺍﻟﺴﻨﻦ ,ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻌﻠﻢ ,ﺑﺎﺏ ﻓﻲ ﻃﻠﺐ ﺍﻟﻌﻠﻢ ﻟﻐﻴﺮ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽ :3/323 ,حديث نمبر : 3664 ، سنن ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﻪ ,ﺍﻟﻤﻘﺪﻣﺔ ,ﺑﺎﺏ ﺍﻻﻧﺘﻘﺎﻉ ﺑﺎﻟﻌﻠﻢ ﻭﺍﻟﻌﻤﻞ ﺑﻪ :1/92 , حديث نمبر :252 .( "ﺟﺲ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ الله عزوجل ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ، مگر ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻋﻠﻢ ﺩﻧﯿﺎ کا ﻣﺎﻝ کمانے ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ، ﺍﯾﺴﺎ ﺷﺨﺺ روز ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ سے محروم ہوگا-" *اس حديث سے مستفاد اہم نکات:* ★اس حديث میں" عرض "کا لفظ ایا ہے",عرض" کو اگر راء کے زبر سے پڑھا جائے تو اس کا معنی دنیاوی مال ومتاع ہوتا ہے ,جس سے نیک وبد سبھی استفادہ کرتے ہیں ,جب کہ راء کو سکون سے پڑھنے کی صورت میں روپیہ پیسہ کے علاوہ دوسرے مال ومتاع مقصود ہوتے ہیں ",عرض "اس لیے کہا جاتا کیونکہ وہ" ﺯﺍﺋﻞ ﻏﻴﺮ ﺑﺎﻕ "ہوتا ہے- اللہ تعالی نے دنیا کی خواہش سے منع فرمایا ہے اور اس کی مذمت کی ہے ,ﻓﺮﻣﺎﻥِ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ }:ﻗُﻞْ ﻣَﺘَﺎﻉُ ﺍﻟﺪُّﻧْﻴَﺎ ﻗَﻠِﻴﻞٌ ﻭَﺍﻟْﺂﺧِﺮَﺓُ ﺧَﻴْﺮٌ ﻟِّﻤَﻦِ ﺍﺗَّﻘَﻰٰ.{ اہل ایمان کو جگہ جگہ فکر اخرت کی ترغيب دلائی گئی ہے } ,ﻭَﻣَﻦْ ﺃَﺭَﺍﺩَ ﺍﻵَﺧِﺮَﺓَ ﻭَﺳَﻌَﻰ ﻟَﻬَﺎ ﺳَﻌْﻴَﻬَﺎ ﻭَﻫُﻮَ ﻣُﺆْﻣِﻦٌ ﻓَﺄُﻭﻟَﺌِﻚَ ﻛَﺎﻥَ ﺳَﻌْﻴُﻬُﻢْ ﻣَﺸْﻜُﻮﺭًﺍ.{ ★اس حديث میں" عرف الجنة "کا لفظ ہے, جس کا معنی" جنت کی خوشبو "ہوتا ہے, حضرت امام احمد بن حنبل نے اپنی روایت میں اس لفظ کی تشریح کی ہے ,فرماتے ہیں " :ﻗَﺎﻝَ ﺳُﺮَﻳْﺞٌ ﻓِﻲ ﺣَﺪِﻳﺜِﻪِ : ﻳَﻌْﻨِﻲ ﺭِﻳﺤَﻬَﺎ ." ★اپ علیه الصلاة والسلام نے کسی خاص علم کی قید نہیں فرمائی ,مسلمان کو چاہیے کہ ہر علم کی حصوليابی کے لیے سعی کرے ,اور انسانیت کو فائدہ پہونچائے , جس کا ان شاء الله تعالی اسے عظيم اجر ملے گا ,کیونکہ یہ باب احسان سے ہے ,الله تعالی ارشاد فرماتا ہے : }ان الله لا يضيع اجر المحسنين.{ "ﯾﻘﯿﻨﺎ اللہ تعالی احسان کرنے والوں ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ہے"- ★خلوص نیت سے علم کا حصول کرے ,ہر عمل کی یہ پہلی سیڑھی ہے ,اسی پہ سارے اعمال کا دارومدار ہے ,ہمیشہ رضائے مولی کو پیش نظر رکھے- ★ جس علم کو رضاے الہی کے لیے حاصل کیا ہے اسے کمائی کا ذريعہ نہ بنائے ,ہمیشہ علم کی پاکیزگی کو برقرار رکھے - ★ وہ علم جسے للہیت کے لیے حاصل کیا جاتا ہے اسے ذريعہ معاش یا حصول دنیا کا وسیلہ بنانے والا روز قیامت جنت کی خوشبو سے محروم ہوگا- ★جنتی خوشبو کئی سال مسافت کی دوری سے سونگھی جا سکتی ہے صحابہ کرام رضوان الله تعالی اجمعین نے کئی احاديث روایت کی ہے جس میں مختلف مسافت کا ذكر ہے چانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : "ﻭﺇﻥ ﺭﻳﺤﻬﺎ ﻟﻴﻮﺟﺪ ﻣﻦ ﻣﺴﻴﺮﺓ ﺳﺒﻌﻴﻦ ﺧﺮﻳﻔﺎ ." "یقینا جنت کی خوشبو ستر سال کی دوری سے محسوس کی جاتی ہے-" امام طبرانی نے" المعجم ﺍﻷﻭﺳﻂ "میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے کہ: "ﻣﻦ ﻣﺴﻴﺮﺓ ﻣﺎﺋﺔ ﻋﺎﻡ " "سو سال کی مسافت سے" اور حضرت ابو بکرہ سے امام طبرانی نے جو روایت کی ہے اس میں پانچ سو سال ہے" ,موطا "کی ایک حديث میں بھی پانچ سو سال کا قول مذكور ہوا ہے ,اس حديث کے مطابق: "ﺇﻥ ﺭﻳﺤﻬﺎ ﻳﻮﺟﺪ ﻣﻦ ﻣﺴﻴﺮﺓ ﺧﻤﺴﻤﺎﺋﺔ ﻋﺎﻡ." "ﺍلمعجم الصغير "اور" مسند ﺍﻟﻔﺮﺩﻭﺱ "میں ایک ہزار سال کا قول بھی ایا ہے, " ﺇﻥ ﺭﻳﺢ ﺍﻟﺠﻨﺔ ﻳﺪﺭﻙ ﻣﻦ ﻣﺴﻴﺮﺓ ﺃﻟﻒ ﻋﺎﻡ ." بعد مسافت کا اختلاف اعمال صالحہ کی وجہ سے ہے ,وہ نفوس قدسیہ جن کے درجات بلند ہیں ,وہ ہزار سال کی دور سے ہی اس کا ادراک کر لیں گے - شیخ ابن عربی فرماتے ہیں : "ﺭﻳﺢ ﺍﻟﺠﻨﺔ ﻻ ﻳﺪﺭﻙ ﺑﻄﺒﻴﻌﺔ ,ﻭﻻ ﻋﺎﺩﺓ, ﻭﺇﻧﻤﺎ ﻳﺪﺭﻙ ﺑﻤﺎ ﻳﺨﻠﻖ ﺍﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﺇﺩﺭﺍﻛﻪ, ﻓﺘﺎﺭﺓ ﻳﺪﺭﻛﻪ ﻣﻦ ﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﻪ ﻣﻦ ﻣﺴﻴﺮﺓ ﺳﺒﻌﻴﻦ ,ﻭﺗﺎﺭﺓ ﻣﻦ ﻣﺴﻴﺮﺓ ﺧﻤﺴﻤﺎﺋﺔ . چانچہ جنت کی خوشبو کو خواص دنیا میں ہی محسوس کر لتیے ہیں اور نیک لوگوں کو روح کے قفس عنصری سے نکلتے ہی اس کی خوشخبری دے دی جاتی ہے ,نیکوں کی روحوں سے کہا جاتا ہے " :ﺍﺧْﺮُﺟِﻲ ﺣَﻤِﻴﺪَﺓً، ﻭَﺃَﺑْﺸِﺮِﻱ ﺑِﺮَﻭْﺡٍ، ﻭَﺭَﻳْﺤَﺎﻥٍ، ﻭَﺭَﺏٍّ ﻏَﻴْﺮِ ﻏَﻀْﺒَﺎﻥ." سوال قبر کے بعد نیکوں کو جو نیگ ملتا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ" : ﻭَﺍﻓْﺘَﺤُﻮﺍ ﻟَﻪُ ﺑَﺎﺑًﺎ ﺇِﻟَﻰ ﺍﻟْﺠَﻨَّﺔِ . ﻗَﺎﻝَ : ﻓَﻴَﺄْﺗِﻴﻪِ ﻣِﻦْ ﺭَﻭْﺣِﻬَﺎ، ﻭَﻃِﻴﺒِﻬَﺎ ‏." ★جنت کی خوشبو جس کی بشارت قران وحديث میں ہے اس سے مبینہ شحص کے علاوہ کئی دوسرے لوگ بھی محروم رہیں گے ,جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے: *معاہد کا قاتل)* :ﻣَﻦْ ﻗَﺘَﻞَ ﻣُﻌَﺎﻫَﺪًﺍ ﻟَﻢْ ﻳَﺮَﺡْ ﺭَﺍﺋِﺤَﺔَ ﺍﻟﺠَﻨَّﺔِ.(رﻭﺍﻩ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﻱ . "ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ معاہد ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ، ﻭﮦ ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ"- *نسب بدلنے والا* ):ﻣَﻦِ ﺍﺩَّﻋَﻰ ﺇِﻟَﻰ ﻏَﻴْﺮِ ﺃَﺑِﻴﻪِ ﻟَﻢْ ﻳَﺮَﺡْ ﺭِﻳﺢَ ﺍﻟْﺠَﻨَّﺔِ.( رﻭﺍﻩ ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﻪ . "ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐﯿﺎ وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا-" *نصیحت نہ کرنے والا حاكم* ):ﻣَﺎ ﻣِﻦْ ﻋَﺒْﺪٍ ﺍﺳْﺘَﺮْﻋَﺎﻩُ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﺭَﻋِﻴَّﺔً، ﻓَﻠَﻢْ ﻳَﺤُﻄْﻬَﺎ ﺑِﻨَﺼِﻴﺤَﺔٍ، ﺇِﻟَّﺎ ﻟَﻢْ ﻳَﺠِﺪْ ﺭَﺍﺋِﺤَﺔَ ﺍﻟﺠَﻨَّﺔِ.(ﺭﻭﺍﻩ ﺍﻟﺸﻴﺨﺎﻥ . "ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺟﺲ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﯽ ﻣﺎ تحت رعیت کر ﺩﮮ ,ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮨﯽ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ,ﻭﮦ ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ-" *کالا خضاب استعمال کرنے والا)* : ﻳَﻜُﻮﻥُ ﻗَﻮْﻡٌ ﻓِﻲ ﺁﺧِﺮِ ﺍﻟﺰَّﻣَﺎﻥ,ِ ﻳَﺨْﻀِﺒُﻮﻥَ ﺑِﻬَﺬَﺍ ﺍﻟﺴَّﻮَﺍﺩِ ﻛَﺤَﻮَﺍﺻِﻞِ ﺍﻟْﺤَﻤَﺎﻡ,ِ ﻟَﺎ ﻳَﺠِﺪُﻭﻥَ ﺭَﺍﺋِﺤَﺔَ ﺍﻟْﺠَﻨَّﺔِ ‏.(رواہ ابو داود. "ﺁﺧﺮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻗﻮﻡ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﻮ ﮐﺒﻮﺗﺮ ﮐﮯ ﭘﻮﭨﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﻻ ﺧﻀﺎﺏ ﻟﮕﺎﺗﯽ ﮨﻮﮔﯽ ، ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺟﻨّﺖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ-" *بلا سبب طلاق کا مطالبہ کرنے والی عورت* * ):ﺃَﻳُّﻤَﺎ ﺍﻣْﺮَﺃَﺓٍ ﺳَﺄَﻟَﺖْ ﺯَﻭْﺟَﻬَﺎ ﺍﻟﻄَّﻠَﺎﻕَ ﻣِﻦْ ﻏَﻴْﺮِ ﺑَﺄْﺱٍ ﻓَﺤَﺮَﺍﻡٌ ﻋَﻠَﻴْﻬَﺎ ﺭَﺍﺋِﺤَﺔُ ﺍﻟْﺠَﻨَّﺔِ.(ﺭﻭﺍﻩ ﺃﺣﻤﺪ . "ﺟﻮ ﻋﻮﺭﺕ بلا ﺳﺒﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ,ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ-" *والدین کا عاق کیا ہوا اور صلہ رحمی نہ کرنے والا* ):ﻭَﺍﻟﻠَّﻪِ ﻻ ﻳَﺠِﺪُ ﺭِﻳﺤَﻬَﺎ ﻋَﺎﻕٌّ ، ﻭَﻻ ﻗَﺎﻃِﻊُ ﺭَﺣِﻢٍ .( ﺻﻔﺔ ﺍﻟﺠﻨﺔ ﻷﺑﻲ ﻧﻌﻴﻢ.

السبت، 25 سبتمبر 2021

کتب قیمتی تحائف

 کتب قیمتی تحائف!

محب گرامی وقار حضرت مولانا توحید احمد طرابلسی زید علمہ کی کاوش کے بعض علمی تحائف باصرہ نواز ہوئے.

آپ موجودہ دور کے ان نوجوان علما میں سے ہیں جو تحریری کام سے کافی شغف رکھتے ہیں, جس کی بنیاد پر آپ کی متعدد کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور خاص بات یہ ہوتی ہے کہ آپ کی کتب جدید موضوعات پر مشتمل ہوتی ہیں.

آپ کا ایک بہت بڑا کام یہ بھی ہے کہ آپ نے مسند کھمس کی تحقیق و تخریج مکمل کردی ہے, ان شاء اللہ عن قریب اس کی بھی اشاعت ہوگی, ویسے تو سبھی کاوش عمدہ ہیں مگر عربی کتاب مسند کھمس پر آپ کا کام ہماری اور ہم جیسے نہ جانے کتنے لوگوں کی آواز ہے, یہ آواز یک جا ہوگی تو ان شاء اللہ آج نہیں تو کل اپنا اثر ضرور دکھائے گی.

اللہ تعالی موصوف کو دارین کی سعادتوں سے سرفراز کرے, بازو و حوصلے میں قوت دے اور مزید خلوص کے ساتھ دینی و ملی کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے, آمین.

اااازہری



الخميس، 26 أغسطس 2021

ذم الکذب وأھله کا پہلا سلیس اردو ترجمہ بنام "کذب بیانی کی قباحتیں" زیر طباعت

امام ابن ابی الدنیا علیہ الرحمہ کی کتاب "ذم الکذب وأھله" کا پہلا سلیس اردو ترجمہ بنام "کذب بیانی کی قباحتیں" ان شاءاللہ تعالی بہت جلد منظر عام پر آرہی ہے۔

کذب بیانی کی قباحتوں اور آفتوں پر یہ کتاب بے نظیر ہے۔ قرآنی آیات، احادیث رسولﷺ اور آثار صحابہ و تابعین اور حکایات اسلاف سے بھری یہ کتاب یقینا اصلاح معاشرے 

کی غرض سے بے حد ضروری ہے۔ اپنے موضوع پر لکھی گئی کتابوں میں اس کتاب کو اولیت بھی حاصل ہے۔ 

کتاب کا خوبصورت ترجمہ ہمارے محترم عزیز حضرت مولانا بلال احمد نظامی مندسوری، رتلام، مالوہ، مدھیہ پردیش نے کیا ہے اور نظر ثانی حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب نے کی ہے، جب کہ کتاب پر تقریظ حضرت مولانا عطاء النبی مصباحی حسینی مصباحی

صاحب نے لکھی ہے۔





 

الثلاثاء، 17 أغسطس 2021

الأحد، 18 يوليو 2021

مسند كهمس بن الحسن البصري القيسي پر مولانا محمد اختر رضا مصباحی کا تبصرہ

  جب مسند كهمس بن الحسن البصري القيسي کافیس بک پ

اشاعتی اعلان ہوا، اس وقت حضرت


مولانا محمد اختر رضا مصباحی رحمہ اللہ تعالی مترجم الدرة المضيئة في الزيارة المصطفوية الرضية بنام زیارت روضہ مصطفی نے اپنے ان کلمات کے ذریعے حوصلہ افزائی فرمائی، مولی کریم مولانا کو اپنے جوار رحمت میں اعلی سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین