الأحد، 14 سبتمبر 2025
الثلاثاء، 26 أغسطس 2025
نیپال اردو ٹائمز ایک سال کا تجزیاتی جائزہ
اردو صحافت کی تاریخ میں یہ حقیقت ہمیشہ روشن رہی ہے کہ جب بھی خلوص، محنت اور جذبہ شامل ہو تو محدود وسائل کے باوجود بڑے کام انجام پاتے ہیں۔ اسی حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہے، "نیپال اردو ٹائمز"، جس نے اپنے قیام کے صرف ایک سال کے اندر قارئین اور اہلِ فکر کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔
گزشتہ برس ربیع الاول شریف کی متبرک ساعتوں میں یہ اخبار منظر عام پر آیا۔ ابتدا میں اسے محض ایک نیا تجربہ سمجھا جا رہا تھا، لیکن ایک سال کے اندر اس نے اپنی صحافتی دیانت داری، بروقت اشاعت اور معیاری مواد کے ذریعے یہ ثابت کردیا کہ یہ ایک عارضی کوشش نہیں ہے، بلکہ ایک پائیدار مشن ہے۔
"نیپال اردو ٹائمز" نے اپنی مختصر عمر میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، پانچ خصوصی نمبرات کی اشاعت، ہفتہ وار پابندی کے ساتھ بروقت ریلیز، مثبت اور تعمیری مواد کی فراہمی یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ اخبار نہ صرف جدوجہد کر رہا ہے، بلکہ معیار کو بھی ترجیح دے رہا ہے۔
اس کامیابی کے پس منظر میں ایک متحرک اور سنجیدہ ٹیم ہے۔ محترم ایڈیٹر حضرت مولانا عبدالجبار علیمیؔ نظامی صاحب کی سربراہی میں یہ قافلہ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں ان کے شانہ بشانہ حضرت مفتی محمد رضا مصباحی صاحب، حضرت سید غلام حسین مظہری صاحب (مرکزی صدر علماء فاؤنڈیشن نیپال)، حضرت مولانا نور محمد خالد مصباحی صاحب، حضرت مولانا کلام الدین نعمانی مصباحی صاحب (نائب ایڈیٹر)، حضرت مولانا محمد حسن سراقہ رضوی صاحب (معاون ایڈیٹر) اور تمام نامہ نگار وکالم نگار حضرات شامل ہیں۔ انہی سب کی محنت، رہنمائی اور فکری صلاحیتوں نے اس اخبار کو وہ وقار بخشا ہے، جو آج اسے حاصل ہے۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نیپال میں اردو زبان کے فروغ کے لیے مواقع محدود ہیں، لیکن "نیپال اردو ٹائمز" نے اس کمی کو اپنی لگن اور صحافتی عزم سے پورا کیا۔ اس نے نہ صرف اردو داں طبقے کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا، بلکہ نئی نسل کو بھی اردو زبان وادب سے جوڑنے کی ایک کوشش کی ہے۔
پہلی سالگرہ اس اخبار کے لیے ایک خوشی کا موقع ضرور ہے، مگر ساتھ ہی ایک نئے سفر کا آغاز بھی ہے۔ ان شاء اللہ "نیپال اردو ٹائمز" آئندہ برسوں میں مزید ترقی کی منازل طے کرے گا اور اپنی صحافتی دیانت اور اردو زبان کی خدمت کے ذریعے ایک اور مضبوط پہچان قائم کرے گا۔
دعا گو ودعا جو
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
استاذ: جامعہ غوثیہ نجم العلوم، مرکزی ادارہ سنی دعوت اسلامی، ممبئی
یکم ربیع الاول 1447ھ مطابق 25 اگست 2025ء
الجمعة، 28 فبراير 2025
مولانا عبد الرشید مصباحی صاحب کا شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ پر تبصرہ
کل شام سنی دعوت اسلامی کے مرکزی ادارہ جامعہ غوثیہ نجم العلوم بھنڈی بازار ممبئ جانا ہوا جہاں محب مکرم رفیق محترم مبلغ سنی دعوت اسلامی حضرت علامہ مظہر حسین علیمی صاحب ادام اللہ فیوضہ وبرکاتہ سےایک ملاقات منصوبہ بند تھی۔
جہاں اتفاقیہ " صاحب تصانیف کثیرہ عصر حاضر میں ابھرتے ہوئے قلمکار ، ادیب شہیر حضرت علامہ ابوالفواد توحید احمد علیمی طرابلسی استاذ جامعہ غوثیہ نجم العلوم SDI " سے بھی ملاقات ہوگئی جنھیں دیکھ کر فرحت وانبساط سے دل لبریز ہوگیا کیوں کہ موصوف تحریر و تصنیف وتحقیق وتفتیش سے غیر معمولی شغف رکھتے ہیں اورنادر عنوانات پرتحریری طبع آزمائ کرنا ان کے خواص میں سے ہے جس کی بنیاد پرایسی شخصیت سے ملاقات کا شرف پانااور اپنی ناکارگی کے باوجود حوصلہ افزاء کلمات سے نوازا جانایقیناہم جیسوں کے لئے تو قابل رشک ہے ہی ۔ وقت رخصت میرے دونوں کرم فرماؤں نے جامعہ کے شعبہ جات ، لائبریری ، تعلیمی معیار ، تحریکی سرگرمیوں نیز مستقبل کے عزائم سے روشناس کرایا اور موصوف طرابلسی صاحب کی حالیہ معرض وجود میں آئ مقبول تصنیف " نوح علیہ السّلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ "
ساتھ ہی " علامہ کمیل اشرف صاحب قبلہ کے خطبات کا مجموعہ بزبان انگریزی" بطور ہدیہ پیش کیا ۔ جس میں سے اول الذکر جو کہ موضوع کے لحاظ سے نہایت ہی نادراور دلکش ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کی سیرت طیبہ اور ان کے مبلغانہ ومجاہدانہ کردار کو واضح کرنے والی ہے کاآج سرسری نظر سے مطالعہ کاموقعہ ملا ، اسلوب و انداز ، طرز تحریر ، دلائل و براہین مآخذ ومصادر کا ذکر ، حوالہ جات کا التزام دیکھ کر مصنف کے فنی ذوق و علمی گیرائی کااندازہ ہوتا ہے ۔
خدا کرے زور قلم اور ہو زیادہ
کتاب قابل مطالعہ اور علم وفن میں اضافہ کا سبب ہے لہذا آپ بھی حاصل کریں اور اپنی علمی تشنگی بجھانے کا سامان مہیا کریں ۔
الاثنين، 10 فبراير 2025
الثلاثاء، 21 يناير 2025
الجمعة، 10 يناير 2025
شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ پر مولانا صدام علیمی صاحب کا تبصرہ
آج *شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت و تبلیغ* نامی کتاب حضرت مولانا توحید احمد طرابلسی صاحب کے ہاتھ سے ہمیں موصول ہوئی۔ یہ تصنیف حضرت مولانا توحید احمد طرابلسی کی تحقیقی کاوش کی ترجمانی کرتی ہے، جو چھ ابواب اور مختلف فصلوں میں حضرت نوح علیہ السلام کی حیات، مقصد بعثت، داعیانہ صفات، قوم کی خصوصیات، اہل خانہ کی بے وفائی، اور اسلوب دعوت پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب اردو زبان میں اپنی نوعیت کی منفرد تصنیف ہے، جسے علما اور مشائخ نے بھی سراہا ہے۔ مؤلف نے اس کتاب کا انتساب استاد محترم علامہ محمد تفسیر القادری قیامی علیہ الرحمہ کے نام کیا ہے۔ اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن کی اشاعت کردہ اس کتاب کا مقصد دعوتی اسلوب پر ایک خلا کو پر کرنا ہے۔ یہ مؤلف کی ایک اہم علمی خدمت ہے، جسے اہل علم حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
مولانا صدام علیمی
علیمی پبلک ڈیجیٹل اسکول
الجمعة، 13 ديسمبر 2024
حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ پر اکک تبصرہ
حضرت علامہ مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی کی تصنیف "شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ" کے کچھ حصوں کو پڑھ کر میں بےحد متاثر ہوا ہوں۔ یہ اپنے موضوع کے لحاظ سے ایک منفرد اور مثال کے طور پر پیش کی جانے والی کتاب ہے۔ مصنف نے اس میں نہ صرف حضرت نوح علیہ السلام کے دعوت و تبلیغ کے اسلوب پر گہری بصیرت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے بلکہ اسے جدید دور کے تناظر میں بھی پیش کیا ہے۔
کتاب کے باب سوم نے خاص طور پر میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، جہاں مصنف نے حضرت نوح علیہ السلام کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو نہایت دلکش انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اس باب میں مصنف نے قرآن کی آیات کا حوالہ دے کر ان تمام باتوں کو اس قدر جامع اور گہرائی سے واضح کیا ہے ۔ توکل علی اللہ، صبر، شکر گزاری، ثابت قدمی، نرم گفتاری، اور مؤثر دعوت کے انمول اوصاف کو ایسے دلنشین انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ قاری نہ صرف متاثر ہوتا ہے بلکہ ان صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب بھی پاتا ہے۔
یہ کتاب نہ صرف آپ کو دعوتِ دین کے اصول و آداب سکھاتی ہے بلکہ اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حکمت و صبر سے سامنا کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ اگر آپ دین کے پیغام کو عام کرنے کی نیت رکھتے ہیں یا اپنے کردار و عمل میں نکھار لانا چاہتے ہیں تو یہ کتاب یقیناً آپ کے لیے ایک بہترین رہنما ثابت ہوگی۔
حضرت علامہ مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی ایک سنجیدہ، محنتی اور زبردست عالم دین ہیں۔ دار العلوم علیمیہ (جمداشاہی بستی) اور کلية الدعوة الإسلامية (طرابلس، لیبیا) جیسی معتبر درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی علمی صلاحیتوں کو قلم کے ذریعے دنیا کے سامنے ایک منفرد علمی سرمایہ پیش کیا۔ ان کی یہ تصنیف نہ صرف ان کی گہری علمی بصیرت کا آئینہ دار ہے بلکہ ان کے تحقیقی ذوق اور فکری بلوغت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
میں حضرت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ یہ قیمتی تحفہ مجھے دیا اور اس کتاب کے ذریعے ہمیں حضرت نوح علیہ السلام کی مبارک زندگی اور ان کی دعوتِ حق کے قیمتی اسباق کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ تصنیف ان افراد کے لیے بے حد مفید ہے جو اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں اور دین کی خدمت کے لیے عملی قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ حضرت اپنی قلمی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے رہیں گے اور آئندہ بھی ایسے قیمتی کام پیش کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد اویس رضوی صدیقی
نعت اکیڈمی
8 دسمبر 2024
الأحد، 8 ديسمبر 2024
شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ
حضرت علامہ مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی کی تصنیف "شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ" کے کچھ حصوں کو پڑھ کر میں بےحد متاثر ہوا ہوں۔ یہ اپنے موضوع کے لحاظ سے ایک منفرد اور مثال کے طور پر پیش کی جانے والی کتاب ہے۔ مصنف نے اس میں نہ صرف حضرت نوح علیہ السلام کے دعوت و تبلیغ کے اسلوب پر گہری بصیرت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے بلکہ اسے جدید دور کے تناظر میں بھی پیش کیا ہے۔
کتاب کے باب سوم نے خاص طور پر میری توجہ اپنی جانب مبذول کروائی، جہاں مصنف نے حضرت نوح علیہ السلام کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو نہایت دلکش انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اس باب میں مصنف نے قرآن کی آیات کا حوالہ دے کر ان تمام باتوں کو اس قدر جامع اور گہرائی سے واضح کیا ہے ۔ توکل علی اللہ، صبر، شکر گزاری، ثابت قدمی، نرم گفتاری، اور مؤثر دعوت کے انمول اوصاف کو ایسے دلنشین انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ قاری نہ صرف متاثر ہوتا ہے بلکہ ان صفات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب بھی پاتا ہے۔
یہ کتاب نہ صرف آپ کو دعوتِ دین کے اصول و آداب سکھاتی ہے بلکہ اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا حکمت و صبر سے سامنا کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ اگر آپ دین کے پیغام کو عام کرنے کی نیت رکھتے ہیں یا اپنے کردار و عمل میں نکھار لانا چاہتے ہیں تو یہ کتاب یقیناً آپ کے لیے ایک بہترین رہنما ثابت ہوگی۔
حضرت علامہ مولانا ابو الفواد توحید احمد طرابلسی ایک سنجیدہ، محنتی اور زبردست عالم دین ہیں۔ دار العلوم علیمیہ (جمداشاہی بستی) اور کلية الدعوة الإسلامية (طرابلس، لیبیا) جیسی معتبر درسگاہوں سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی علمی صلاحیتوں کو قلم کے ذریعے دنیا کے سامنے ایک منفرد علمی سرمایہ پیش کیا۔ ان کی یہ تصنیف نہ صرف ان کی گہری علمی بصیرت کا آئینہ دار ہے بلکہ ان کے تحقیقی ذوق اور فکری بلوغت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
میں حضرت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ یہ قیمتی تحفہ مجھے دیا اور اس کتاب کے ذریعے ہمیں حضرت نوح علیہ السلام کی مبارک زندگی اور ان کی دعوتِ حق کے قیمتی اسباق کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ تصنیف ان افراد کے لیے بے حد مفید ہے جو اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں اور دین کی خدمت کے لیے عملی قدم اٹھانا چاہتے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ حضرت اپنی قلمی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے رہیں گے اور آئندہ بھی ایسے قیمتی کام پیش کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد اویس رضوی صدیقی
8 دسمبر 2024
الخميس، 14 نوفمبر 2024
شیخ الانبیاء حضرت نو ح علیہ السلام نمی کتاب کے رسم اجراء کا اعلان نیپال ٹائم میں
شیخ الانبیاء حضرت نو ح علیہ السلام نمی کتاب کے رسم اجراء کا اعلان نیپال ٹائم میں بشکریہ حضرت مولانا عبد الجبار علیمی صاحب
الخميس، 7 نوفمبر 2024
السبت، 2 مارس 2024
ڈاکٹر زیاد علی صاحب کی رحلت ایک عظیم سانحہ
ڈاکٹر زیاد علی صاحب کی رحلت ایک عظیم سانحہ
_
ڈاکٹر زیاد علی صاحب کی رحلت عربی ادب کے لیے ایک عظیم خسارہ ہے، آپ کلیۃ الدعوۃ الاسلامیۃ، ٹریپولی، لیبیا کے شعبہ ادب سے متعلق تھے، اس ہیچمداں کو دو سال اولی اور ثانیہ کلیہ میں آپ سے استفادہ کا موقع میسر آیا، آپ کا طرز تدریس نہایت ہی سہل تھا، جو پڑھاتے اسے سوال وجواب کی شکل میں لکھوا دیتے، پھر فردا فردا سب کی کاپی دیکھتے، اسی کاپی سے حاضری درج کرتے، اگر کوئی طالب علم غیر حاضر ہوجاتا تو اسے اتنی نصیحت کرتے کہ وہ دوبارہ اس نصیحت کو سہنے کی ہمت جٹا نہیں پاتا، ششماہی اور سالانہ امتحان میں جس طالب علم کی غیر حاضری ہوتی، اس کے نمبر کاٹ لیتے اور بکثرت غائب رہنے والے طالب علم کو اپنی کتاب کے امتحان میں بیٹھنے نہیں دیتے۔
غیر مانوس الفاظ سے حتی امکان بچتے اور طلبہ کو بھی اس کی تاکید کرتے کہ ایسے الفاظ استعمال نہ کریں، جس کا معنی جاننے کے لیے لغت دیکھنا پڑے، اگر کوئی طالب علم لکھ دیتا یا درس گاہ میں بول دیتا تو اس سے اس کا معنی پوچھتے اور پھر چند منٹ اس پر نصیحت کرتے۔
فصیح زبان میں درس دیتے، مگر عامیہ مادری زبان ہونے کی وجہ سے چند کلمات ایسے تھے، جو بلا قصد ادا ہوجاتے، طلبہ سے پوچھتے رہتے کہ کوئی استاذ دارجہ میں تو نہیں پڑھا رہا ہے۔
آپ ایک ہی سبق کو کئی کئی دفعہ پڑھاتے تھے، جس کی وجہ سے اکثر باتیں وہیں درس گاہ میں حفظ ہوجاتیں، اگر کوئی درس ختم ہونے کے بعد سبق سے متعلق کوئی سوال کر لیتا تو تقریباً پورا درس دوبارہ دیتے، نتیجتاً جس دن آپ کی کلاس ہوتی، اس دن کلاس روم سے نکلتے نکلتے دوپہر کے تین یا ساڑھے تین بج جاتے، جب کہ چھٹی دو یا ڈھائی بجے ہونا طے ہوتی تھی، پھر خود ساتھ میں کینٹین جاتے اور نگراں کو تاکید کرتے کہ کوئی طالب علم بھوکا نہ رہے۔
امتحان آنے سے قبل خوب تیاری محنت سے تیاری کرواتے، چوں کہ کلیۃ میں یہ طریقہ رائج ہے کہ جو استاذ جس کتاب کو پڑھاتا ہے، وہی اس کتاب کا ششماہی اور سالانہ امتحان بھی لیتا ہے، امتحان کے بعد کاپی طلبہ کو واپس کر دی جاتی ہے، تاکہ وہ اپنی غلطیوں پر مطلع ہوجائیں، جب آپ کاپی جانچ کر واپس کرتے تو طلبہ جن باتوں کو نہیں لکھے ہوتے سرخ قلم سے اسے بھی لکھ دیتے، پھر ہر طالب علم کو فردا فردا بلا کر اسے اس کی کمیوں اور غلطیوں سے آگاہ کرتے، جواب کے سلسلے میں آپ کا موقف واضح تھا کہ کتاب کی وہی عبارت نقل کی جائے جسے آپ ایام تدریس میں پہلے ہی سوال وجواب کی شکل میں لکھوا کر چک کر چکے ہیں۔
الغرض طلبہ کے لیے ایک مشفق باپ کی طرح تھے، ہر وقت ان کے لیے پریشان رہتے، اگر کوئی طالب علم آپ سے اپنی کسی دشواری کو بیان کر دیتا تو آپ جب تک اسے حل نہ کروا دیتے سکون سے نہیں بیٹھتے، آپ کی رحلت کا سن کر دل غمگین ہے، إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهم اغفر له وارحمه وأسكنه فسيح جناتك مع الذين أنعمت عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين.
مولیٰ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ آپ کی بے حساب مغفرت فرمائے، قبر کی منزل کو آسان فرما کر جنت میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
جمداشاہی، بستی، یوپی
3/مارچ 2024، بروز اتوار
الاشتراك في:
الرسائل (Atom)

















