التسميات

الخميس، 13 يونيو 2019

مگر تقدیر کا لکھا تھا با وفا نکلے

میں چاہتا تھا کہ وہ بے وفا نکلے
مگر تقدیر کا لکھا وہ با وفا نکلے

ہم کوچہ اعداء سے پشیماں نکلے
احباب ہمارے ہی تو اعداء نکلے

جنازہ فاقہ کش کا ہے دھوم سے نکلے
پس جاہ وجلال سے ہم بعد مرگ نکلے

  • میں چاہتا تھا کہ وہ بے وفا نکلے
  • مگر تقدیر کا لکھا تھا با وفا نکلے

  • ہم کوچہ اعداء سے حیراں نکلے
  • احباب ہمارے ہی تو با جفا نکلے

  • جنازہ فاقہ کش کا ہے دھوم سے نکلے
  • پس جاہ وجلال سے ہم بعد مرگ نکلے

الأحد، 9 يونيو 2019

سب ہوّا ہیں، کوئی صاحب قرآن تھوڑی ہے

اگر مخالف ہیں، رہنے دو، جان تھوڑی ہیں
سب ہوّا ہیں، کوئی صاحب قرآن تھوڑی ہے

لگے گی آگ تو آئیں گے زد پہ یہ بھی
یہاں پر صرف ہمارا کھلیان تھوڑی ہے

ہم جانتے ہیں کہ مفسد بھی کم نہیں عالم
ہماری طرح مضبوط ایمان تھوڑی ہے

سبھی کی زکات شامل ہے ان کے پڑھنے میں
زکات خور ہیں، معطی زکات تھوڑی ہے

جو آج صاحبِ فتنہ ہیں، کل مردہ ہوں گے
کسی کے باپ کا یہ مذہب اسلام تھوڑی ہے​

الأحد، 2 يونيو 2019

تقریظ جلیل

عزیزم توحید احمد علیمی نے گزشتہ تعلیمی سال 2010 میں دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی سے فضیلت کی تکمیل کی ہے، اور اس کے بعد مزید اعلی تعلیم کے لیے لیبیا کی راجدهانی طرابلس میں واقع کلیہ الدعوہ الاسلامیہ میں زیر تعلیم تهے، موصوف بهت مطمئن اور خوش تهے کہ ناگہاں کچه عرب ملکوں کی طرح لیبیا میں بهی بد امنی پیدا کی گئی۔

صہیونی اور صلیبی عناصر نے اپنے مخصوص مفادات کے لیے منصوبہ بند بغاوت کرادی، صدر معمر قذافی نے سختی کے ساتھ سرکوبی کی،  نتیجے میں امریکہ فرانس اور دیگر یورپی ممالک لیبیا پر چڑھ بیٹھے، اور فضائی حملوں کے ذریعے طرابلس اور کچھ دوسرے شہروں کو تہس نہس کردیا، اور وہاں پر موجود لیبین اور بیرونی ملکوں کے لوگوں کو جان بچانا مشکل ہوگیا۔

موصوف انتہائی بے چارگی گھٹن خوف وہراس اور ذہنی کوفت کی حالت میں کئی ہفتوں کی محصور زندگی گزارنے کے بعد قدرت کی کرشمہ سازی سے جان بچا کر ہندوستان واپس آنے میں کامیاب ہوئے، فالحمد لله على ذلك۔

لیبیا کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں، مولی تعالیٰ لیبیا کی حفاظت اور وہاں کے مسلمانوں کی نصرت فرمائے۔

۲۰۱۰ اور ۲۰۱۱ کے دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی کے جشن فراغت منعقدہ ۵/ مئی میں توحید احمد سلمہ کی دستار بندی ہو رہی ہے، اس موقعے پر یہ اپنا ایک مقالہ "غذائی بحران اور ہندوستان" یادگار علمی تحفے کے طور پر لے کر حاضر ہیں، اردو میں اس موضوع پر جو مواد پیش کیا گیا ہے اس کی طرف عام طور سے بھت کم توجہ دی جاتی ہے، مولانا موصوف اچھے اسلوب نئے مدلل میٹر کی پیش کش کے لیے مبارک باد کے مستحق ہیں۔

مولیٰ تعالی ان کے ذوق علم و قلم کو اور ترقی عطا فرمائے، اور زیادہ سے زیادہ علم وقلم کی خدمت کی توفیق بخشے،  آمین ثم آمین۔

فروغ احمد اعظمی
الحمد لله الذي من أرسل القرآن، والصلاة والسلام علی صاحب "قرة عیني في الصلاة"، وعلی آله وأصحاب الأصفیاء.

أما بعد،
رسالہ مولفہ جناب مولانا توحید احمد علیمی صاحب نظر ناقص سے گزرا، ما شاء الله بہت اچھی کاوش ہے، موجودہ دور جو چل رہا ہے اس میں اس طرح کے رسائل کی اشد ضرورت ہے، جس میں آقا کریم -صلی الله علیہ وسلم- کے اخلاق کریمانہ کو اجاگر کیا گیا ہو، مولانا موصوف نے اس کو خوب نبھایا ہے۔ 

الله -عزوجل- مولانا توحید احمد علیمی کے علم میں خوب برکتیں عطا فرمائے، اور اسی طرح دین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

ابو نعمان المدنی 
11صفر المظفر 1440ھ 
نزیل برطانیہ راچڈیل

تربیت اطفال پر ایک انوکھی پیش کش

بچوں پر شفقت و مروت اور ان سے محبت و الفت یہ ایک اہم عنوان ہے، آج ہر گھر میں معاشرتی نظام بربادی کے دہانہ پر ہے، بچوں میں ایک صالح معاشرہ کے قیام کے لیے ہم کس قدر عملیات اختیار کرسکتے ہیں یہ ہم میں اب مفقود نظر آتا ہے۔

آج کے اس پراگندہ سماج میں بچوں کی تربیت و تہذیب کو مستحکم بنانے کے لیے از حد ضروری ہے کہ ہم قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں، اور ان سے ثابت شدہ مامورات پر عمل کرنے کی کوشش کریں، احادیث مبارکہ سے اس بات کو جاننے کی کوشش کریں کہ ہمارے آقا سرور کائنات علیہ الصلاة والسلام نے کس قدر بچوں سے الفت وشفقت کا اظہار کیا ہے، اور ان کی نئی ذہنیت کو کس طرح ایک صالح افکارنظریات کی طرف مبذول کیا ہے۔

آج ہم ابتدا سے ہی بچوں سے لاڈ وپیار کا رویہ پیش کریں تو بچہ ناخلف اور متشدد نہیں ہوگا، آج والدین ابتدا سے ہی کج فہمی اور متشددانہ رویہ اختیار کر کے اپنے بچوں کی ذہنیت خراب کر دیتے ہیں، پھر بعد میں اس کا انجام زیادہ مناسب نہیں ہوتا۔

اس تعلق سے نوجوان عالم دین اور محقق حضرت مولانا توحید احمد علیمی جو كلية الدعوة الإسلامية طرابلس لیبیا سے اعلی تعلیم رکھتے ہیں ایک اچھی پہل کی ہے، انھوں اس عنوان کو احادیث کی روشنی میں اچھے پیرائے اور اعلی سلیقہ سے پیش کیا، اس رسالہ میں ایسے بہت سے انوکھے اور نایاب موتی ہیں جن کو ہم سجا کر خود کو قیمتی بناسکتے ہیں، اور اپنے بچوں کے دلوں میں اپنی محبت والفت کو پیوست کرسکتے ہیں۔

رب تعالی رسالہ کے مرتب کو اس رسالہ کے تصدق سے دنیا وآخرت کی تمام کامیابی نصیب فرمائے، آمین۔

محمد ارشد رضا قمر اخلاقی امجدی 
استاد:جامعہ سعدیہ عربیہ کیرلا

السبت، 1 يونيو 2019

افطاری اور دعائے خیر

کاتب: ابو الفؤاد توحید احمد طرابلسی
<>וווווו<><>ווווו×<>

رمضان کا مقدس مہینہ ہے، مسلمانوں میں عبادت کا جوش وخروش ہے، ہر فرد اعمال خیر میں پیش پیش ہے۔ 

مسافر روزہ داروں کے لیے محلہ کی مسجد میں انتظام وانصرام کیا جا رہا ہے، اور وہاں گھروں کی تیار کردہ اور خریدی ہوئی چیزیں پہونچائی جا رہی ہیں۔

ایسی صورت میں افطاری کرنے والوں کی بھی کچھ اخلاقی ذمہ داریاں بنتی ہیں، انہیں چاہیے کہ جن لوگوں نے افطاری کا اہتمام کیا ہے ان کا شکریہ ادا کریں، اور ان کے لیے دست بدعا رہیں، خاص کر بوقتِ افطار انہیں یاد رکھیں،  اس لیے کہ یہ وقت قبولیت کا ہوتا ہے، حدیث شریف میں ہے:

(( للصَّائمِ عندَ فِطرِهِ لدعوةً ما تردُّ )).
"وقت افطار روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی ہے"۔

دوسری حدیث شریف میں ہے:

(ثلاثة لا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ؛
- الإِمَامُ الْعَادِل
- وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ
- وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ.
يَرْفَعُهَا فَوْقَ الْغَمَامِ، وَتُفَتَّحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: "وَعِزَّتِي لأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ").

"تین افراد کی دعا رد نہیں کی جاتی؛ 
- منصف حکمران
- روزہ دار جب روزہ افطار کرے
- اور مظلوم کی دعا، الله اسے بادلوں کے اوپر اٹھاتا ہے، اور اس کے  لیے آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، اور الله -عز وجل- فرماتا ہے: "مجھے اپنی عزت کی قسم، میں تیری ضرور مدد کروں گا، اگرچہ ایک مدت کے بعد"۔

بعد افطار افطاری کرانے والے کے حق میں کون سی دعا کرے؟ اس بابت رسول اکرم -ﷺ- سے کئی دعائیں منقول ہیں، چند یہ ہیں:

• (( أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلاَئِكَةُ )). [سنن أبي داود، 3/ 367،  حدیث نمبر: 3856، وابن ماجه، 1/ 556،  حدیث نمبر: 1747].

امام احمد -رحمه الله تعالی- کی روایت میں ہے:
(( أفطرَ عندَكمُ الصَّائمونَ، وتنزَّلت عليْكمُ الملائِكةُ، وأَكلَ طعامَكمُ الأبرارُ، وغشيتْكمُ الرَّحمةُ )).

• (( اللهُمَّ بَارِكْ لَهُم فيما رَزَقتهْمْ، واغْفِر لهم وارحَمْهُم )). 

• (( اللهُمَّ أَطْعِمْ مَنْ أطْعَمَني، وأَسْقِ مَنْ سْقَاني )).

-•÷•--•÷•--•÷•--•÷•--•÷•--•÷•--•÷•-
یکم جون، 2019، ممبیء
-•÷•--•÷•--•÷•--•÷•-

روزہ اور خون کی چانچ


کاتب: ابو الفؤاد توحید احمد طرابلسی

•••=+=+=+=+=+=+=+=+=+=+=•••

الحمد لله الذي أنزل القرآن، والصلاة والسلام على صاحب الفرقان، وعلى آله وأصحابه العرفان.

أما بعد،

دور جدید میں میڈیکل سائنس نے خوب ترقی کر لی ہے، بیماریوں کی تشخیص کے لیے مختلف طریقے اپنائے جا رہے ہیں،  ان میں سے ایک طریقہ خون کی چانچ بھی ہے۔

شریعت مطہرہ میں خون نکلوانے پر روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، صحابی رسول حضرت ابن عباس -رضی الله تعالی عنه- روایت کرتے ہیں:

"أن النبي -صلى الله عليه وسلم- احتجم وهو محرم، واحتجم وهو ‏صائم".

"رسول الله -ﷺ- نے حجامت کروائی اور آپ حالت احرام میں تھے، اور آپ نے پچھنا لگوایا اور آپ حالت روزہ میں تھے"۔

چنان چہ صحابہ کرام -رضی الله تعالی علیھم اجمعین- حالت صیام میں حجامت کروایا کرتے تھے، اور اسے مفسد صوم نہیں مانتے تھے، امام زہری -رحمہ الله تعالی- فرماتے ہیں:

"كان ابن عمر يحتجم، ‏وهو صائم في رمضان وغيره، ثم تركه لأجل الضعف".

"حضرت ابن عمر -رضی الله تعالی عنھما- حجامت کراتے اور وہ رمضان اور غیر رمضان کے روزہ سے ہوتے، پھر آپ نے کمزوری کے سبب سے حجامت کرانا ترک کر دیا"۔

حضرت ام علقمہ فرماتی ہیں:

"كنا ‏نحتجم عند عائشة -رضي الله تعالى عنها-، فلا تنهى".‏

"ہم حضرت عائشہ -رضی الله تعالی عنہا- کے پاس [حالت روزہ میں] حجامت کراتے تھے، وہ منع نہ فرماتیں"۔

حقیقتاً روزہ جسم میں منفذ کے ذریعے کسی چیز کے داخل کرنے پر ٹوٹتا ہے، حضرت ابن عباس اور عکرمہ -رضی الله تعالی عنھم- فرماتے ہیں:

"الصوم مما دخل وليس مما خرج". [صحیح بخاری].

"روزہ داخل ہونے والی چیز سے ٹوٹتا ہے، خروج کرنے والی چیز سے نہیں"۔

یہ بھی پیش نظر رہے کہ یہ حکم اغلب ہے، حکم کل نہیں ہے، بھت سے معاملات ایسے ہیں جن میں خروج کے سبب سے روزہ ٹوٹتا ہے، جیسے ناکح الید ہونا، جان بوجھ کر قیء کرنا وغیرہ۔

المختصر مذہب آئمہ ثلاثہ؛ ابو حنیفہ، مالک، شافعی -رحمھم الله تعالی- میں حجامت سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، اسی پر جانچ کے لیے خون نکلوانے کا بھی قیاس ہے، یہ جانچ ہر مرض کو محیط ہے۔
______________________
یکم جون/2019، بروز سنیچر
°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•°•

الاثنين، 27 مايو 2019

السيرة الذاتية

نام: توحید احمد

ولدیت: عبید الرحمن

ماں کا نام: اختر النساء بنت یار محمد خان

نسب: توحيد أحمد بن عبيد الرحمن بن محمود الحسن بن نور محمد بن فضل محمد بن فتح الله بن رمضان محمد

جائے پیدائش: اکبر پور جمنی، پوسٹ تلولی، سدھارتھ نگر

تاریخ پیدائش: 9/ مارچ، بروز اتوار 1986ء

لمبائی: 175cm

تعلیم لیاقت:
• دار العلوم علیمیہ، جمدا شاہی، بستی، یوپی:
عالمیت
فضیلت

• عربی فارسی بورڈ لکھنؤ:
منشی، مولوی، عالم، کامل، فاضل
• كلية الدعوة الإسلامية، طرابلس، لیبیا:
معهد اللغة العربية
المرحلة الجامعية
المرحلة التمهيدية
مرحلة البحث

قلمی خدمات:
عربی
1- الإمام زفر ومكانته العلمية في الفقه والحديث
2- البرهان في إبطال طلاق السكران
3- المولد النبوي بين البدع والاستحسان
4- الروض البهيح في بيان صلاة التسبيح
5- تحقيق اولى الرشد في غزوة احد
6- حقيقة التوسل من الكتاب والسنة
7- خصائص قراءة عاصم برواية حفص لغويا ونحويا خلال دراسة سورة يس
8- ذكر التكبير في قراءة ابن كثير
9- ردة السكران في منظور الإسلام
10- سرور الفئات في شرح إنما الﻹعمال بالنيات
11- سلام الله عند إختضاركم فقرءوا يس عند موتاكم
12- تفسير {أن ليس للإنسان إلا ما سعى}
13- صهي الغليل في نكاح التحليل
14- رسالة في طلاق المكره
15- حياة الإمام محمد بن الحسن الشيباني
16- شفاء الظمآن بأن النية من القلب ليست باللسان
17-  آثار النور في رخصة النساء عن زيارة القبور
18- أحكام النية في صوم النافلة
19- أربعون حديثا
20- إعلام الأعلام في هجرة الأنام
21- الدرة الثمينة في نية الغنيمة
22- القول الفيد المختصر في إسلام قرين خير البشر
23- المشكاة في تحقيق نية الزكاة
24- المنبسكات في دفع الزكاة
25- إنباء نية البؤبؤ في الغسل والوضوء
26- مکانة الصيام في الإسلام
27- نزهة الأعيان في إمامة العميان
28- نكاح المشتاق بنية الطلاق
29- هل يفطر الصوم بالغيبة والنميمة فعل الحرام؟
30- الأربعون في الملعونين
31- الدر المنجوم في صلاة إدبار النجوم
32- الكلام الجلي في سترة المصلي
33- تنبيه الأفكار في زيارة الكفار
34- خلاصة البيان في نية رمضان
 35- الأربعون في الملعونين
36- شرح الحديث: حياتي خير لكم ووفاتي خير لكم
37- مشروعية المصافة والصلاة خلف المراهق
38- جواز التبرك بآثار الصالحين.
39- حكم الصلاة علی الجنازة في المسجد
40- الالتفات وأنواعه دراسة تطبيقية في سورة الفاتحة

تحقيق وتعليق:
 41- الحكم العرفانية في معان إرشادية وإشارات قرآنية للإمام متقي الهندي
42- رسالة في إتلاف كلاب المضرة للشيخ ساجقلي زاده
43- شرح حديث النبي صلى الله عليه وسلم اطلبوا العلم من المهد إلى اللحد للشاه ولي الله الدهلوي
44- غاية الكمال في بيان أفضل الأعمال للإمام متقي الهندي
45- غاية المأمول والسلوك إلى الله تعالى للإمام متقي الهندي
46- فضائل معاوية للشيخ حياة محمد السندي
47- لذيذ السماع في بيان حجة الوداع للشيخ حياة محمد السندي
48- نعم المعيار والمقياس لمعرفة مراتب الناس للإمام متقي الهندي
49- المقدمة في الصلاة للإمام ابي الليث السمرقندي
50- خواص الفاتحة للإمام أحمد بن موسى البيلي المالكي

اردو:
51- غازی (سید سالار مسعود غازی کی سوانح حیات)
52- شرح جلالين سوره فاتحه
53- رام راون تنازع ایک تجزیاتی مطالعہ
54- محمد ہادی عالم (بغیر نقطے کے)
55- فتح مبین (غزوہ بدر کے  بارے میں)
56- گناہوں سے اجتناب کے قرآنی طریقے
57- بچوں پر شفقت رسول
58- قرآن کریم اور گلہ بانی معاشی نقطہ نظر سے
59- ہندوستانی محدثین اور ان کی خدمات
60- عربی زبان وادب کی اہمیت ومعنویت
61- کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے دہن مبارک سے نکلی ہر بات وحی الہی ہے؟
62- سورت یوسف کی ایت ھمت بہ وھم بھا پہ ایک نظر
63- غذائی بحران اور ہندوستان
64- وضو اور تقاضہ فطرت
65- موطأ امام محمد میں مرویات امام اعظم سے مرویات
66- ابو البشر حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ

فتح مبین (غزوۂ بدر سے متعلق)


اس رسالہ کو یہاں سے ڈائنلوڈ کریں 👇
https://archive.org/details/tauhidjamdawi_gmail/page/n1

السبت، 18 مايو 2019

فضائل علی -رضی الله تعالی عنہ- میں بیان کردہ چند حدیثوں کا علمی جائزہ

كاتب.... ابو الفؤاد توحيد احمد طرابلسی
---------------------

الله کے رسول -صلی الله تعالی علیہ وسلم- کے چوتھے خلیفہ حضرت علی -رضی الله تعالی عنہ- ہیں، آپ کے فضائل میں کئی حدیثیں گڑھی گئی ہیں، یہ مختلف ادوار میں عوامی جذبات کو فرش سے عرش پہ پہونچانے کا کام کرتی رہی ہیں۔ 

بعض مقررین ایسی ہی حدیثوں کی تاک میں رہتے ہیں، ہاتھ لگتے ہی بڑی چاہ سے بیان کرتے ہیں، اور بڑے بڑے اسٹیج لمحوں میں الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں، ایسی ہی چند حدیثیں علمی تحقيق  کے ساتھ پیش خدمت ہیں:

تمھید :
الله تعالی قران کریم میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس نے انسان کی تخليق مٹی سے کی ہے: {ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟﻨَّﺎﺱُ ﺇِﻥْ ﻛُﻨْﺘُﻢْ ﻓِﻲ ﺭَﻳْﺐٍ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﺒَﻌْﺚِ ﻓَﺈِﻧَّﺎ ﺧَﻠَﻘْﻨَﺎﻛُﻢْ ﻣِﻦْ ﺗُﺮَﺍﺏ}.

دوسری جگہ انسانی تخليق کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: {ﻭَﻣِﻦْ ﺁﻳَﺎﺗِﻪِ ﺃَﻥْ ﺧَﻠَﻘَﻜُﻢْ ﻣِﻦْ ﺗُﺮَﺍﺏ}.

چوں کہ بعد وصال انسان کو اسی مٹی میں لوٹ جانا ہے، اور ہر شخص وہاں دفن کیا جائے گا، جہاں کی خاک سے اس کی خمیر تیار کی گئی تھی، حضرت عبد الله -رضی الله تعالی عنہ- فرماتے ہیں:

"ایک حبشی کا مدینہ منورہ میں انتقال ہوگیا، اس کی خبر سرکار دو عالم -صلی الله تعالی علیہ وسلم- کو دی گئی، آپ نے فرمایا:

"دفن في الطينة التي خلق منها".[موضح اوهام الجمع والتفريق لابي بكر الخطيب البغدادي:217/2].

"اس مٹی میں دفن کیا گیا جہاں کی خاک سے اس کی پیدائش ہوئی"۔

روز جزاء ہر انسان کو دوبارہ اسی خاک سے اٹھ کہڑے ہونا ہے، {ﻣِﻨْﻬَﺎ ﺧَﻠَﻘْﻨَﺎﻛُﻢْ ﻭَﻓِﻴﻬَﺎ ﻧُﻌِﻴﺪُﻛُﻢْ ﻭَﻣِﻨْﻬَﺎ ﻧُﺨْﺮِﺟُﻜُﻢْ ﺗَﺎﺭَﺓً ﺃُﺧْﺮَﻯ}.

اس تمھید کے بعد حضرت علی رضی الله تعالی عنہ کی پیدائش کی طرف نظر کرتے ہیں، آپ سے متعلق اثنا عشریہ شیعوں کا عجیب وغريب عقیدہ ہے، جس کے مطابق رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش ایک ہی مٹی سے ہوئی ہے، تخليق سے جو مٹی بچی اس سے ان کے ائمہ کی پیدائش ہوئی، لہذا وہ دوسروں پہ عز وشرف میں فوقیت رکہتے ہیں، اس عقیدہ کو "عقيدة الطينة" کے نام سے جانا جاتا ہے-

اس عقیدہ کے بطلان کے لیے یہی کافی ہے کہ حضرت علی -رضی اللہ تعالی عنہ- روضہ رسول -صلی اللہ تعالی علیہ وسلم- میں محو استراحت نہیں ہیں، اسی "عقیدة الطينة" کی ایک حديث پیش ہے-

ﺣﺪﻳﺚ: (( ﺧﻠﻘﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﻭﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ﻣﻦ ﻃﻴﻨﺔ ﻭﺍﺣﺪﺓ )):

اس حديث كو ابن عساکر نے بسند مرفوع حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے ابو الفرج عبد الرحمن  بن علی جوزی نے اس حديث کو اپنی کتاب "الموضوعات "میں ذكر کیا ہے جس کی سند ومتن اس طرح ہے:

انبانا ابو منصور القزاز قال انبانا ابوبكر احمد بن علي بن ثابت قال اخبرني علي بن الحسن بن محمد الدقاق قال حدثنا محمد بن اسماعيل الوراق قال حدثنا ابراهيم بن الحسين بن داود العطار قال حدثنا محمد بن خلف المروزي قال حدثنا موسی بن ابراهيم قال حدثنا موسی بن جعفر عن ابيه عن جده قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم:

ﺧﻠﻘﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﻭﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ﻣﻦ ﻃﻴﻨﺔ ﻭﺍﺣﺪﺓ".

 "رسول الله صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے، ہارون بن عمران، یحيی بن زکریا اور علی کو ایک مٹی سے پیدا کیا گیا-

اس حديث کی سند پہ ایک نظر: 
سابقہ حديث کی سند میں ایک نام ابو عمران موسی بن ابراہیم بن بحر مروزی کا ہے، جن کی یحيی بن معین نے تکذیب کی ہے اور امام دار قطنی وغيره نے متروک کہا ہے-

امام ذهبی رحمه الله تعالی نے مبینہ حديث کے علاوہ دو مزید حديثوں کو بیان کیا ہے جسے موسی بن ابراہیم نے گڑھا ہے-

اب موسی بن ابراہیم مروزی کے بارے میں چند ائمہ فن کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:

شیخ محمد بن ربیع جیزی:
"رايته وكان صاحب الفقه ثم جاء الی الجامع فتفقه مع قوم هناد ثم جاء بكتاب فقه فقرا في الجامع فجاءه اصحاب الحديث فقالوا له امل علينا فاملی عليهم عن ابن لهيعة وغيره شيئا لم يسمعه قط ولم يسمع هو قط حدیثا لا ادري ايش قصة ذاك الكتاب اشتراه او استعاره او وجده".

امام عقيلی:
منكر الحديث لا يتابع علی حديثه.

شیخ ابو نعیم:
موسی ضعيف.

امام ابن عدی:
موسی بن ابراهيم شيخ مجهول حدث بالمناكير عن الثقات وغيرهم.

امام ابن حبان:
كان مغفلا يلقن فيتلقن فالستحق الترك.

ایک غلط فہمی کی نشاہدہی:
امام ذہبی رحمه الله تعالی نے اس حديث کو شیخ ابن جوزی کی کتاب سے اپنی کتاب "الموضوعات" میں نقل کیا ہے اس حديث کی درجہ بندی کرتے ہوئے ابن جوزی لکھتے ہیں:

"هذا حديث موضوع علی رسول الله صلی الله عليه وسلم والمتهم به المروزي".

جب ہم سند انبانا ابو منصور القزاز قال انبانا ابوبكر احمد بن علي بن ثابت قال اخبرني علي بن الحسن بن محمد الدقاق قال حدثنا محمد بن اسماعيل الوراق قال حدثنا ابراهيم بن الحسين بن داود العطار قال حدثنا محمد بن خلف المروزي قال حدثنا موسی بن ابراهيم قال حدثنا موسی بن جعفر عن ابيه عن جدہ پہ نظر ڈالتے ہیں تو اس میں محمد بن خلف مروزی کا نام پاتے ہیں۔

درحقيقت یہاں مروزی سے مراد موسی بن ابراہیم مروزی کی ذات ہے، مگر امام ذهبی رحمه الله تعالی کے پاس الموضوعات کا جو نسخہ تھا، اس میں موسی بن ابراہیم مروزی کا نام ساقط تھا، اس لیے امام ذہبی رحمه الله تعالی کو مغالطہ ہوا، اور آپ نے مروزی سے محمد بن خلف مروزی کی ذات کو سمجھا -

حديث: (( ﺧﻠﻘﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﻣﻦ ﻧﻮﺭ )):
اس حديث کو جعفر بن احمد بن علی نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے، اس حديث کے الفاظ یہ ہیں:

"ﺧﻠﻘﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﻣﻦ ﻧﻮﺭ، ﻭﻛﻨﺎ ﻋﻦ ﻳﻤﻴﻦ ﺍﻟﻌﺮﺵ ﻗﺒﻞ ﺃﻥ ﻳﺨﻠﻖ ﺍﻟﻠﻪ ﺁﺩﻡ ﺑﺄﻟﻔﻲ ﻋﺎﻡ، ﺛﻢ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﻠﻪ ﺁﺩﻡ ﻓﺎﻧﻘﻠﺒﻨﺎ ﻓﻲ ﺃﺻﻼﺏ ﺍﻟﺮﺟﺎﻝ، ﺛﻢ ﺟﻌﻠﻨﺎ ﻓﻲ ﺻﻠﺐ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻄﻠﺐ، ﺛﻢ ﺷﻖ ﺍﺳﻤﻴﻨﺎ ﻣﻦ ﺍﺳﻤﻪ؛ ﻓﺎﻟﻠﻪ ﺍﻟﻤﺤﻤﻮﺩ ﻭﺃﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ، ﻭﺍﻟﻠﻪ ﺍﻷﻋﻠﻰ ﻭﻋﻠﻲ ﻋﻠﻲ".

"مجھے اور علی کو ایک نور سے پیدا کیا گیا اللہ تعالی ادم علیہ السلام کو پیدا کرے، اس سے دو ہزار سال پہلے ہم عرش کی داہنی جانب تھے پہر اللہ تعالی نے ادم کو تخلیق کیا، پہر ہم لوگوں کی پیٹھ میں آگیے،  پہر ہم عبد المطلب کے صلب میں آئے، پہر اللہ تعالی نے ہمارے ناموں کو اپنے اسم گرامی سے بنایا اللہ محمود ہے، اور میں محمد ہوں اللہ اعلی ہے، اور علی علی ہے"-

اس حديث کے راویوں میں ایک نام جعفر بن احمد کا بھی ہے، جس کے بارے میں علماے جرح وتعديل کا کہنا ہے کہ یہ شخص حديث گڑھتا تھا، پہر اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف کر دیتا، چند ماہرین فن کی اراء ذيل میں مندرج ہیں، جس سے اس شخص کی كذب بیانی سمجھنے میں آسانی ہوگی:

ابن عدی (280-364ھ)
-ﻛﺘﺒﺖ ﻋﻨﻪ بمصر في الدخلة الاولی سنة تسع وتسعين مئتین وكتبت في الدخلة الثانية في سنة اربع وثلاثين مئة، ﻭﺃظن فيها ﻣﺎﺕ وحدَّﺛَﻨَﺎ وهو ﻋَﻦ ﺃﺑﻲ ﺻﺎﻟﺢ كاتب الليث ﻭﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﻔﻴﺮ ﻭَﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ ﺍﻟﺘﻨﻴﺴﻲ.... ﺑﺄﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ ،ﻛﻨﺎ ﻧﺘﻬﻤﻪ ﺑﻮﺿﻌﻬﺎ ،ﺑﻞ ﻧﺘﻴﻘﻦ ﺫﻟﻚ ،ﻭﻛﺎﻥ مع ذلك ﺭﺍﻓﻀﻴﺎ.

"میں نے اس سے سن 299 میں جب پہلی بار مصر آیا حديث لکہی اور جب دوسری بار سن 334 میں مصر انا ہوا اس وقت بھی حديث لکہی  شاید اسی سال اس کا انتقال بھی ہوا اس نے ہم سے ليث کے کاتب ابو صالح سعید بن عفیر اور عبد اللہ بن یوسف تینسی سے حديث بیان کی.... جعلی حدیثیں ہم اس پر جعل ساز ہونے کی تہمت رکہتے تھے بلکہ ہمیں اس کے جعل ساز ہونے کا یقین تھا اس کے ساتھ ساتھ وہ رافضی بھی تھا"-

-وكان يضع الحديث علی اهل البيت.
"وہ اہل بیت کے بارے میں حدیثیں گڑھتا تھا"-

-وﻋﺎﻣﺔ ﺃﺣﺎﺩﻳﺜﻪ ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ ،ﻭﻛﺎﻥ ﻗﻠﻴﻞ ﺍﻟﺤﻴﺎﺀ ﻓﻲ ﺩﻋﺎﻭﻳﻪ ﻋﻠﻰ ﻗﻮﻡ لعله ﻟﻢ ﻳﻠﺤﻘﻬﻢ ﻭﻭﺿﻊ ﻣﺜﻞ ﻫﺬﻩ ﺍﻷﺣﺎﺩﻳﺚ وانه كان يحدثنا ﻋﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺑﻜﻴﺮ باﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﺴﺘﻘﻴﻤﺔ  بنسخة الليث بمثل هذه الاحاديث التي ذكرتها عنه وغير ذلك.

ابو سعيد بن يونس بن عبد الاعلی:
"كان رافضيا كذابا يضع الحديث في سب اصحاب رسول الله صلی الله عليه وسلم".

"بھت بڑا جھوٹا رافضی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو گالی دینے کے بارے میں حديث گڑھتا تھا"-

دار قطنی (306-385ھ)
"ﻛﺎﻥ ﻳﻀﻊ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻳﺤﺪﺙ ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﻋﻔﻴﺮ ﺑﺎﻷﺑﺎﻃﻴﻞ".

"حديث گرھتا تھا اور ابن عفیر کی جانب نسبت کر کے باطل باتیں بیان کرتا تھا"-

عبد الغنی ازدی(332-409ھ)
"ﻭﻫﺬﺍ ﺍﻟﺮﺟﻞ ﻣﺸﻬﻮﺭ ﺑﺒﻠﺪﻧﺎ ﺑﺎﻟﻜﺬﺏ ﺗﺮﻙ ﺣﻤﺰﺓ ﺍﻟﻜﻨﺎﻧﻲ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻏﻴﺮ ﺃﻧﻪ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺑﻴﺎﻥ ﻳﻌﺮﻑ ﺑﺎﺑﻦ ﺍﻟﻤﺎﺳﺢ".

"یہ شخص ہمارے ملک میں اپنے جھوٹ کے سبب مشہور ہے، حمزہ کنانی نے اس کی حديث کو ترک کر دیا تھا، ان سب باتوں کے باجود جعفر بن احمد بن علی بن بیان "ابن ماسح" کے نام سے جانا جاتا ہے"-

ابو سعید نقاش (414ھ):
"ﺣﺪَّﺙ ﺑﻤﻮﺿﻮﻋﺎﺕ".

علامه ذہبی (673-748ھ):
"ﻭﻣﻦ ﺃﻛﺎﺫﻳﺒﻪ : ﺑﺴﻨﺪﻩ ﺇﻟﻰ ﻋﻠﻲ ﻭﺟﺎﺑﺮ ﻳﺮﻓﻌﺎﻧﻪ : ﺇﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﺧﻠﻖ ﺁﺩﻡ ﻣﻦ ﻃﻴﻦ ﻓﺤﺮﻡ ﺃﻛﻞ ﺍﻟﻄﻴﻦ ﻋﻠﻰ ﺫﺭﻳﺘﻪ ".

"اس کے جھوٹ میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے بسند مرفوع حضرت علی اور جابر رضی الله تعالی عنہما سے یہ بیان کیا ہے:
 ﺇﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﺧﻠﻖ ﺁﺩﻡ ﻣﻦ ﻃﻴﻦ ﻓﺤﺮﻡ ﺃﻛﻞ ﺍﻟﻄﻴﻦ ﻋﻠﻰ ﺫﺭﻳﺘﻪ .

بے شک اللہ تعالی نے ﺁﺩﻡ علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا اس لیے ان کی اولاد پر مٹی کہانا حرام کردیا ہے"-

حديث:ﻛُﻨْﺖُ ﺃَﻧَﺎ ﻭَﻋَﻠِﻲٌّ ﻧُﻮﺭًﺍ ﺑَﻴْﻦَ ﻳَﺪَﻱِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻋَﺰَّ ﻭَﺟَﻞ: 
اس حديث کو امام احمد  رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب "فضائل الصحابة " 2/662 میں بسند مرفوع حضرت سلمان رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے، حديث کے الفاظ بسند یہ ہیں:

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﻗﺜﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻘﺪﺍﻡ ﺍﻟﻌﺠﻠﻲ ﻗﺜﻨﺎ ﺍﻟﻔﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺽ ﻗﺜﻨﺎ ﺛﻮﺭ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﻋﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪﺍﻥ ﻋﻦ ﺯﺍﺫﺍﻥ ﻋﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻗﺎﻝ ﺳﻤﻌﺖ ﺣﺒﻴﺒﻲ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﻮﻝ:
"ﻛُﻨْﺖُ ﺃَﻧَﺎ ﻭَﻋَﻠِﻲٌّ ﻧُﻮﺭًﺍ ﺑَﻴْﻦَ ﻳَﺪَﻱِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻋَﺰَّ ﻭَﺟَﻞَّ ، ﻗَﺒْﻞَ ﺃَﻥْ ﻳَﺨْﻠُﻖَ ﺁﺩَﻡَ ﺑِﺄَﺭْﺑَﻌَﺔَ ﻋَﺸَﺮَ ﺃَﻟْﻒَ ﻋَﺎﻡٍ ، ﻓَﻠَﻤَّﺎ ﺧَﻠَﻖَ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﺁﺩَﻡَ ﻗَﺴَﻢَ ﺫَﻟِﻚَ ﺍﻟﻨُّﻮﺭَ ﺟُﺰْﺀَﻳْﻦِ، ﻓَﺠُﺰْﺀٌ ﺃَﻧَﺎ، ﻭَﺟُﺰْﺀٌ ﻋَﻠِﻲٌّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺍﻟﺴَّﻼﻡ ُ".

"حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ کہتے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: میں اور علی اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضرت  ادم علیہ السلام کی پیدائش سے چودہ ہزار سال پہلے بشکل نور تھے، جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اس نور کے دو حصے کیے ایک جزء میں ہوں اور ایک جزء علی ہیں"-

اس حديث کو امام احمد رحمہ اللہ تعالی کے علاوہ ابن ﻋﺴﺎﻛﺮ ,‏علی ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ طیب مغازلی, اﺧﻄﺐ ﺧﻮﺍﺭﺯمی وغيره معروف علماء نے بھی اپنی تصانیف میں بیان کیا ہے-

اس حديث کی سند پہ ایک نظر: 
مبینہ علماء نے اسے الحسن نامی محدث سے روایت کیا ہے الحسن کون ہیں ؟ان کی تعیین کے لیے اس حدیث کی کچھ اسناد ملاحظہ فرمائیں:

-ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻏﺎﻟﺐ ﺑﻦ ﺍﻟﺒﻨﺎ ﺃﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺠﻮﻫﺮﻱ ﺃﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﺍﻟﻌﻄﺸﻲ ﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺳﻌﻴﺪ ﺍﻟﻌﺪﻭﻱ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺃﻧﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻘﺪﺍﻡ ﺍﻟﻌﺠﻠﻲ ﺃﺑﻮ ﺍﻷﺷﻌﺚ ﺃﻧﺎ ﺍﻟﻔﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺽ ﻋﻦ ﺛﻮﺭ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﻋﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪﺍﻥ ﻋﻦ ﺯﺍﺫﺍﻥ ﻋﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻗﺎﻝ ﺳﻤﻌﺖ ﺣﺒﻲ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ... ﺗﺎﺭﻳﺦ ﺩﻣﺸﻖ لابن عساكر ‏:42/67 .

-ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻏﺎﻟﺐ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺳﻬﻞ ﺍﻟﻨﺤﻮﻱ ﺭﺣﻤﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺍﻟﺤﻠﺒﻲ ﺍﻻﺧﺒﺎﺭﻱ ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﻌﺪﻭﻱ ﺍﻟﺸﻤﺸﺎﻃﻲ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻘﺪﺍﻡ ﺍﻟﻌﺠﻠﻲ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﻔﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺽ ﻋﻦ ﺛﻮﺭ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﻋﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪﺍﻥ ، ﻋﻦ ﺯﺍﺫﺍﻥ ، ﻋﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻗﺎﻝ...ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ لعلي بن محمد بن الطيب المغازلي: ﺹ 87.

-ﻭﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﺷﻬﺮﺩﺍﺭ ﻫﺬﺍ ﺍﺟﺎﺯﺓ ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﺒﺪﻭﺱ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻬﻤﺪﺍﻧﻲ ﻛﺘﺎﺑﺔ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺍﻟﻌﻄﺸﻲ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺳﻌﻴﺪ ﺍﻟﻌﺪﻭﻱ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻘﺪﺍﻡ ﺍﻟﻌﺠﻠﻲ ﺃﺑﻮ ﺍﻷﺷﻌﺚ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﻔﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺽ ﻋﻦ ﺛﻮﺭ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﻋﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪﺍﻥ ﻋﻦ ﺯﺍﺫﺍﻥ ﻋﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻗﺎﻝ : ﺳﻤﻌﺖ ﺣﺒﻴﺒﻲ ﺍﻟﻤﺼﻄﻔﻰ ﻣﺤﻤﺪﺍ " ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻳﻘﻮﻝ : ﻛﻨﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﻧﻮﺭﺍ " ﺑﻴﻦ ﻳﺪﻱ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻣﻄﺒﻘﺎ... ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ لاﺧﻄﺐ ﺧﻮﺍﺭﺯﻡ ﺹ 145.

ان اسانید سے یہ تصریح ہوتی ہے کہ الحسن سے مقصود ابو سعید ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻰ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ بصری عدوی کی ذات ہے-

علاوہ ازیں امام احمد رحمہ الله تعالی نے جہاں اس حديث کو ذكر کیا ہے اس سے پہلے والی حديث ابو سعید ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻰ سے ہی روایت کی ہے اسی لیے اپ نے اس سند میں الحسن کہنے پہ ہی اکتفا کیا ہے,سابقہ حديث مع سند ومتن اس طرح ہے:

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺍﻟﺒﺼﺮﻱ ﻗﺜﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﻗﺜﻨﺎ ﺃﺑﻲ ﻗﺜﻨﺎ ﺍﻟﺤﻜﻢ ﺑﻦ ﻇﻬﻴﺮ ﻋﻦ ﺍﻟﺴﺪﻱ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺻﺎﻟﺢ ﻗﺎﻝ: ﺛﻢ ﻟﻤﺎ ﻋﻤﻼ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺍﻟﻮﻓﺎﺓ ﻗﺎﻝ: ﺍﻟﻠﻬﻢ ﺍﻧﻲ ﺃﺗﻘﺮﺏ ﺇﻟﻴﻚ ﺑﻮﻻﻳﺔ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ.

ابو سعید ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻰ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ بصری عدوی اور ائمہ جرح وتعدیل: 

ابو سعید حسن عدوی کے بارے میں محدثین کے اقوال پیش خدمت ہیں:

امام ﺍﺑﻦ ﻋﺪی:
-"ﻳﻀﻊ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻳﺴﺮﻕ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻳﻠﺰﻗﻪ ﻋﻠﻰ ﻗﻮﻡ ﺁﺧﺮﻳﻦ، ﻭﻳﺤﺪﺙ ﻋﻦ ﻗﻮﻡ ﻻ ﻳﻌﺮﻓﻮﻥ، ﻭﻫﻮ ﻣﺘﻬﻢ ﻓﻴﻬﻢ، ﻓﺈﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﻟﻢ ﻳﺨﻠﻘﻬﻢ".
-"ويضع علی اهل بيت رسول الله صلی الله عليه وسلم".

"رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اہل خانہ کے بارے میں حديث گڑھتا تھا"-
[ﺍﻟﻜﺎﻣﻞ ‏في ضعفاء الرجال, تح : يحيی مختار غزاوی, ط3 ,ص 338,ج 2].

امام ﺍﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ:
"الحسن بن علي بن زكريا ابو سعيد العدوي ﻣﻦ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﺒﺼﺮﺓ ﺳﻜﻦ ﺑﻐﺪﺍﺩ ،ﻳﺮﻭﻱ ﻋﻦ ﺷﻴﻮﺥ ﻟﻢ ﻳﺮﻫﻢ ،ﻭﻳﻀﻊ ﻋﻠﻰ ﻣﻦ ﺭﺁﻫﻢ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ،ﻛﺎﻥ ﺑﺒﻐﺪﺍﺩ ﻓﻲ ﺃﺣﻴﺎﺀ ﺃﻳﺎﻣﻨﺎ...". المجرحين لابن حبان.

امام دار قطنی:
"ﺃنا حمزة بن يوسف السهمي قال سالت الدار قطني عن الحسن بن علي بن صالح ﺃبي سعيد البصري قال: ﺫﺍ ﻣﺘﺮﻭﻙ . قلت :كان يسمی الذئب؟ قال :نعم".
[تكمة الاكمال لابي بكر محمد بن عبد الغني البغدادي ،تح : د.عب القيوم عبد رب النبي:، ط1، جامعة ام القری، ص661 ، ج2].

"حمزه بن یوسف سہمی کہتے ہیں کہ میں نے دار قطنی سے ابو سعید الحسن بن علی بن صالح بصری کے بارے میں استفسار کیا اپ نے فرمایا وہ متروک)کذاب( ہے ,پہر پوچھا کیا وہ الذئب کے نام سے جانا جاتا تھا ؟ اپ نے اثبات میں جواب مرحمت فرمایا"-

شیخ حمزہ بن يوسف سہمی:
"ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺒﺼﺮﻱ ﻳﻘﻮﻝ : الحسن بن علي بن زكريا ابو سعيد العدوي ﺃﺻﻠﻪ ﺑﺼﺮﻱ ،ﺳﻜﻦ ﺑﻐﺪﺍﺩ ، ﻛﺬَّﺍﺏ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠَّﻢ ، ﻳﻘﻮﻝ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠَّﻢ ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﻘﻞ".

سوالات حمزة للدارقطني: 1/221.
"حمزه بن يوسف کہتے ہیں کہ میں نے ابو محمد بصری کو یہ کہتے سنا ہے: ابو سعید الحسن بن علی بن زکریا اصلا بصری ہے ,بغداد میں سکونت اختيار کی ,رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پہ جھوٹ باندھتا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا جسے اپ نے ارشاد نہیں فرمایا"-

علامہ ابن حجر عسقلانی:
"فاما ابن عدي فقال الحسن بن علي بن صالح ابو سعيد العدوي البصري يضع الحديث". [لسان الميزان]

علامہ ذہبی:
"قلت: العدوي وضاع". [كشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث]. 

علامہ جلال الدين سيوطی:
"لان ابا سعيد العدوي كان كذابا افاكا وضاعا". [اللالي المصنوعة: 1/335].

ابن سمعان كذاب والحسن بن علي بن زكريا هو ابو سعيد العدوي احد المشهورين بوضع الحديث. [الذيل: 25].

علامہ طاہر فتنی گجراتی:
"وابو سعيد العدوي مشهور بالوضع". تذكرة الموضوعات
"ابو سعید عدوی حديث گڑھنے کے لیے مشہور ہے"-

خلاصه القول یہ ہے کہ جس محدث کے بارے میں علماء متروک واہی اور کذاب جیسے الفاظ استعمال کریں، اس کی بیان کردہ حديث قبل قبول نہ ہوگی، اور نہ اس پہ عمل کیا جائے گا، محدثین فرماتے ہیں:

"ﻭﺇﺫﺍ ﻗﺎﻟﻮﺍ ﻣﺘﺮﻭﻙ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﺃﻭ ﻭﺍﻫﻴﻪ، ﺃﻭ ﻛﺬﺍﺏ ﻓﻬﻮ ﺳﺎﻗﻂ ﻻ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻭﻻ ﻳﻌﺘﺒﺮ ﺑﻪ ﻭﻻ ﻳﺴﺘﺸﻬﺪ. [ﺗﺪﺭﻳﺐ ﺍﻟﺮﺍﻭﻱ ﻓﻲ ﺷﺮﺡ ﺗﻘﺮﻳﺐ ﺍﻟﻨﻮﻭﻱ].

"جب محدثین کسی کو مترک الحديث، واہی یا کذاب کہیں تو وہ ساقط ہوجاتا ہے، اور اس سے روایت کی گئی حديث نہیں لکہی جاتی ہے، اور نہ اس کا کچھ اعتبار ہوتاہے، اور نہ ہی اس سے استشہاد کیا جاتاہے"-

فضائل علی -رضی اللہ تعالی عنہ- میں بیان کردہ چند حدیثوں کا علمی جائزہ

كاتب.... ابو الفؤاد توحيد احمد طرابلسی
---------------------

الله کے رسول -صلی الله تعالی علیہ وسلم- کے چوتھے خلیفہ حضرت علی -رضی الله تعالی عنہ- ہیں، آپ کے فضائل میں کئی حدیثیں گڑھی گئی ہیں، یہ مختلف ادوار میں عوامی جذبات کو فرش سے عرش پہ پہونچانے کا کام کرتی رہی ہیں۔ 

بعض مقررین ایسی ہی حدیثوں کی تاک میں رہتے ہیں، ہاتھ لگتے ہی بڑی چاہ سے بیان کرتے ہیں، اور بڑے بڑے اسٹیج لمحوں میں الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں، ایسی ہی چند حدیثیں علمی تحقيق  کے ساتھ پیش خدمت ہیں:

تمھید :
الله تعالی قران کریم میں ارشاد فرماتا ہے کہ اس نے انسان کی تخليق مٹی سے کی ہے: {ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟﻨَّﺎﺱُ ﺇِﻥْ ﻛُﻨْﺘُﻢْ ﻓِﻲ ﺭَﻳْﺐٍ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﺒَﻌْﺚِ ﻓَﺈِﻧَّﺎ ﺧَﻠَﻘْﻨَﺎﻛُﻢْ ﻣِﻦْ ﺗُﺮَﺍﺏ}.

دوسری جگہ انسانی تخليق کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: {ﻭَﻣِﻦْ ﺁﻳَﺎﺗِﻪِ ﺃَﻥْ ﺧَﻠَﻘَﻜُﻢْ ﻣِﻦْ ﺗُﺮَﺍﺏ}.

چوں کہ بعد وصال انسان کو اسی مٹی میں لوٹ جانا ہے، اور ہر شخص وہاں دفن کیا جائے گا، جہاں کی خاک سے اس کی خمیر تیار کی گئی تھی، حضرت عبد الله -رضی الله تعالی عنہ- فرماتے ہیں:

"ایک حبشی کا مدینہ منورہ میں انتقال ہوگیا، اس کی خبر سرکار دو عالم -صلی الله تعالی علیہ وسلم- کو دی گئی، آپ نے فرمایا:

"دفن في الطينة التي خلق منها".[موضح اوهام الجمع والتفريق لابي بكر الخطيب البغدادي:217/2].

"اس مٹی میں دفن کیا گیا جہاں کی خاک سے اس کی پیدائش ہوئی"۔

روز جزاء ہر انسان کو دوبارہ اسی خاک سے اٹھ کہڑے ہونا ہے، {ﻣِﻨْﻬَﺎ ﺧَﻠَﻘْﻨَﺎﻛُﻢْ ﻭَﻓِﻴﻬَﺎ ﻧُﻌِﻴﺪُﻛُﻢْ ﻭَﻣِﻨْﻬَﺎ ﻧُﺨْﺮِﺟُﻜُﻢْ ﺗَﺎﺭَﺓً ﺃُﺧْﺮَﻯ}.

اس تمھید کے بعد حضرت علی رضی الله تعالی عنہ کی پیدائش کی طرف نظر کرتے ہیں، آپ سے متعلق اثنا عشریہ شیعوں کا عجیب وغريب عقیدہ ہے، جس کے مطابق رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی پیدائش ایک ہی مٹی سے ہوئی ہے، تخليق سے جو مٹی بچی اس سے ان کے ائمہ کی پیدائش ہوئی، لہذا وہ دوسروں پہ عز وشرف میں فوقیت رکہتے ہیں، اس عقیدہ کو "عقيدة الطينة" کے نام سے جانا جاتا ہے-

اس عقیدہ کے بطلان کے لیے یہی کافی ہے کہ حضرت علی -رضی اللہ تعالی عنہ- روضہ رسول -صلی اللہ تعالی علیہ وسلم- میں محو استراحت نہیں ہیں، اسی "عقیدة الطينة" کی ایک حديث پیش ہے-

ﺣﺪﻳﺚ: (( ﺧﻠﻘﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﻭﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ﻣﻦ ﻃﻴﻨﺔ ﻭﺍﺣﺪﺓ )):

اس حديث كو ابن عساکر نے بسند مرفوع حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے ابو الفرج عبد الرحمن  بن علی جوزی نے اس حديث کو اپنی کتاب "الموضوعات "میں ذكر کیا ہے جس کی سند ومتن اس طرح ہے:

انبانا ابو منصور القزاز قال انبانا ابوبكر احمد بن علي بن ثابت قال اخبرني علي بن الحسن بن محمد الدقاق قال حدثنا محمد بن اسماعيل الوراق قال حدثنا ابراهيم بن الحسين بن داود العطار قال حدثنا محمد بن خلف المروزي قال حدثنا موسی بن ابراهيم قال حدثنا موسی بن جعفر عن ابيه عن جده قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم:

ﺧﻠﻘﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﻭﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ﻣﻦ ﻃﻴﻨﺔ ﻭﺍﺣﺪﺓ".

 "رسول الله صلی الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے، ہارون بن عمران، یحيی بن زکریا اور علی کو ایک مٹی سے پیدا کیا گیا-

اس حديث کی سند پہ ایک نظر: 
سابقہ حديث کی سند میں ایک نام ابو عمران موسی بن ابراہیم بن بحر مروزی کا ہے، جن کی یحيی بن معین نے تکذیب کی ہے اور امام دار قطنی وغيره نے متروک کہا ہے-

امام ذهبی رحمه الله تعالی نے مبینہ حديث کے علاوہ دو مزید حديثوں کو بیان کیا ہے جسے موسی بن ابراہیم نے گڑھا ہے-

اب موسی بن ابراہیم مروزی کے بارے میں چند ائمہ فن کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:

شیخ محمد بن ربیع جیزی:
"رايته وكان صاحب الفقه ثم جاء الی الجامع فتفقه مع قوم هناد ثم جاء بكتاب فقه فقرا في الجامع فجاءه اصحاب الحديث فقالوا له امل علينا فاملی عليهم عن ابن لهيعة وغيره شيئا لم يسمعه قط ولم يسمع هو قط حدیثا لا ادري ايش قصة ذاك الكتاب اشتراه او استعاره او وجده".

امام عقيلی:
منكر الحديث لا يتابع علی حديثه.

شیخ ابو نعیم:
موسی ضعيف.

امام ابن عدی:
موسی بن ابراهيم شيخ مجهول حدث بالمناكير عن الثقات وغيرهم.

امام ابن حبان:
كان مغفلا يلقن فيتلقن فالستحق الترك.

ایک غلط فہمی کی نشاہدہی:
امام ذہبی رحمه الله تعالی نے اس حديث کو شیخ ابن جوزی کی کتاب سے اپنی کتاب "الموضوعات" میں نقل کیا ہے اس حديث کی درجہ بندی کرتے ہوئے ابن جوزی لکھتے ہیں:

"هذا حديث موضوع علی رسول الله صلی الله عليه وسلم والمتهم به المروزي".

جب ہم سند انبانا ابو منصور القزاز قال انبانا ابوبكر احمد بن علي بن ثابت قال اخبرني علي بن الحسن بن محمد الدقاق قال حدثنا محمد بن اسماعيل الوراق قال حدثنا ابراهيم بن الحسين بن داود العطار قال حدثنا محمد بن خلف المروزي قال حدثنا موسی بن ابراهيم قال حدثنا موسی بن جعفر عن ابيه عن جدہ پہ نظر ڈالتے ہیں تو اس میں محمد بن خلف مروزی کا نام پاتے ہیں۔

درحقيقت یہاں مروزی سے مراد موسی بن ابراہیم مروزی کی ذات ہے، مگر امام ذهبی رحمه الله تعالی کے پاس الموضوعات کا جو نسخہ تھا، اس میں موسی بن ابراہیم مروزی کا نام ساقط تھا، اس لیے امام ذہبی رحمه الله تعالی کو مغالطہ ہوا، اور آپ نے مروزی سے محمد بن خلف مروزی کی ذات کو سمجھا -

حديث: (( ﺧﻠﻘﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﻣﻦ ﻧﻮﺭ )):
اس حديث کو جعفر بن احمد بن علی نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے، اس حديث کے الفاظ یہ ہیں:

"ﺧﻠﻘﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﻣﻦ ﻧﻮﺭ، ﻭﻛﻨﺎ ﻋﻦ ﻳﻤﻴﻦ ﺍﻟﻌﺮﺵ ﻗﺒﻞ ﺃﻥ ﻳﺨﻠﻖ ﺍﻟﻠﻪ ﺁﺩﻡ ﺑﺄﻟﻔﻲ ﻋﺎﻡ، ﺛﻢ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﻠﻪ ﺁﺩﻡ ﻓﺎﻧﻘﻠﺒﻨﺎ ﻓﻲ ﺃﺻﻼﺏ ﺍﻟﺮﺟﺎﻝ، ﺛﻢ ﺟﻌﻠﻨﺎ ﻓﻲ ﺻﻠﺐ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻄﻠﺐ، ﺛﻢ ﺷﻖ ﺍﺳﻤﻴﻨﺎ ﻣﻦ ﺍﺳﻤﻪ؛ ﻓﺎﻟﻠﻪ ﺍﻟﻤﺤﻤﻮﺩ ﻭﺃﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ، ﻭﺍﻟﻠﻪ ﺍﻷﻋﻠﻰ ﻭﻋﻠﻲ ﻋﻠﻲ".

"مجھے اور علی کو ایک نور سے پیدا کیا گیا اللہ تعالی ادم علیہ السلام کو پیدا کرے، اس سے دو ہزار سال پہلے ہم عرش کی داہنی جانب تھے پہر اللہ تعالی نے ادم کو تخلیق کیا، پہر ہم لوگوں کی پیٹھ میں آگیے،  پہر ہم عبد المطلب کے صلب میں آئے، پہر اللہ تعالی نے ہمارے ناموں کو اپنے اسم گرامی سے بنایا اللہ محمود ہے، اور میں محمد ہوں اللہ اعلی ہے، اور علی علی ہے"-

اس حديث کے راویوں میں ایک نام جعفر بن احمد کا بھی ہے، جس کے بارے میں علماے جرح وتعديل کا کہنا ہے کہ یہ شخص حديث گڑھتا تھا، پہر اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف کر دیتا، چند ماہرین فن کی اراء ذيل میں مندرج ہیں، جس سے اس شخص کی كذب بیانی سمجھنے میں آسانی ہوگی:

ابن عدی (280-364ھ)
-ﻛﺘﺒﺖ ﻋﻨﻪ بمصر في الدخلة الاولی سنة تسع وتسعين مئتین وكتبت في الدخلة الثانية في سنة اربع وثلاثين مئة، ﻭﺃظن فيها ﻣﺎﺕ وحدَّﺛَﻨَﺎ وهو ﻋَﻦ ﺃﺑﻲ ﺻﺎﻟﺢ كاتب الليث ﻭﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ ﻋﻔﻴﺮ ﻭَﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻳﻮﺳﻒ ﺍﻟﺘﻨﻴﺴﻲ.... ﺑﺄﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ ،ﻛﻨﺎ ﻧﺘﻬﻤﻪ ﺑﻮﺿﻌﻬﺎ ،ﺑﻞ ﻧﺘﻴﻘﻦ ﺫﻟﻚ ،ﻭﻛﺎﻥ مع ذلك ﺭﺍﻓﻀﻴﺎ.

"میں نے اس سے سن 299 میں جب پہلی بار مصر آیا حديث لکہی اور جب دوسری بار سن 334 میں مصر انا ہوا اس وقت بھی حديث لکہی  شاید اسی سال اس کا انتقال بھی ہوا اس نے ہم سے ليث کے کاتب ابو صالح سعید بن عفیر اور عبد اللہ بن یوسف تینسی سے حديث بیان کی.... جعلی حدیثیں ہم اس پر جعل ساز ہونے کی تہمت رکہتے تھے بلکہ ہمیں اس کے جعل ساز ہونے کا یقین تھا اس کے ساتھ ساتھ وہ رافضی بھی تھا"-

-وكان يضع الحديث علی اهل البيت.
"وہ اہل بیت کے بارے میں حدیثیں گڑھتا تھا"-

-وﻋﺎﻣﺔ ﺃﺣﺎﺩﻳﺜﻪ ﻣﻮﺿﻮﻋﺔ ،ﻭﻛﺎﻥ ﻗﻠﻴﻞ ﺍﻟﺤﻴﺎﺀ ﻓﻲ ﺩﻋﺎﻭﻳﻪ ﻋﻠﻰ ﻗﻮﻡ لعله ﻟﻢ ﻳﻠﺤﻘﻬﻢ ﻭﻭﺿﻊ ﻣﺜﻞ ﻫﺬﻩ ﺍﻷﺣﺎﺩﻳﺚ وانه كان يحدثنا ﻋﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﺑﻦ ﺑﻜﻴﺮ باﺣﺎﺩﻳﺚ ﻣﺴﺘﻘﻴﻤﺔ  بنسخة الليث بمثل هذه الاحاديث التي ذكرتها عنه وغير ذلك.

ابو سعيد بن يونس بن عبد الاعلی:
"كان رافضيا كذابا يضع الحديث في سب اصحاب رسول الله صلی الله عليه وسلم".

"بھت بڑا جھوٹا رافضی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو گالی دینے کے بارے میں حديث گڑھتا تھا"-

دار قطنی (306-385ھ)
"ﻛﺎﻥ ﻳﻀﻊ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻳﺤﺪﺙ ﻋﻦ ﺍﺑﻦ ﻋﻔﻴﺮ ﺑﺎﻷﺑﺎﻃﻴﻞ".

"حديث گرھتا تھا اور ابن عفیر کی جانب نسبت کر کے باطل باتیں بیان کرتا تھا"-

عبد الغنی ازدی(332-409ھ)
"ﻭﻫﺬﺍ ﺍﻟﺮﺟﻞ ﻣﺸﻬﻮﺭ ﺑﺒﻠﺪﻧﺎ ﺑﺎﻟﻜﺬﺏ ﺗﺮﻙ ﺣﻤﺰﺓ ﺍﻟﻜﻨﺎﻧﻲ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻏﻴﺮ ﺃﻧﻪ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺑﻴﺎﻥ ﻳﻌﺮﻑ ﺑﺎﺑﻦ ﺍﻟﻤﺎﺳﺢ".

"یہ شخص ہمارے ملک میں اپنے جھوٹ کے سبب مشہور ہے، حمزہ کنانی نے اس کی حديث کو ترک کر دیا تھا، ان سب باتوں کے باجود جعفر بن احمد بن علی بن بیان "ابن ماسح" کے نام سے جانا جاتا ہے"-

ابو سعید نقاش (414ھ):
"ﺣﺪَّﺙ ﺑﻤﻮﺿﻮﻋﺎﺕ".

علامه ذہبی (673-748ھ):
"ﻭﻣﻦ ﺃﻛﺎﺫﻳﺒﻪ : ﺑﺴﻨﺪﻩ ﺇﻟﻰ ﻋﻠﻲ ﻭﺟﺎﺑﺮ ﻳﺮﻓﻌﺎﻧﻪ : ﺇﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﺧﻠﻖ ﺁﺩﻡ ﻣﻦ ﻃﻴﻦ ﻓﺤﺮﻡ ﺃﻛﻞ ﺍﻟﻄﻴﻦ ﻋﻠﻰ ﺫﺭﻳﺘﻪ ".

"اس کے جھوٹ میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے بسند مرفوع حضرت علی اور جابر رضی الله تعالی عنہما سے یہ بیان کیا ہے:
 ﺇﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﺧﻠﻖ ﺁﺩﻡ ﻣﻦ ﻃﻴﻦ ﻓﺤﺮﻡ ﺃﻛﻞ ﺍﻟﻄﻴﻦ ﻋﻠﻰ ﺫﺭﻳﺘﻪ .

بے شک اللہ تعالی نے ﺁﺩﻡ علیہ السلام کو مٹی سے پیدا فرمایا اس لیے ان کی اولاد پر مٹی کہانا حرام کردیا ہے"-

حديث:ﻛُﻨْﺖُ ﺃَﻧَﺎ ﻭَﻋَﻠِﻲٌّ ﻧُﻮﺭًﺍ ﺑَﻴْﻦَ ﻳَﺪَﻱِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻋَﺰَّ ﻭَﺟَﻞ: 
اس حديث کو امام احمد  رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب "فضائل الصحابة " 2/662 میں بسند مرفوع حضرت سلمان رضی الله تعالی عنہ سے روایت کیا ہے، حديث کے الفاظ بسند یہ ہیں:

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﻗﺜﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻘﺪﺍﻡ ﺍﻟﻌﺠﻠﻲ ﻗﺜﻨﺎ ﺍﻟﻔﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺽ ﻗﺜﻨﺎ ﺛﻮﺭ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﻋﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪﺍﻥ ﻋﻦ ﺯﺍﺫﺍﻥ ﻋﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻗﺎﻝ ﺳﻤﻌﺖ ﺣﺒﻴﺒﻲ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﻘﻮﻝ:
"ﻛُﻨْﺖُ ﺃَﻧَﺎ ﻭَﻋَﻠِﻲٌّ ﻧُﻮﺭًﺍ ﺑَﻴْﻦَ ﻳَﺪَﻱِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻋَﺰَّ ﻭَﺟَﻞَّ ، ﻗَﺒْﻞَ ﺃَﻥْ ﻳَﺨْﻠُﻖَ ﺁﺩَﻡَ ﺑِﺄَﺭْﺑَﻌَﺔَ ﻋَﺸَﺮَ ﺃَﻟْﻒَ ﻋَﺎﻡٍ ، ﻓَﻠَﻤَّﺎ ﺧَﻠَﻖَ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﺁﺩَﻡَ ﻗَﺴَﻢَ ﺫَﻟِﻚَ ﺍﻟﻨُّﻮﺭَ ﺟُﺰْﺀَﻳْﻦِ، ﻓَﺠُﺰْﺀٌ ﺃَﻧَﺎ، ﻭَﺟُﺰْﺀٌ ﻋَﻠِﻲٌّ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﺍﻟﺴَّﻼﻡ ُ".

"حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ کہتے کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: میں اور علی اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضرت  ادم علیہ السلام کی پیدائش سے چودہ ہزار سال پہلے بشکل نور تھے، جب اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اس نور کے دو حصے کیے ایک جزء میں ہوں اور ایک جزء علی ہیں"-

اس حديث کو امام احمد رحمہ اللہ تعالی کے علاوہ ابن ﻋﺴﺎﻛﺮ ,‏علی ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ طیب مغازلی, اﺧﻄﺐ ﺧﻮﺍﺭﺯمی وغيره معروف علماء نے بھی اپنی تصانیف میں بیان کیا ہے-

اس حديث کی سند پہ ایک نظر: 
مبینہ علماء نے اسے الحسن نامی محدث سے روایت کیا ہے الحسن کون ہیں ؟ان کی تعیین کے لیے اس حدیث کی کچھ اسناد ملاحظہ فرمائیں:

-ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻏﺎﻟﺐ ﺑﻦ ﺍﻟﺒﻨﺎ ﺃﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺠﻮﻫﺮﻱ ﺃﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﺍﻟﻌﻄﺸﻲ ﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺳﻌﻴﺪ ﺍﻟﻌﺪﻭﻱ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺃﻧﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻘﺪﺍﻡ ﺍﻟﻌﺠﻠﻲ ﺃﺑﻮ ﺍﻷﺷﻌﺚ ﺃﻧﺎ ﺍﻟﻔﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺽ ﻋﻦ ﺛﻮﺭ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﻋﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪﺍﻥ ﻋﻦ ﺯﺍﺫﺍﻥ ﻋﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻗﺎﻝ ﺳﻤﻌﺖ ﺣﺒﻲ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ... ﺗﺎﺭﻳﺦ ﺩﻣﺸﻖ لابن عساكر ‏:42/67 .

-ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﻏﺎﻟﺐ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺳﻬﻞ ﺍﻟﻨﺤﻮﻱ ﺭﺣﻤﻪ ﺍﻟﻠﻪ ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﺃﺑﻮ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺍﻟﺤﻠﺒﻲ ﺍﻻﺧﺒﺎﺭﻱ ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﻌﺪﻭﻱ ﺍﻟﺸﻤﺸﺎﻃﻲ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻘﺪﺍﻡ ﺍﻟﻌﺠﻠﻲ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﻔﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺽ ﻋﻦ ﺛﻮﺭ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﻋﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪﺍﻥ ، ﻋﻦ ﺯﺍﺫﺍﻥ ، ﻋﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻗﺎﻝ...ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ لعلي بن محمد بن الطيب المغازلي: ﺹ 87.

-ﻭﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﺷﻬﺮﺩﺍﺭ ﻫﺬﺍ ﺍﺟﺎﺯﺓ ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﺒﺪﻭﺱ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻬﻤﺪﺍﻧﻲ ﻛﺘﺎﺑﺔ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻋﻠﻲ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﺍﻟﻌﻄﺸﻲ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺳﻌﻴﺪ ﺍﻟﻌﺪﻭﻱ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﻟﻤﻘﺪﺍﻡ ﺍﻟﻌﺠﻠﻲ ﺃﺑﻮ ﺍﻷﺷﻌﺚ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﻔﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺽ ﻋﻦ ﺛﻮﺭ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ ﻋﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪﺍﻥ ﻋﻦ ﺯﺍﺫﺍﻥ ﻋﻦ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻗﺎﻝ : ﺳﻤﻌﺖ ﺣﺒﻴﺒﻲ ﺍﻟﻤﺼﻄﻔﻰ ﻣﺤﻤﺪﺍ " ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻳﻘﻮﻝ : ﻛﻨﺖ ﺃﻧﺎ ﻭﻋﻠﻲ ﻧﻮﺭﺍ " ﺑﻴﻦ ﻳﺪﻱ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻣﻄﺒﻘﺎ... ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ لاﺧﻄﺐ ﺧﻮﺍﺭﺯﻡ ﺹ 145.

ان اسانید سے یہ تصریح ہوتی ہے کہ الحسن سے مقصود ابو سعید ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻰ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ بصری عدوی کی ذات ہے-

علاوہ ازیں امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے جہاں اس حديث کو ذكر کیا ہے اس سے پہلے والی حديث ابو سعید ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻰ سے ہی روایت کی ہے اسی لیے اپ نے اس سند میں الحسن کہنے پہ ہی اکتفا کیا ہے,سابقہ حديث مع سند ومتن اس طرح ہے:

ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻲ ﺍﻟﺒﺼﺮﻱ ﻗﺜﻨﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﺤﻴﻰ ﻗﺜﻨﺎ ﺃﺑﻲ ﻗﺜﻨﺎ ﺍﻟﺤﻜﻢ ﺑﻦ ﻇﻬﻴﺮ ﻋﻦ ﺍﻟﺴﺪﻱ ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺻﺎﻟﺢ ﻗﺎﻝ ﺛﻢ ﻟﻤﺎ ﻋﻤﻼ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺍﻟﻮﻓﺎﺓ ﻗﺎﻝ ﺍﻟﻠﻬﻢ ﺍﻧﻲ ﺃﺗﻘﺮﺏ ﺇﻟﻴﻚ ﺑﻮﻻﻳﺔ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ.

ابو سعید ﺣﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﻠﻰ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ بصری عدوی اور ائمہ جرح وتعدیل: 

ابو سعید حسن عدوی کے بارے میں محدثین کے اقوال پیش خدمت ہیں:

امام ﺍﺑﻦ ﻋﺪی:
-ﻳﻀﻊ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻳﺴﺮﻕ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﻭﻳﻠﺰﻗﻪ ﻋﻠﻰ ﻗﻮﻡ ﺁﺧﺮﻳﻦ ، ﻭﻳﺤﺪﺙ ﻋﻦ ﻗﻮﻡ ﻻ ﻳﻌﺮﻓﻮﻥ ﻭﻫﻮ ﻣﺘﻬﻢ ﻓﻴﻬﻢ ﻓﺈﻥ ﺍﻟﻠﻪ ﻟﻢ ﻳﺨﻠﻘﻬﻢ .
-ويضع علی اهل بيت رسول الله صلی الله عليه وسلم.

"رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے اہل خانہ کے بارے میں حديث گڑھتا تھا"-
[ﺍﻟﻜﺎﻣﻞ ‏في ضعفاء الرجال, تح : يحيی مختار غزاوی, ط3 ,ص 338,ج 2].

امام ﺍﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ:
"الحسن بن علي بن زكريا ابو سعيد العدوي ﻣﻦ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﺒﺼﺮﺓ ﺳﻜﻦ ﺑﻐﺪﺍﺩ ،ﻳﺮﻭﻱ ﻋﻦ ﺷﻴﻮﺥ ﻟﻢ ﻳﺮﻫﻢ ،ﻭﻳﻀﻊ ﻋﻠﻰ ﻣﻦ ﺭﺁﻫﻢ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ،ﻛﺎﻥ ﺑﺒﻐﺪﺍﺩ ﻓﻲ ﺃﺣﻴﺎﺀ ﺃﻳﺎﻣﻨﺎ...". المجرحين لابن حبان.

امام دار قطنی:
"ﺃنا حمزة بن يوسف السهمي قال سالت الدار قطني عن الحسن بن علي بن صالح ﺃبي سعيد البصري قال: ﺫﺍ ﻣﺘﺮﻭﻙ . قلت :كان يسمی الذئب؟ قال :نعم".
[تكمة الاكمال لابي بكر محمد بن عبد الغني البغدادي ،تح : د.عب القيوم عبد رب النبي:، ط1، جامعة ام القری، ص661 ، ج2].

"حمزه بن یوسف سہمی کہتے ہیں کہ میں نے دار قطنی سے ابو سعید الحسن بن علی بن صالح بصری کے بارے میں استفسار کیا اپ نے فرمایا وہ متروک)کذاب( ہے ,پہر پوچھا کیا وہ الذئب کے نام سے جانا جاتا تھا ؟ اپ نے اثبات میں جواب مرحمت فرمایا"-

شیخ حمزہ بن يوسف سہمی:
"ﺳﻤﻌﺖ ﺃﺑﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﺍﻟﺒﺼﺮﻱ ﻳﻘﻮﻝ : الحسن بن علي بن زكريا ابو سعيد العدوي ﺃﺻﻠﻪ ﺑﺼﺮﻱ ،ﺳﻜﻦ ﺑﻐﺪﺍﺩ ، ﻛﺬَّﺍﺏ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠَّﻢ ، ﻳﻘﻮﻝ ﻋﻠﻰ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠَّﻢ ﻣﺎ ﻟﻢ ﻳﻘﻞ".

سوالات حمزة للدارقطني: 1/221.
"حمزه بن يوسف کہتے ہیں کہ میں نے ابو محمد بصری کو یہ کہتے سنا ہے: ابو سعید الحسن بن علی بن زکریا اصلا بصری ہے ,بغداد میں سکونت اختيار کی ,رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پہ جھوٹ باندھتا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا جسے اپ نے ارشاد نہیں فرمایا"-

علامہ ابن حجر عسقلانی:
"فاما ابن عدي فقال الحسن بن علي بن صالح ابو سعيد العدوي البصري يضع الحديث". [لسان الميزان]

علامہ ذہبی:
"قلت: العدوي وضاع". [كشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث]. 

علامہ جلال الدين سيوطی:
"لان ابا سعيد العدوي كان كذابا افاكا وضاعا". [اللالي المصنوعة: 1/335].

ابن سمعان كذاب والحسن بن علي بن زكريا هو ابو سعيد العدوي احد المشهورين بوضع الحديث. [الذيل: 25].

علامہ طاہر فتنی گجراتی:
"وابو سعيد العدوي مشهور بالوضع". تذكرة الموضوعات
"ابو سعید عدوی حديث گڑھنے کے لیے مشہور ہے"-

خلاصه القول یہ ہے کہ جس محدث کے بارے میں علماء متروک واہی اور کذاب جیسے الفاظ استعمال کریں، اس کی بیان کردہ حديث قبل قبول نہ ہوگی، اور نہ اس پہ عمل کیا جائے گا، محدثین فرماتے ہیں:

"ﻭﺇﺫﺍ ﻗﺎﻟﻮﺍ ﻣﺘﺮﻭﻙ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﺃﻭ ﻭﺍﻫﻴﻪ، ﺃﻭ ﻛﺬﺍﺏ ﻓﻬﻮ ﺳﺎﻗﻂ ﻻ ﻳﻜﺘﺐ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﻭﻻ ﻳﻌﺘﺒﺮ ﺑﻪ ﻭﻻ ﻳﺴﺘﺸﻬﺪ. [ﺗﺪﺭﻳﺐ ﺍﻟﺮﺍﻭﻱ ﻓﻲ ﺷﺮﺡ ﺗﻘﺮﻳﺐ ﺍﻟﻨﻮﻭﻱ].

"جب محدثین کسی کو مترک الحديث، واہی یا کذاب کہیں تو وہ ساقط ہوجاتا ہے اور اس سے روایت کی گئی حديث نہیں لکہی جاتی ہے اور نہ اس کا کچھ اعتبار ہوتاہے اور نہ ہی اس سے استشہاد کیا جاتاہے"-

الخميس، 16 مايو 2019

حديث رسول -صلی الله تعالی علیه وسلم- (ﻻ ﺣﺴَﺪَ ﺇﻻ ﻓﻲ ﺍﺛﻨﺘﻴﻦ) کی تشریح وتوضيح

کاتب......: أبو الفؤاد توحيد احمد عليمی
...***....***....***....***....***....***....***....***...

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام علی سيد المرسلين، وعلی اله، واصحابه، واتباعه إلی يوم الدين.

صحابی رسول حضرت عبد الله ﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩ -ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ تعالی عنهما- فرماتے ہیں:

"ﻗﺎﻝ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ -ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭسلم-  (ﻻ ﺣﺴَﺪَ ﺇﻻ ﻓﻲ ﺍﺛﻨﺘﻴﻦ؛
- ﺭﺟﻞٌ ﺁﺗﺎﻩ ﺍﻟﻠﻪ ﻣﺎﻟًﺎ ﻓﺴﻠَّﻄﻪ ﻋﻠﻰ ﻫﻠَﻜﺘﻪ ﻓﻲ ﺍﻟﺤﻖ.
- ﻭﺭجلٌ ﺁﺗﺎﻩ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺤﻜﻤﺔَ ﻓﻬﻮ ﻳﻘﻀﻲ ﺑﻬﺎ ﻭﻳﻌﻠِّﻤﻬﺎ). [متفق عليه].

"رسول الله -صلی الله تعالی علیه وسلم- نے ارشاد ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: "ﺣﺴﺪ [ﺭﺷﮏ] ‏دو لوگوں کے ساتھ ہی درست ہے:
1⃣ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ‏سے ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍلله تعالی ﻧﮯ دولت عطا کی ﺍﻭﺭ اسے [راہ] حق میں خرچ کرنے کی ﺗﻮﻓﯿﻖ دی-

2⃣اور ﺍﺱ ﺷﺨﺺ سے ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍلله تعالی ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﻭﺣﮑﻤﺖ سے نوازا، جس کے ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺳﮯ وہ ﻓﯿﺼﻠﮯ ‏کرتا ہو اور ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ دیتا ہو"-

اس حديث سے مستفاد بعض فوائد:

★ اپنے مال وعلم سے لوگوں کو فیضیاب کرنا احسان کے قبیل سے ہے، جس کا کوئی بدیل نہیں-

★ اس حديث میں "حسد" کا لفظ وارد ہوا ہے، یہ لفظ دو معنی پہ دلالت کرتا ہے، ایک یہ کہ کسی نعمت کی خواہش کرنا اور دوسرے کے پاس سے اس نعمت کے زوال کا متمنی ہونا-

دوسرا معنی "غبطه" کا ہے، یعنی کسی نعمت کی ارزو ہو، مگر دوسرے کے پاس سے اس کا زوال ہوجائے اس کی خواہش نہ ہو، جسے رشک کہا جاتا ہے، اس امر کی صراحت حضرت ابو ہریرہ -رضی الله تعالی عنہ- کی روایت سے ہوتی ہے، جس میں ہے:

"ﻻ ﺗﺤﺎﺳﺪ ﺇﻻ ﻓﻲ ﺍﺛﻨﺘﻴﻦ؛
- ﺭﺟﻞ ﺁﺗﺎﻩ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ، ﻓﻬﻮ ﻳﺘﻠﻮﻩ ﺁﻧﺎﺀ ﺍﻟﻠﻴﻞ ﻭﺁﻧﺎﺀ ﺍﻟﻨﻬﺎﺭ، ﻓﻬﻮ ﻳﻘﻮﻝ: ﻟﻮ ﺃﻭﺗﻴﺖ ﻣﺜﻞ ﻣﺎ ﺃﻭﺗﻲ ﻫﺬﺍ ﻟﻔﻌﻠﺖ ﻛﻤﺎ ﻳﻔﻌﻞ. 

- ﻭﺭﺟﻞ ﺁﺗﺎﻩ ﺍﻟﻠﻪ ﻣﺎﻻ، ﻓﻬﻮ ﻳﻨﻔﻘﻪ ﻓﻲ ﺣﻘﻪ، ﻓﻴﻘﻮﻝ: ﻟﻮ ﺃﻭﺗﻴﺖ ﻣﺜﻞ ﻣﺎ ﺃﻭﺗﻲ، ﻋﻤﻠﺖ ﻓﻴﻪ ﻣﺜﻞ ﻣﺎ یعمل".

★ لغت کی مشہور کتاب "الصحاح" میں "غبطہ" کے بارے میں ہے:

"ﺍﻟﻐﺒﻂ ﺿﺮﺏ ﻣﻦ ﺍﻟﺤﺴﺪ، ﻭﻫﻮ ﺃﺧﻒ ﻣﻨﻪ".
"رشک حسد کی ایک قسم ہے، یہ حسد سے اخف ہے"۔ 

علامہ اﺑﻦ ﺣﺠﺮ عسقلانی -رحمه الله تعالی- "ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﻱ"میں فرماتے ہیں:

"ﻭﺃﻣﺎ ﺍﻟﺤﺴﺪ ﺍﻟﻤﺬﻛﻮﺭ ﻓﻲ ﺍﻟﺤﺪﻳﺚ ﻓﻬﻮ ﺍﻟﻐﺒﻄﺔ، ﻭﺃﻃﻠﻖ ﺍﻟﺤﺴﺪ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻣﺠﺎﺯﺍ، ﻭﻫﻲ ﺃﻥ ﻳﺘﻤﻨﻰ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻣﺜﻞ ﻣﺎ ﻟﻐﻴﺮﻩ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﺃﻥ ﻳﺰﻭﻝ ﻋﻨﻪ، ﻭﺍﻟﺤﺮﺹ ﻋﻠﻰ ﻫﺬﺍ یسمی منافسة".

"حديث میں جو حسد مذكور ہوا، اس سے مراد رشک ہے، مجازا اسے حسد کہا گیا ہے، رشک ایسی ارزو کرنا کہ اس کے پاس بھی دوسرے کی طرح ہو، اور فرد اخر سے وہ چیز زائل نہ ہو اور اس پر حرص رکھنے کو منافست کہتے ہیں"۔

★ علامہ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺒﺮ رحمه الله تعالی اس حديث کی شرح میں فرماتے ہیں:

"ﻓﻜﺄﻧﻪ -ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ- ﻗﺎﻝ ﻻ ﺣﺴﺪ، ﻭﻟﻜﻦ ﺍﻟﺤﺴﺪ ﻳﻨﺒﻐﻲ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻲ ﻗﻴﺎﻡ ﺍﻟﻠﻴﻞ ﻭﺍﻟﻨﻬﺎﺭ ﺑﺎﻟﻘﺮﺁﻥ، ﻭﻓﻲ ﻧﻔﻘﺔ ﺍﻟﻤﺎﻝ ﻓﻲ ﺣﻘﻪ، ﻭﺗﻌﻠﻴﻢ ﺍﻟﻌﻠﻢ ﺃﻫﻠﻪ".

★ مال ودولت کو  فی سبیل الله خرچ کرے، اپنی نفسیاتی خواہش، فساد اور اسراف کے مد میں نہ اڑائے، الله تعالی کے ارشاد {ﻣَﻦْ ﻋَﻤِﻞَ ﺻَﺎﻟِﺤﺎً ﻣِﻦْ ﺫَﻛَﺮٍ ﺃَﻭْ ﺃُﻧْﺜَﻰ ﻭَﻫُﻮَ ﻣُﺆْﻣِﻦٌ ﻓَﻠَﻨُﺤْﻴِﻴَﻨَّﻪُ ﺣَﻴَﺎﺓً ﻃَﻴِّﺒَﺔ} کا مصداق ہو رہے۔

★ یہ حديث اعمال خير میں منافست کی اباحت پر دلالت کرتی ہے، جس کی اجازت قران کریم میں بھی ائی ہے، ارشاد ربانی ہے:
{ﻓﺎﺳﺘﺒﻘﻮﺍ ﺍﻟﺨﯿﺮﺍﺕ}. [ﺍﻟﻤﺎﺋﺪﮦ] .
"تو ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ مسابقت کرو".

★ مال وزر کی خواہش تکمیل شہوات کے لیے ہرگز نہ کرے۔

★ حديث میں ایک لفظ حكمت بھی مذكور ہوا ہے، حكمت قول وفعل کے اتفاق کو کہتے ہیں۔

سابقہ معنی کے علاوہ "ﺣﻜﻤﺔ" کے کئی معانی ہیں، جس میں سے چند بطور ہدیہ پیش ہیں:

حكمت بمعنی قران:
امام بخاری -رحمه الله تعالی- نے سابقہ حديث کو صحابہ رسول حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ تعالی عنہ- سے بھی روایت کیا ہے، اس روایت میں ہے:

"ﻻ ﺣﺴﺪ ﺇﻻ ﻓﻲ ﺍﺛﻨﺘﻴﻦ... ﻭﺭﺟﻞ ﺁﺗﺎﻩ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ، ﻓﻬﻮ ﻳﻘﻮﻡ ﺑﻪ ﺁﻧﺎﺀ ﺍﻟﻠﻴﻞ، ﻭﺁﻧﺎﺀ ﺍﻟﻨﻬﺎﺭ".

حكمت بمعنی سنت:
ارشاد ربانی ہے: {ﻭَﺃَﻧْﺰَﻝَ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﺍﻟْﻜِﺘَﺎﺏَ ﻭَﺍﻟْﺤِﻜْﻤَﺔَ}. [ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ 113].

حكمت بمعنی دینی معرفت:
حضرت ﺍﺑﻦ ﻭﻫﺐ کہتے ہیں: 
ﻗﻠﺖ ﻟﻤﺎﻟﻚ: ﻣﺎ ﺍﻟﺤﻜﻤﺔ؟ 
ﻗﺎﻝ: ﺍﻟﻤﻌﺮﻓﺔ ﺑﺎﻟﺪﻳﻦ، ﻭﺍﻟﻔﻘﻪ ﻓﻲ ﺍﻟﺪﻳﻦ، ﻭﺍﻻﺗﺒﺎﻉ ﻟﻪ. 

"میں نے امام مالک سے پوچھا: حكمت کیا ہے؟
فرمایا: دین کی معرفت، فقہ کی سمجھ اور اس کی اتباع"-

حكمت بمعنی دین:
ﺍﺑﻦ ﺯﻳﺪ کہتے ہیں:
"ﺍﻟﺤﻜﻤﺔ ﺍﻟﺪﻳﻦ ﺍﻟﺬﻱ ﻻ ﻳﻌﺮﻓﻮﻧﻪ ﺇﻻ ﺑﻪ -ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ-، ﻳﻌﻠﻤﻬﻢ ﺇﻳﺎﻫﺎ".

★ امام نووی -رحمه الله تعالی- فرماتے ہیں:
"ﺍﻟﺤِﻜْﻤَﺔ: ﻋﺒﺎﺭﺓ ﻋﻦ ﺍﻟﻌﻠﻢ، ﺍﻟﻤﺘَّﺼﻒ ﺑﺎﻷﺣﻜﺎﻡ، ﺍﻟﻤﺸﺘﻤﻞ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻤﻌﺮﻓﺔ ﺑﺎﻟﻠﻪ ﺗﺒﺎﺭﻙ ﻭﺗﻌﺎﻟﻰ، ﺍﻟﻤﺼﺤﻮﺏ ﺑﻨﻔﺎﺫ ﺍﻟﺒﺼﻴﺮﺓ، ﻭﺗﻬﺬﻳﺐ ﺍﻟﻨَّﻔﺲ، ﻭﺗﺤﻘﻴﻖ ﺍﻟﺤﻖِّ، ﻭﺍﻟﻌﻤﻞ ﺑﻪ، ﻭﺍﻟﺼﺪِّ ﻋﻦ ﺍﺗِّﺒﺎﻉ ﺍﻟﻬﻮﻯ ﻭﺍﻟﺒﺎﻃﻞ، ﻭﺍﻟﺤَﻜِﻴﻢ ﻣﻦ ﻟﻪ ﺫﻟﻚ".

★ سابقہ حديث میں حكمت سے کیا مقصود ہے؟ اس بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں، عام طور پہ دین اور اس کی فہم مراد لیا گیا ہے، جس کا حصول علم کے واسطہ سے ممکن ہے۔

حرف اخر: 
روز قیامت مال ودولت اور دوسرے اعمال کے ساتھ علم کی بھی پرشش ہوگی، حديث شريف میں ہے: "ﻭﻋﻦ علمه ﻓﯿﻢ ﻓﻌﻞ".

لہذا اہل ایمان کو غير نفع بخش علم سے اجتناب کرنا چاہیے، الله تعالی کی بارگاہ میں ہمیشہ  یہ دعا کرتے رہنا چاہیے:

 "اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع".
"ﺍﮮ ﺍلله، ﻣﯿﮟ ﻏﯿﺮ ﻧﻔﻊ ﺑﺨﺶ ﻋﻠﻢ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﭘﻨﺎﮦ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ"-
---------------------