التسميات

الأربعاء، 6 ديسمبر 2023

شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ

سالوں کے انتظار کے بعد بالآخر وہ حسین گھڑی آگئی، جب یہ کتاب شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام پریس کے حوالے ہو رہی ہے۔ اردو زبان میں شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام پر بہت لکھا گیا ہے، مگر عمومی طور پر طوفان نوح اور قوم نوح کے مظالم کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کرنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام میں آپ سب سے زیادہ عمر پانے والے ہیں۔ چنان چہ آپ کی دعوت وتبلیغ کا کام صدیوں پر محیط ہے، مگر صد افسوس کی آپ کے اسلوب دعوت وتبلیغ پر اردو زبان میں مستقل کوئی کتاب معارض وجود میں نہیں آپائی، لھذا اس خلا کو بھی پُر کرنے کی یہ ایک کوشش ہے، امید ہے دیگر اہل قلم اس جانب متوجہ ہونگے۔
اس سال طباعت ہونے والی ناچیز کی یہ دوسری کتاب ہے، اس سے قبل صراط پبلکیشنز سے "کیا دہن نبوت سے نکلے ہر بات وحی الہی ہے؟" نام کتاب شائع ہوچکی ہے۔ حسب معمول اس کتاب کی طباعت بھی اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن کے بانی عالی جناب ابو البرکات بشارت علی صاحب کے مرہون منت ہے، جس کے لیے میں آپ کا سراپا سپاس ہوں۔ ابو الفواد توحید احمد طرابلسی نزیل حال- ممبئی 6/دسمبر 2023ء، بروز بدھ

شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ

::: شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت و تبلیغ - ایک تعارف ::: انبیاءکرام میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوتی زندگی اپنی قوم کے لیے سب سے زیادہ مدت یعنی لگ بھگ ۹۵۰ سال تک رہی۔ قرآن مجید میں جن پانچ انبیاء کرام کو "اولوالعزم" قرار دیا گیا ہے، ان میں آپ کی ذات گرامی بھی ایک ہے، بلکہ اولو العزم انبیاء میں آپ ہی سرفہرست ہیں، اسی طرح قرآن مجید میں ایک مکمل سورت آپ کے نام گرامی سے موسوم ہے اور تقریبا 43 بار آپ کا اسم قرآن مجید میں مختلف مقامات پر بڑے ہی دل چسپ انداز میں آیا ہے۔ شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کی سیرت اور دعوتی اسلوب پر ہمارے محب گرامی علامہ توحید احمد طرابلسی صاحب* نے ایک جامع کتاب، 60 سے زائد مستند اور قیمتی مصادر و مراجع کی روشنی میں قلم بند فرمائی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور انوکھا کام ہے۔ کتاب کُل چھہ (6) ابواب پر مشتمل ہے۔ *پہلا باب* حیات نوح علیہ السلام پر مشتمل ہے۔ *دوسرا باب* حضرت نوح علیہ السلام کا مقصد بعثت کی تفاصیل پر لکھا گیا ہے۔ *تیسرا باب* حضرت نوح علیہ السلام کی داعیانہ صفات پر تحریر کیا گیا ہے۔ *چوتھا باب* قوم نوح کی صفات پر قلم بند کیا گیا ہے۔ *پانچواں باب* حضرت نوح علیہ السلام کے اہل خانہ کی بے وفائی کے داستان پر لکھا گیا ہے۔ *چھٹا باب* حضرت نوح علیہ السلام کے اسلوب دعوت و تبلیغ پر ۵ فصلوں میں تقسیم کرتے ہوئے لکھا گیا ہے۔ *پہلی فصل* میں حضرت نوح علیہ السلام کی مزاج شناسی پر ۵ مطالب پیش کیے گئے ہیں۔ *دوسری فصل* حضرت نوح علیہ السلام کو دی گئی بشارتوں پر مبنی ہے۔ *تیسری فصل* میں ترغیبات نوح علیہ السلام بیان کیے گئے ہیں۔ *چوتھی فصل* میں ترھیبات نوح علیہ السلام اور *پانچویں فصل* میں تفکیر نوح علیہ السلام پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ بقول بعض علما اور مشائخ یہ کتاب مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب قبلہ کی اب تک کہ سب سے اہم اور اپنے موضوع پر اردو میں اولین کتاب ہے۔ کتاب پر حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شفیق الرحمن عزیزی مصباحی صاحب قبلہ (سربراہ اعلی دار العلوم علیمیہ، جمدا شاہی، انڈیا و مفتی اعظم ہالینڈ)، نوجوان ادیب و صحافی علامہ مولانا محسن رضا مصباحی صاحب اور علامہ مولانا اعجاز احمد نظامی جامعی صاحب قبلہ جیسے اکابر اور حساس علماے اہل سنت کی تقاریظ شامل ہیں۔ کتاب کا انتساب مؤلف نے اپنے مربی و استاذ حضرت علامہ مولانا محمد تفسیر القادری قیامی علیہ الرحمہ کے نام کیا ہے۔ میں نے اپنی عادت کے مطابق آخر میں مولانا موصوف کی تفصیلی پروفائل بھی شامل کرنا مناسب سمجھا، جس سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں اور تحریری خدمات بھی اجاگر ہو جائیں، اور لوگ ان کی خاموش تحقیقی خدمات کے معترف بھی ہوں اور قدر دان بھی ہوں۔ مؤلف کتاب علامہ توحید احمد طرابلسی صاحب میرے اور میرے ادارے اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن کے قدیم علمی معاون اور رفیق رہے ہیں۔ مولانا صاحب کے ساتھ مل کر کچھ ایک درجن سے زائد کتابوں پر کام کرنے اور تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا ہے، کچھ کتابیں ہمارے ادارے سے منظر عام پر بھی آچکی ہیں۔ بہت سی ان شاءاللہ تعالی اس سال اور اگلے سال تک سامنے آجائیں گی۔ امید ہے کہ یہ کتاب بھی موصوف کی سابقہ کتابوں کی طرح علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔ بشارت علی صدیقی اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد دکن

الاثنين، 30 أكتوبر 2023

ایک شخص سارے گھر کو ویران کر گیا

اک شخص سارے گھر کو ویران کر گیا ----------- موت ایک اٹل حقیقت ہے، اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، مگر بعض لوگوں کا جانا پورے اہل خانہ یا گاؤں یا شہر یا ملک کے لیے غم ناک ہو جاتا ہے، جامعہ غوثیہ نجم العلوم سنی دعوت اسلامی ممبئی کے مشہور استاد حضرت مولانا مظہر حسین علیمیؔ صاحب کے والد گرامی ابھی کچھ وقت پہلے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں، جس سے احباب و اقارب می غم کی لہر دوڑ گئی ہے، إنا لله وإنا إليه راجعون۔ آپ کی رحلت اہل خانہ، احباب ومتعلقین کے لیے ایک سانحہ جانکاہ ہے، میں اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے حضرت مولانا مظہر حسین علیمیؔ صاحب اور آپ کے اہل خانہ کو تعزیت پیش کرتا ہوں اور اس مصیبت کی گھڑی میں ہم آپ کے شریک غم ہیں: اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے الله تعالی مرحوم کے صغائر وکبائر اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے وطفیل معاف فرمائے، آخرت کی ساری منازل کو آسان کرے اور روز حشر لواء الحمد تلے اٹھائے۔ نیز مولانا موصوف اور آپ کے اہل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازے اور اس پر اجر جزیل بھی عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔ سوگوار ابو الفواد توحید احمد طرابلسی فاضل- کلیۃ الدعوۃ الاسلامیۃ، طرابلس، لیبیا مقیم حال- ممبئی

الخميس، 5 أكتوبر 2023

عالی جناب سلیم انصاری ادروی صاحب کا ایک تبصریاتی فیس بک پوسٹ

یہ ہیں عزیزم توحید احمد طرابلسی Tauhid Ahmad فاضل لیبیا اور فیض یافتہ دبستان علیمیہ۔ ان کی تصنیفات وتالیفات کے موضوعات سے معلوم چلتا ہے کہ انہیں قرآنیات، حدیثیات اور اصلاحیات میں خاص دل چسپی ہے۔ ویسے موصوف نے برصغیر کے سنی علما کی قرآنی وتفسیری خدمات سے متعلق میرے لکھے کئی کتابچے اور مضامین کو اپنے پیج علمائے برصغیر کی تفسیری خدمات پر اپلوڈ کیا تھا۔ جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ ❤ ❤

الأربعاء، 27 سبتمبر 2023

موت العالم موت العالم

جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہيں کہيں سے آب بقائے دوام لے ساقي! ----- امیر القلم حضرت مولانا مقبول احمد سالک مصباحی بانی ومہتمم جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی دہلی (ساکن وپوسٹ لال پور، ضلع مہراج گنج، یوپی) اس دار فانی سے دار جاودانی کی طرف کوچ فرما چکے ہیں، إنا لله وإنا إلیه راجعون. آپ کی رحلت ملت اسلامیہ کے لیے ایک بہت بڑا خسارہ ہے، خاص کر اہل دہلی کے لیے یہ خبر جان گسل ہے، ابھی چند ماہ قبل علامہ یاسین اختر مصباحی صاحب کے سانحہ ارتحال سے اہل دہلی سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ یہ دوسرا حادثہ رونما ہوگیا، جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ اس کم مایہ کی آپ سے ایک ملاقات ہے، 2011 میں جب بیرون ملک تعلیم کے غرض سے جانا تھا، اس وقت استاذ گرامی حضرت مولانا محمد معراج الحق بغدادی صاحب کی معیت میں دہلی حاضر ہوا، تاکہ ویزا کا حصول کیا جاسکے، رہائش کے لیے مٹیا محل گئے، مگر حسن اتفاق وہاں سالک مصباحی صاحب سے ملاقات ہوگئی، جب انھوں نے یہ سنا کہ بغدادی صاحب ہوٹل میں قیام کرنا چاہتے ہیں تو کافی ناراض ہوئے اور اپنے ساتھ جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی لے گئے۔ اتفاق سے ان دنوں لیبیا کا ایک جہاز لینڈنگ کے وقت کریش ہوگیا تھا، جس میں عام لوگوں کے ساتھ کئی حکومتی عہدے داران اور وزراء بھی مارے گئے تھے، اس لیے ملکی سطح پر چند ایام کے سوگ کا اعلان ہوا تھا، جس کی بنا پر سفارت خانہ بند تھا اور ویزا ملنا دشوار ہو رہا تھا، ادھر علیمیہ میں تدریس جاری تھی، اس لیے بغدادی صاحب مجھے جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی میں مولانا سالک مصباحی کے زیر نگرانی چھوڑ کر واپس جمدا شاہی تشریف لے گئے۔ دہلی میں رہتے ہوئے جن کاغذات پر مہر یا ترجمے کی ضرورت محسوس ہوئی، اسے سالک صاحب نے خود جا کر کروایا اور اکثر کا صرفہ بھی خود برداشت کیا، جب میں دینے کی کوشش کرتا تو کہتے ابھی طالب علم ہو، جب کمانا تب دینا۔ انہی ایام میں ایک دفعہ بائیک سے سفارت خانہ بھی لے گئے اور مسلسل رابطہ کی کوشش بھی کی، مگر ٹیلیکس نمبر ہوتے ہوئے بھی تقریباً ایک ہفتہ لگ گیا، تب جاکر کہیں یہ نوید آئی کہ آکر ویزہ لگوا لیں، اس وقت بھی آپ نے بائیک سے لے چلنے کی پیشکش کی، مگر میں نے بائیک سے جانے سے منع کردیا، کیونکہ ایک بار آپ کی برق رفتاری اور کم جگہ میں چابک دستی سے نکلنے کی مہارت دیکھ چکا تھا، خیر تب بھی آپ نے اکیلے نہ جانے دیا، محترم طبرانی صاحب کو ساتھ میں روانہ کیا۔ تب سے آپ سے روابط ہیں، گاہے گاہے آپ کی طرف سے یا میری طرف سے سوشل میڈیا پر پوسٹ وغیرہ کا بھی تبادل ہوتا رہتا تھا، ابھی چند ماہ قبل جب میں نے ملیشیا کی ایک یونیورسٹی کے اعلان داخلہ کو فیس بک پر شیئر کیا تو آپ نے فون کیا اور تفصیل جاننا چاہی، آپ کا ارادہ وہاں سے پی ایچ ڈی کرنے کا تھا، مگر وہاں یونیورسٹی میں کوئی رابطہ کا بندہ نہیں ملا، جس کے سبب معاملہ آگے نہیں بڑھ پایا۔ آج جب آپ رخصت ہوگئے ہیں تو آپ کی شفقتیں اور آپ کی نصیحتیں یاد آ رہی ہیں، آپ کی قلمی، لسانی اور تعمیری خدمات کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرپائے گی۔ الله رب العزت آپ کو اپنے حبیب کے صدقے جنت الفردوس میں اعلی سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور آپ کے پسماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۔ ابو الفواد توحید احمد طرابلسی رے روڈ، ممبئی 27/ستمبر 2023

خطبات حضور شیخ الھند قدس سرہ جلد اول

خطبات حضور شیخ الھند قدس سرہ جلد اول --------------------------------- لوگوں کی رشد وہدایت کے لیے اولین ذریعہ تواصل تقریر ہی ہے، جب ہابیل اور قابیل کے شرعی معاملات نے سنگین رخ اختیار کر لیا اور معاملہ قتل کی دھمکی تک جا پہونچا تو ہابیل نے قابیل کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ۔ انسانی تاریخ میں زمین پر یہ پہلا خطاب تھا، جس میں تقریر کے ذریعے ایک آدمی کی اصلاح کی کوشش کی جا رہی تھی، پھر یہ سلسلہ وقت کے ساتھ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا، جب انسان نے قلم پکڑا تو تقاریر کی تدوین بھی شروع ہوگئی۔ چونکہ ہزاروں سال سے لوگوں سے روابط کا اولین وسیلہ یہی خطاب رہا ہے اور آج بھی اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، لھذا دیگر زبانوں کی طرح اردو زبان میں بھی مختلف علمائے کرام ومشائخ عظام کے علمی، فنی، اصلاحی اور انقلابی خطابات کے گوہر بے بہا کو یکجا کیا جاتا رہا ہے، جس میں سے کچھ مدونات نے کافی شہرت حاصل کی اور عوام وخواص نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ زیر نظر کتاب "خطبات حضور شیخ الھند قدس سرہٗ" بھی اسی سلسلۃ الذہب کی ایک حسین کڑی ہے، جو حضرت علامہ پیر سید کمیل اشرف الاشرفی الجیلانی رحمۃاللہ علیہ کے زبان فیض ترجمان سے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے سد باب کے لیے مختلف مقامات پر ہوا تھا، یہ مجموعہ خطبات مختلف الجہات ہیں، چنانچہ وحدانیت، رسالت ونبوت، گوشہ سیرت، شان اہل بیت، شان اولیاء اللہ، عقائد و معمولات اہل سنت اسلامی تعلیمات اور متفرقات کے تحت لعل و گوہر کا ایک بحر بے کراں ہے، جسے قرآن، حدیث اور اسلاف امت کے اقوال سے سجایا اور سنوارا گیا ہے، وہیں اسے ادبی لبادہ بھی پہنایا گیا ہے، جو صاحب خطاب کے قوت علم وفکر کی بلندی کا عکس جمیل ہے۔
اس مجموعہ خطبات کی ترتیب وتدوین حضرت مولانا مظہر حسین علیمی صاحب اور حضرت مولانا مفتی محمد عرفان علی عارفی نوری صاحب نے کی ہے، جسے فروری 2023 میں اشرفی لطیف فاؤنڈیشن ممبئی نے شائع کیا ہے، کتاب پر نظر ثانی کا کام بڑی باریک بینی سے کیا گیا ہے، جب کہ حوالہ جات کی تخریج نے سونے پہ سہاگا کا مصداق بنا دیا ہے۔ بہت ضروری ہے کہ کتاب کے ٹائٹل اور اوراق کے متعلق بھی چند باتیں عرض کر دی جائے، جہاں مجلد دیدہ زیب ٹائٹل دعوت نظارہ دے رہا ہے، وہیں از اول تا آخر کلر فل اعلی درجے کے صفحات ذوق سلیم کا بھی پتہ دے رہے ہیں، حقیقت میں کتابوں کی طباعت ایسے ہی اعلی ترین معیار پر ہونا چاہیے، جسے پڑھنے پر ہر آدمی بے خود ہوجائے۔ قابل مبارک باد ہیں اشرفی لطیف فاؤنڈیشن ممبئی کے بانیین و متعلقین جنھوں نے اس بلند پایہ کام کو سر انجام دیا، انھوں نے صرف اپنے شیخ کے عرس پر اکتفا نہ کیا، بل کہ ان کی فکر کی ترسیل کے ذریع کو بھی تلاش کیا، بزرگان دین کا اعراس ایک مستحسن عمل ہے، مگر ان کے لسانی اور قلمی سرمایہ کو محفوظ رکھنا، اسے دوسروں تک پہنچانا عروج فکر پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سب شاید ممکن نہیں ہو پاتا، اگر محترم المقام جناب حافظ محمد بلال اشرفی صاحب اور آپ کے احباب کی جہد مسلسل کار فرما نہ ہوتی، آپ سبھی حضرات قابل ستائش ہیں۔ مولی تعالیٰ مدونین اور ناشرین کو صحت وتن درستی عطا فرمائے، ان سے مزید علمی کام لے اور ان پر بزرگان دین کا سایہ عاطفت دراز فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ کتاب کے حصول کے لیے رابطہ فرمائیں: جناب عبداللہ اشرفی صاحب، ممبئ 9167334439 -{°÷°÷°÷°÷°÷°÷°÷}- ابو الفواد توحید احمد طرابلسی نزیل حال- مصطفی بازار، ممبئی 24/ستمبر 2023ء، بروز اتوار

الجمعة، 28 يوليو 2023

إجازة رواية المسلسل بيوم عاشوراء

المسلسل بِيَوْم عَاشُورَاء أجازني به فضيلة الشيخ محمد بن علي يماني المكي الشافعي، وهو يقول: أخبرنَا بِهِ الشيخ محمد ياسين بن محمد عيسى الفاداني المكي الشافعي فِي يَوْم عَاشُورَاء ( ت : ١٤١٠ هج ) قال : أخبرنَا بِهِ الشَّيْخ عمر حمدَان المحرسي فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ حَدثنِي السَّيِّد عَليّ بن ظَاهر الوتري الْمدنِي فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ أَخْبرنِي أَحْمد بن منَّة الله الْأَزْهَرِي فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ أَخْبرنِي مُحَمَّد الْأَمِير الْكَبِير فِي يَوْم عَاشُورَاء الغمري كَذَلِك قَالَ أخبرنَا الْفَخر مُحَمَّد بن مُحَمَّد السُّيُوطِيّ بِقِرَاءَة الْحَافِظ عُثْمَان الديمي يَوْم عَاشُورَاء عَن أبي الْفرج ابْن الشّحْنَة يَوْم عَاشُورَاء عَن أبي الْحسن عَليّ بن إِسْمَاعِيل بن قُرَيْش عَن الْحَافِظ زكي الدّين عبد الْعَظِيم الْمُنْذِرِيّ عَن أبي حَفْص عمر بن طبرزد عَن أبي بكر مُحَمَّد بن عبد الْبَاقِي بن مُحَمَّد الْأنْصَارِيّ عَن أبي مُحَمَّد الْحسن بن عَليّ الْجَوْهَرِي عَن أبي الْحسن عَليّ بن مُحَمَّد بن أَحْمد بن كيسَان عَن أبي يُوسُف القَاضِي عَن أبي الرّبيع عَن حَمَّاد بن زيد عَن غيلَان ابْن جرير عَن عبد الله بن معبد الزماني عَن أبي قَتَادَة أَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ فِي صِيَام يَوْم عَاشُورَاء إِنِّي أحتسب على الله أَن يكفر السّنة الَّتِي قبلهَا (ح) وَأخْبرنَا بِهِ الشَّيْخ مُحَمَّد عبد الْبَاقِي الْأنْصَارِيّ وَالسَّيِّد عبد المحسن رضوَان فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَا أخبرنَا الْعَلامَة السَّيِّد مُحَمَّد أَمِين رضوَان الْمدنِي فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ أَخْبرنِي الْعَلامَة حسن الْعَدوي الحمزاوي فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ أَخْبرنِي مُحَمَّد الْأَمِير الصَّغِير فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ أَخْبرنِي أبي مُحَمَّد الْأَمِير الْكَبِير فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ أَخْبرنِي الشهَاب أَحْمد الْجَوْهَرِي فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ أَخْبرنِي عبد الله بن سَالم الْبَصْرِيّ فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ أَخْبرنِي الشَّمْس مُحَمَّد بن الْعَلَاء البابلي فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ أخبرنَا سَالم بن مُحَمَّد السنهوري فِي يَوْم عَاشُورَاء قَالَ سَمِعت النَّجْم مُحَمَّد بن أَحْمد الغيطي فِي يَوْم عَاشُورَاء يحدث عَن أَمِين الدّين مُحَمَّد بن أبي الْجُود بن أَحْمد بن عِيسَى بن النجار إِمَام جَامع الغمري كَذَلِك قَالَ أخبرنَا الْفَخر مُحَمَّد بن مُحَمَّد السُّيُوطِيّ بِقِرَاءَة الْحَافِظ عُثْمَان الديمي يَوْم عَاشُورَاء عَن أبي الْفرج ابْن الشّحْنَة يَوْم عَاشُورَاء عَن أبي الْحسن عَليّ بن إِسْمَاعِيل بن قُرَيْش عَن الْحَافِظ زكي الدّين عبد الْعَظِيم الْمُنْذِرِيّ عَن أبي حَفْص عمر بن طبرزد عَن أبي بكر مُحَمَّد بن عبد الْبَاقِي بن مُحَمَّد الْأنْصَارِيّ عَن أبي مُحَمَّد الْحسن بن عَليّ الْجَوْهَرِي عَن أبي الْحسن عَليّ بن مُحَمَّد بن أَحْمد بن كيسَان عَن أبي يُوسُف القَاضِي عَن أبي الرّبيع عَن حَمَّاد بن زيد عَن غيلَان ابْن جرير عَن عبد الله بن معبد الزماني عَن أبي قَتَادَة أَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ فِي صِيَام يَوْم عَاشُورَاء إِنِّي أحتسب على الله أَن يكفر السّنة الَّتِي قبلهَا قلت هَكَذَا رُوِيَ مسلسلا إِلَى أبي الْفرج ابْن الشّحْنَة كَمَا فِي مسلسلات ابْن الطّيب حَيْثُ لم يذكر التسلسل فِيمَا فَوْقه وَرَوَاهُ السَّيِّد عَليّ الوتري بالتسلسل إِلَى أبي يُوسُف القَاضِي قَالَ ابْن الطّيب هُوَ حَدِيث صَحِيح انْفَرد بِهِ مُسلم والتسلسل فِيهِ انْقِطَاع مَا وَالْأَكْثَر يَقُول الرَّاوِي فِيهِ سمعته يَوْم عَاشُورَاء قَالَ وَقد سمعته من شَيخنَا أبي عبد الله مُحَمَّد بن عبد الرَّحْمَن الفاسي يَوْم عَاشُورَاء عدَّة مَرَّات انْتهى وَابْن عبد الرَّحْمَن هَذَا عَن عبد السَّلَام اللَّقَّانِيّ عَن أَبِيه إِبْرَاهِيم اللَّقَّانِيّ عَن النَّجْم الغيطي بالسند الْمَذْكُور مسلسلا بقول كل من رُوَاته سمعته فِي يَوْم عَاشُورَاء٠

إجازة الحديث المسلسل بيوم عاشوراء

⚘الحديث المُسلسل بيوم عاشوراء أجازني به شيخي فضيلة الشيخ الدكتور عبد السميع الأنيس حفظه الله، وهو يقول: أرويه عن عدد من شيوخي سماعاً وقراءة، أكتفي بإيراده من طريق شيخنا المسند محمد ياسين الفاداني المكي رحمه الله. قال شيخنا الفاداني: حدثنا مُحدِّث الحرمين عمر حمدان المَحرسي، قال حدَّثني: السَّيد علي بن ظاهر الوَتَري المدني، قال أخبرني: أحمد بن منّة الله المالكي. قال أخبرني: محمد الأمير الكبير المالكي. قال أخبرني: أحمد الجوهري الكبير. قال أخبرني: عبدالله بن سالم البَصري. قال: أخبرني محمد بن العلاء البَابلي. قال: أخبرنا سالم بن محمد السَّنهُوري. قال: سمعتُ النَّجم محمد الغَيْطي. عن أمين الدين محمد النَّجار. عن الفخر محمد بن محمد السّيوطي بقراءة عثمان الديمي، عن عبد الرحمن ابن الشِّحنة. عن أحمد بن أبي طالب الشهير بالحجار الصالحي عن أبي الحَسن علي بن إسماعيل المخزومي. عن عبدالعظيم المُنذري. عن أبي حفص عمر بن طبرزد عن محمد بن عبدالباقي الأنصاري. عن الحسن بن علي الجوهري. عن أبي الحسن علي بن كَيسان. عن أبي يوسف القاضي. عن أبي الرَّبيع. عن حمَّاد بن زيد عن غَيْلان بن جرير. عن عبدالله بن مَعبد الزماني. عن أبي قتادةَ رضي اللهُ عنه، قال: إنَّ النبي صل الله عليه وسلم قال: "...وصِـيَامُ يوم عاشُوراء، إنّي أحتَسِبُ عَلَى اللهِ أن يُكفِّر السَّنة التي قَبْلَهَا" قال الأميرُ: وقالَ كُلّ واحد مِن الرواة: سمعته في عاشوراء. ا.هـ قال شيخنا الفاداني: هكذا روي مسلسلا إلى أبي الفرج ابن الشحنة، حيث لم يذكر التسلسل فيما فوقه. ورواه السيد علي الوتري بالتسلسل إلى أبي يوسف القاضي. وهذا الحديث أخرجه مسلم (1162)، واللفظ له، وأبو داود (2 / 321) (ح2425)، والترمذي (2 / 115) (ح749)، وابن ماجه (1/ 553) (ح1738) من طريق حماد بن زيد، به. ⚘قال النووي رحمه الله: "يكفر كل الذنوب الصغائر، وتقديره يغفر ذنوبه كلها إلا الكبائر. ثم قال: صوم يوم عرفة كفارة سنتين، ويوم عاشوراء كفارة سنة، وإذا وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه.. كل واحد من هذه المذكورات صالح للتكفير، فإن وجد ما يكفره من الصغائر كفّره، وإن لم يصادف صغيرة ولا كبيرة كتبت به حسنات، ورفعت له به درجات، وإن صادف كبيرة أو كبائر، ولم يصادف صغائر رجونا أن تخفف من الكبائر". المجموع (6/ 382) أ.د. عبدالسميع الأنيس