الجمعة، 25 نوفمبر 2022
الأربعاء، 10 أغسطس 2022
السبت، 30 يوليو 2022
لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ
دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یو پی کے سابق استاذ حضرت علامہ مولانا محمد تفسیر القادری قیامی صاحب حفظہ الله ورعاہ کی حیات وخدمات پر شائع ہونے والی یہ پہلی کتاب ہے۔
اس کی اشاعت مبلغ اسلام ریسرچ سینٹر ممبئ سے ہو رہی ہے، جس کے موسس اعلی حضرت علامہ مولانا محمد شفیق الرحمن مصباحی عزیزی صاحب (مفتی اعظم ہالینڈ، وسربراہ اعلی دار العلوم علیمیہ) ہیں۔
کتاب کی پروف ریڈنگ اور طباعت کی ساری ذمہ داریاں حضرت علامہ مولانا مظہر حسین علیمی صاحب (ایڈیٹر ماہ نامہ سنی دعوت اسلامی، ممبئی) کے سر جاتی ہے، جس کے لیے میں آپ دونوں حضرات کا تہہ دل سے ممنون ومشکور ہوں۔
ان شاء الله تعالیٰ اس کتاب کی رو نمائی مصطفی بازار ممبئی میں منعقد عرس علیمی میں ہونا طے پایا ہے۔
الأربعاء، 20 يوليو 2022
حضرت مولانا مفتی محمد اختر حسین صاحب علیمی کو صدمہ
استاذ گرامی حضرت مولانا مفتی محمد اختر حسین علیمی صاحب کی والدہ ماجدہ حسب دستور قدرت آج بعد نماز ظہر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں، إنا لله وإنا إليه راجعون.
یہ کیا دستِ ازل کو کام سونپا ہے مشیت نے
چمن سے پھول چننا اور ویرانے میں رکھ دینا
قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، مولی کریم مرحومہ کی اس منزل اور دیگر منازل کو اپنے حبیب ﷺ کے صدقے آسان تر فرمائے اور روز حساب لواء الحمد کے تلے اٹھائے۔
نیز مرحومہ کے پسماندگان خصوصا استاذ گرامی کو صبر جمیل اور اس پر اجر جزیل عطا فرمائے۔
اللَّهمَّ اغفرْ لَها وارحمها، وعافِها واعف عنها، وأكْرِم نُزَلَها، ووسِّع مُدَخلَها، واغسلْها بالماءِ والثَّلجِ والبَردِ، ونقِّهها منَ الخطايا كما نقَّيتَ الثَّوبَ الأبيضَ منَ الدَّنسِ، وأبدِلها دارًا خَيرًا مِن دارِها، وأهلًا خَيرًا مِن أهلِهِا، وأدخِلها الجنَّة، وأَعِذها مِن عذابِ القبرِ، آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
جمدا شاہی، بستی، یوپی
الرسالة المفيدة پر تبصرہ
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين.
اما بعد، الله تعالی نے اپنے بندوں کی رہ نمائی کے لیے انبیائے کرام اور رسولان
عظام کو مبعوث فرمایا، آخری نبی محمد مصطفی ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کیا،
اور آپ پر قرآن وحدیث کو بذریعہ وحی نازل فرمایا، قرآن کریم کو متن اور حدیث نبوی
کو اس کی تفسیر کا درجہ عطا کیا، جب علمائے اسلام نے مصادر شرع کی حد بندی کی، حدیث
شریف کو قرآن کے بعد دوسرا مصدر قرار دیا، جب کہ تیسرا مصدر اجماع اور چوتھا قیاس
قرار پایا، یہ درجہ بندی تتبع اور استقراء کے بعد عمل میں آئی۔ عہد رسالت میں حدیث
شریف کی کتابت اور اس کی حفاظت کی جزوی کوششیں ہوتی رہیں، قرآن کریم کی طرح اس کے
حفظ وکتابت کا اہتمام نہیں کیا گیا، اس کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ مسلمان وسائل کی
کمی کی وجہ سے قرآن کریم کے ساتھ حدیث بھی لکھ لیا کرتے تھے، جب اس بات کو آقائے
کریم ﷺ نے ملاحظہ فرمایا تو آپ نے قرآن کے ساتھ حدیث نہ لکھنے کی تاکید فرما دی،
تاکہ قرآن وحدیث میں تفریق رہے۔ جب خلافت کی باگ دوڑ حضرت عمربن عبد العزیز رحمۃ
اللہ علیہ کے سپرد ہوئی، آپ نے امام زہری کو جمع حدیث کے اہم کام پر متعین کیا، آپ
کی کاوشوں سے پہلی دفعہ بڑے پیمانے پر جمع وتدوین کا کام انجام پایا، ورنہ اس سے
قبل صحابہ کرام وتابعین عظام کے پاس ان کے جمع کردہ اجزاء ہی تھے، یا وہ حکم نامے
یا خطوط محفوظ تھے، جنھیں رسول کریم ﷺ نے لکھوایا تھا۔ جب تصنیف وتالیف کا دور شروع
ہوا، اس وقت امام مالک کی موطا نے کافی شہرت پائی، جسے بلند پایہ علما امراء اور
حکام نے سماعت کرنا اور اس کی روایت کرنا اپنے لیے باعث سعادت گردانا، وقت گزرتا
رہا، یہاں تک کہ امام محمد بن اسماعیل بخاری کا زمانہ آیا، آپ نے الجامع الصحیح
المختصر تالیف فرمائی، اس میں احادیث صحیحہ کا خصوصی اہتمام رکھا، اور آثار سے
اجتناب کیا، آپ کی اس تالیف کو کتب احادیث میں وہ شہرت دوام حاصل ہوئی، جوکسی دوسری
کتاب کو نہیں مل سکی، علما نے اس کی مختلف زبانوں میں شروحات لکھیں، حواشی چڑھائے،
اس کے روات پر جرح وتعدیل کی، صرفی اور نحوی تعلیلوں اور وجوہات کو بیان کیا، بلاغی
اور ادبی نقطہ نظر سے بحث ومباحثہ کیا، سماجی اور تاریخی پہلوؤں کو زیر بحث لائے،
غرض کی ہر جہت سے کچھ نہ کچھ ہمیشہ لکھا جاتا رہا، اسی کی ایک کڑی الرسالہ المفیدہ
بھی ہے، جس کے مصنف فہد بن علی کشی ہیں، انھوں نے اس رسالے میں ایسے مفید قواعد
بیان کیے ہیں، جن کے ذریعے صحیح بخاری کے ان راویوں کے اسماء کا درست تعین ہوجاتا
ہے، جن کی صرف کنیت یا شہر کی نسبت ذکر کی گئی ہے، یا ایک نام کے اگر کئی راوی ہیں
تو مبینہ قواعد سے ان کے مابین تفریق کا سلیقہ آجائے گا، عوامی طور پر دیکھا جائے
تو یہ ایک خشک موضوع ہے، مگر طلبا اور علما کے لیے ایک بیش بہا تحفہ ہے، خاص کر
تحقیقی مزاج رکھنے والے علما اور اسلامیات کے باحثین کے لیے یہ ایک گراں قدر علمی
کارنامہ ہے۔ اس رسالے کو عالی قدر نوجوان عالم دین مولانا ابو الابدال محمد رضوان
طاہر فریدی صاحب نے بڑی ہی جانفشانی کے بعد اردو قالب میں ڈھالا ہے، ساتھ ہی ساتھ
ابتداء میں بہت سے اضافات بھی کیے ہیں، رسالہ حجم کے اعتبار سے کہتر ضرور ہے، مگر
بہت سی ضخیم کتابوں سے بہتر ہے۔ اس رسالے کی ترجمہ نگاری اور اضافات کے لیے مولانا
موصوف کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، مولی تعالیٰ موصوف کے اس قلمی کاوش کو قبول
فرمائے اور مزید علمی کارناموں کی توفیق رفیق عطا فرمائے، آمین۔ ابو الفواد توحید
احمد طرابلسی جمدا شاہی، بستی، یوپی، بھارت 3/جولائی 2022ء بروز اتوار
الأحد، 13 فبراير 2022
بچوں پر شفقت رسول پر ایک تبصرہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم،
والصلاہ والسلام علی رسولہ الکریم
اما بعد ۔
معاشرتی زندگی میں رویہ کو بہت اہمیت حاصل ہے، خاص طور پر شفقت ومحبت کو کہ مذہب اسلام نے ہر ایک کو اس پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے ، جہاں پر چھوٹوں کو عزت کرنے کا حکم دیا ، وہیں پر بڑوں کو شفقت کرنے حکم دیا، اس لحاظ سے رسول اکرم ۔صلی اللہ علیہ و سلم ۔کی ذات مبارکہ ایک الگ شناخت رکھتی ہے، خصوصا بچوں پر شفقت کے لحاظ سے نبی اکرم کی ذات ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
زیر نظر رسالہ حضور استاذ محترم علامہ ابوالفواد توحید احمد علیمی طرابلسی (استاذ دارالعلوم اھل سنت حبیب الرضا، بگی روڈ، گونڈہ) کا ہے، جسے میں نے بنظر عمیق مطالعہ کیا، جو اس پر فتن دور میں ایک رہبر کی حیثیت رکھتا ہے، اس دور میں معاشرتی مسائل میں مغربی تہذیب نے اپنا رنگ جما رکھا ہے، چاہے وہ نوخیز کلیوں کے اسما کا تعین، یا پھر اور کچھ جب کہ اس پر فتن دور میں لوگوں کے اندر بہت ساری رسم جاہلانہ نے جنم لے رکھا ہے۔
صاحب رسالہ نے "بچوں پر شفقت رسول" نامی رسالہ لکھ کر ان رسموں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، اور اس رسالے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں جن آیات، اور احادیث مبارکہ سے استفادہ کیا گیا ہے، ان کو بحوالہ ذکر کیا گیا ہے
اور رسالے کے آخر میں مصادر ومراجع کو یک جا کر دیا ہے، رسالہ کا طرز بیاں عام اور تطویل واختصار مخل سے خالی ہے جس سے امید ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سے زیادہ فائدہ ہو گا ۔
اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مصنف موصوف کو مزید خدمت دین کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین ۔صلی اللہ علیہ و سلم ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبدہ المذنب عبدالحلیم الرضوی،
متعلم دارالعلوم اھل سنت حبیب الرضا،گونڈہ-
بروز شب جمعہ مبارکہ 22جمادی الآخر 1442ھ
4فروی 2021ء
حضرت مولانا شاہد سعدی صاحب کا تبصرہ
ماشاءاللہ!
میں نے دیکھا ہے کہ محب گرامی حضرت مولانا ابوالفواد توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب زید مجدہم اک جواں سال، باصلاحیت اور بڑے متحرک عالم دین ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں مطالعہ کی وسعت، تحلیل و تجزیہ کی لیاقت اور اسلامی افکار و نظریات کو بہترین ، عام فہم اور سادہ انداز میں پیش کرنے کی صفت سے نوازا ہے۔
علم سے گہری وابستگی، سادہ مزاجی اور مجلس احباب میں ان کی اعلی اخلاقی اور ملنساری یہ سب ان کے وہ خصائص ہیں جو انھیں اپنے حلقۂ احباب میں مزید پروقار اور محبوب بنا دیتے ہیں۔
موصوف فی الحال گونڈہ کی سرزمین "دارالعلوم اہل سنت حبیب الرضا" بگی روڈ میں تدریسی خدمات پر مامور ہیں۔ اس مصروفیت کے باوجود ان کی یہ خلوص وللہیت ہی ہے کہ ملت اِسلامیہ کی رہبری کے لیے لخت لخت موضوعات پر ان کے درجنوں مقالات اور کتابیں ہندوپاک کی سرزمین پر حیاتِ نو کا پیغام دے رہی ہیں۔
دعا ہے رب کریم ان کو صحت و عافیت اور خیر سے بھری لمبی عمر نصیب فرمائے اور زیادہ سے زیادہ خدمات دین کی توفیق بخشے۔ آمین
✍️ #شاہدسعدی
30/03/2021ء
الأربعاء، 12 يناير 2022
رزقہ احمد بنت ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
رزقہ احمد بنت ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
ولادت 23/ دسمبر 2021، بروز جمعرات، بوقت آٹھ بج کر دس منٹ شام بعد مغرب
سیاست حاضرہ اور اویسی صاحب کے نام نعمانی صاحب کانامہ
نام نہاد سیکولر پارٹیاں اویسی کو گٹھ بندھن میں لینے کے لیے تیار نہیں ہیں، انھیں خوف ہے کہ اگر مسلم اکثریتی علاقے والی دس بارہ سیٹ بھی اویسی کو دے دیں گے تو ووٹ متحد ہونے کی بنا پر جیت جائے گا، پھر مسلمانوں کو سیاسی حصے داری دینی ہوگی، اور اگلے الیکشن میں مزید مسلم علاقوں کی سیٹ بھی دینی پڑے گی، اس کے برعکس اویسی کو اگنور کرنے میں انھیں فائدہ دکھ رہا ہے، مسلم دری بچھانے اور ای رکشہ میں ہی خوش ہیں، کچھ لوگ مخالفت کر رہے تو یہ چند لاکھ ووٹر کیا کر لیں گے؟ اگر یہ نام نہاد سیکولر پارٹیا ہار جائیں گی تو کہتے پھریں گی کہ اویسی نے ہرا دیا۔
نعمانی صاحب کہہ رہے ہیں کہ چالیس پچاس سال قبل سیاسی مضبوطی لانی چاہیے تھی، مگر نعمانی صاحب یہ بھول گئے کہ ہر الیکشن مسلمانوں کے لیے زندگی اور موت کے سوال پر لڑا گیا ہے، آج بھی وہی حالات بنے ہوئے ہیں، اب تو حالات نازک تر ہوگئے ہیں، اگر اب بھی نہ جاگے تو آنے والا وقت اور بدتر ہوگا، سیانے کہہ گئے ہیں جب جاگو تبھی سویرا، جو لوگ اپنی قوم کو متحد کرنے، اور ان میں سیاسی حصے داری کا شعور پیدا کرنے کی بجائے اغیار کے جوتے چاٹنے میں خوش ہیں انھیں کسی صورت سمجھایا نہیں جا سکتا، ایسے لوگ کبھی بھی قوم کے لیے سود مند نہیں ہوسکتے ہیں، قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو متحد ہوتی ہیں، جو اپنوں کو جتانے اور اور ان کو آگے بڑھانے کے لیے سعی کرتی ہیں، مگر یہاں تو دوسروں کو جتانے میں اپنی جیت سمجھی جا رہی ہے، ستر سال سے یہی کرتے آرہے ہیں، نتیجہ ہر بار صفر آتا ہے، مگر پھر اسی روش پر لگ جاتے ہیں، ہر بار ظلم کے نئے پہاڑ توڑے جاتے ہیں مگر دل سے سیکولر پارٹیوں کی محبت نکلنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
الجمعة، 7 يناير 2022
گناہوں سے اجتناب قرآنی نقطہ نگاہ سے پر مولانا بلال احمد نظامی صاحب کا تبصرہ
#گناہوں_سےاجتناب "قرآنی نقطہٕ نگاہ سے"
بلال احمد نظامی مندسوری، رتلام فاؤنڈر:
تحریک علمائے مالوہ
____________________
گناہ جس طرح اخروی نقصان اور عذاب کا سبب
ہے بعینہ دنیوی نقصان اور بے برکتی کا سبب بھی ہے، گناہ کے سبب دل بے نور ہو کر
سیاہ اور زنگ آلود ہوجاتا ہے، جس کے سبب بندہ نور الہی، معرفت الہی، رحمت الہی، لذت
نماز اور کار نیک سے کوسوں دور ہو جاتا ہے، پھر دل بے چین رہتا ہے، بے چینی، ڈپریشن
اور فکر دنیا اسے اس طرح جکڑ لیتی ہے کہ کہیں بھی سکون میسر نہیں آتا، اطمینان قلب
وذہنی سکون کے لیے بندہ مارا مارا پھرتا ہے، کبھی سینیما بینی، کبھی شراب وسگریٹ
نوشی میں سکون وقرار تلاش کرتا ہے تو کبھی ذہنی وجسمانی عیاشی کے اڈوں پر بے چینی
کا علاج ڈھونڈتا ہے؛ لیکن پھر بھی کہیں سکون وقرار نصیب نہیں ہوتاہے۔ ایسے بندوں کو
معلوم ہونا چاہیے کہ قرار قلب وسکون دل کی دوا اور بے چینی کا علاج الله رب العزت
نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں نازل فرمایا ہے، جس سے بندہ ہدایت ورہنمائی لے کر
اپنی بے چینیوں کا علاج کر سکتا ہے۔ گناہوں کے سبب ہونی والی انھیں بے چینیوں کے
علاج، اسباب اور تدارک کی طرف رہ نمائی کرنے کے لیے فاضل گرامی ابوالفواد حضرت
مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی جمداوی صاحب قبلہ نے زیر تبصرہ کتاب "گناہوں سے
اجتناب؛ قرآنی نقطہٕ نگاہ سے" تالیف فرمائی ہے، جس میں کتابِ ہدایت قرآن مقدسہ کی
بہتر (72) آیتوں سے گناہوں کے دنیوی واخروی مفسدات اور ان سے اجتناب کے احکام نیز
ذہنی، فکری اور دلی اطمینان وسکون حاصل کرنے کے نسخہائے کیمیا رقم فرمائے ہیں، ساتھ
ہی ساتھ الله کے عذاب وعتاب سے ڈرایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب تقسیم نفس، نیکی کی رغبت،
بدی سےتنفر، نیکوں کی مجالست، بدوں سے اجتناب، مصیبت اور صبر، نیکی مسرت لاتی ہے،
نیکی اور حیات دنیاوی، نیکی اور حیات اخری، آخرت میں سر بلندی، نیکی وبدی کا
ملاحظہ، مے نوشی، زنا سے بے رغبتی کا قرآنی طریقہ، قتل وغارت گری پر قدغن، لوگوں کا
حساب قریب ہے، فضیلت توبہ، خوف خدا، الله تعالی بندوں پر رحیم وکریم ہے، مکان تعذیب
جیسے خوب صورت مشمولات پر مشتمل ہے، جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مؤلف موصوف
نے نہایت جاں سوزی اور جاں فشانی کے ساتھ اس کتاب کو تالیف فرمایا ہے۔ ہر عنوان کے
ساتھ بطور استدلال قرآنی آیات واحادیث نبویہ کے ساتھ نکتہ آفرینی مؤلف موصوف کی دقت
نظر، وسعت مطالعہ، بالغ نظری اور علمی ذوق کا بین ثبوت ہے۔ املا وتحقیق وتخریج میں
جدید تقاضوں کا بھر پور خیال رکھا ہے، نہایت شستہ شائستہ سلیس آسان عام فہم اسلوب
جس سے عام قاری بھی بہ آسانی استفادہ کر سکتا ہے۔ کتاب کی ابتداء کرتے ہوئے قرآن
کریم کتاب ہدایت کے ذریعہ ہدایت یافتہ ہونے کے تعلق سے موصوف خامہ فرسائی کرتے ہوئے
لکھتے ہیں: "نیکی پر حوصلہ افزائی اور بدی پر قدغن آرائی قرآن کریم کا اسلوبِ خاص
ہے، وہ لوگوں کو ایک صالح معاشرہ کی دعوت دیتا ہے۔ اکثر یہ سوال ذہن کے گوشے میں
اٹھتا ہے کہ جب مسلمانوں کے پاس قرآن کریم کی شکل میں دستور حیات ہے، پھر وہ معاصی
کا ارتکاب کیوں کرتے ہیں؟ اس کا واضح اور مبنی بر حقیقت جواب یہ ہے کہ جب مومن کے
ایمان میں ضعف در آتاہے، شہوانی خواہشات اس پر غالب ہوجاتی ہیں، اُسی دم وہ شیطانی
فریب کاریوں کا شکار ہوجاتا ہے، دنیاوی لذائذ میں غرق ہو کر آخرت سے غافل ہوجاتا ہے
اور معاصی کے دلدل میں غرق ہو کر رہ جانا اس کی عادت سی بن جاتی ہے۔ قرآن کریم صرف
بندوں کو راہ ہدایت پر گام زن ہی نہیں فرماتا ہے، بل کہ دینی ودنیوی ہر برائی کو ان
سے بعید تر بھی کرتا ہے، ان کے وجود سے قبل ہی مومنین میں تنفر کا مزاج پیدا کر
دیتا ہے اور پاکیزہ امور کی طرف ان کے دلی میلان کو خوب بڑھاوا دیتا ہے"۔ زیر تبصرہ
کتاب عوام وخواص کے ساتھ خطبا حضرات کے لیے بھی نہایت مفید ہے کہ وہ اس کے مشمولات
کو موضوع سخن بنا کر عوام کو گناہوں سے اجتناب پر ابھار سکتے ہیں۔ مؤلف ابوالفواد
حضرت مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب قبلہ نہایت مخلص، خلیق، ملنسار اور ہر
ایک سے محبت کرنے والے ہیں، آپ دوران طالب علمی سے ہی کتابی ذوق وشوق رکھتے ہیں،
قلم وقرطاس سے آپ کا گہرا تعلق رہا ہے، اب تک مخلتف موضوعات پر متعدد تحقیقی مقالات
وکتابیں آپ کے نوک قلم سے منصہ شہود پر آچکی ہیں۔ اس دور میں کتابیں تحریر کرنا
قدرے آسان ہے، لیکن اسے طبع کرانا "ناکوں چنے چبانے" کے مترادف ہے، الله بھلا کرے
اور دین ودنیا کی برکات عطا کرے محترم حاجی محمد سردار خان رضوی صاحب ایکڈنگا کو جو
زیر تبصرہ کتاب کو عوام تک پہنچانے کا ذریعہ بنے اور اپنے والد مرحوم عالی جناب
محمد امان الله خان صاحب کے ایصال ثواب کی نیت رکھی، آپ کا یہ عمل قابل اتباع اور
لائق ستائش ہے، مولی کریم آپ کے والد کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے، اور حشر کے روز
آقائے دو جہاں باعث تخلیق کائنات احمد مصطفی محمد مجتبی صلی الله عليه وسلم کے زیر
سایہ اٹھائے، اور حوض کوثر پہ ہم سب کو ملائے۔ الله رب العزت حضرت مولانا توحید
احمد علیمی طرابلسی کی اس علمی اور حاجی صاحب کے مالی کاوش کو قبول فرما کر ذریعہ
نجات بنائے اور دارین کی سعادتیں عطا فر ما کر ذہن وفکر میں وسعت عطا فرمائے۔ آمین
یا رب العالمین! 24/11/21
الجمعة، 5 نوفمبر 2021
نبأ وفاة الشيخ مير محمد طاهر أحد أعمدة التصوف في شبه القارة الهندية
نبأ وفاة الشيخ مير محمد طاهر أحد أعمدة التصوف في شبه القارة الهندية
تلقينا ببالغ الحزن والأسى وبقلوب مؤمنة بالله -عز وجل- وراضية بقضائه وقدره نبأ وفاة العالم الجليل، والداعي الكبير، وأحد أعمدة التصوف في شبه قارة الهندية الشيخ مير محمد طاهر ميان، المعروف ب"طاهر ملت"؛ أحد سادات بلجرام، عن عمر يناهز سبعة وسبعين عاما -قَدَّس الله روحه-.
كان الشيخ من مواليد ١٩٤٤م، ولد في بيت علم وفضل في مدينة بلجرام الشهيرة، ودرس على علماءها، خاصة تلمذ على يد أبيه، فنهل منه العلوم الدينية، وحفظ القرآن الكريم على يده، ونال به التصوف الإسلامي حتى اشتهر بعلمه الغزير، وأخلاقه الكريم، وحسن الكلام في مسائل الخلاف، فكان خير خلف لخير سلف.
ولما توفي أبوه فوضت مشيخته الصوفية إليه، فجلس فيها لإرشاد المريدين والسالكين، ووقايتهم من الزلل والزيغ، فحصل له القبول عند الناس، وجعل طلاب التصوف الإسلامي يرحلون إليه، وينتفعون به حتى وافته المنية في ١٧/أغسطس ٢٠٢١م.
لعمرك ما الرزية فقدُ مالٍ
ولا شاة تموت ولا بعير
ولكن الرزية فقدُ قَرمٍ
يموت بموته علمٌ غزير
أقاموا بظهرِ الأرضِ فاخضرَّ عُودُها
وصاروا ببطنِ الأرضِ فاستوحشََ الظَّهرُ
أبو الفؤاد توحيد أحمد الطرابلسي
جمدا شاهي، بستي، الهند
الاشتراك في:
الرسائل (Atom)





