الأحد، 26 مارس 2023
نونہالان امت بارگاہ الہی نامی کتاب پر مفتی اعظم ہالینڈ کا تبصرہ
نونہالانِ امت بارگاہ الہی میں نامی کتاب کے اشاعتی اعلان پر مفتی اعظم ہالینڈ حضرت مولانا مفتی محمد شفیق الرحمن مصباحی عزیز یہ صاحب کا تبصرہ
مولانا تًو حيد احمد عليمي صاحب زيدحبه هماري جماعت كے طبقہ علما ء مين ايسے خوش فكر صاحب قلم هين كه مختصر مدت مين درجنون كتابون كو تصنيف وتاليف وترجمه وتحقيق سے جماعت کے وقار کو بلند کیا ہے مجھے بیحد مسرت هے کہ عزيز اسعد بشارت علي صديقي مقيم جده شريف نے اپنے اشاعتی ادارہ سے بھر پور معاونت کی ہے فجزاهم الله
ميرا اذعان هے کہ مولانا طرابلسي پہ حضور مبلغ اسلام عليه الرحمه كا فيضان هے اور علیمیہ کی تربیت نے مولانا کو بھت قیمتی بنا دیا ہے رفيق محترم علامه فروغ احمد صاحب اعظمي کے ارشد تلامذه هين علامه اعظمي كي نگہ التفات نے علیمیہ کے فرزندون کو کارآمد بنایا ہے کاش یہ سلسلہ تربیت جاری رھتا اور مبلغ اسلام كے منهج واسلوب پہ تعلیمی ورتربیتی و دعوتی واشاعتی کام آگے بڑھتا
مجھے مولانا توحيد عليمي صاحب سے بڑی توقع ہے وہ ضرور مبلغ اسلام كے مشن کو آگے بڑھانے مین ھماری مد د فرمائین گے
غبار راه طيبه
محمد شفيق الرحمن عزيزي مصباحي
یی
الأربعاء، 22 مارس 2023
نونہالان امت بارگاہ الہی میں
:::: نونہالان امت بارگاہ الہی میں ::::
امت مسلمہ کے لیے رواں صدی پچھلے صدیوں سے زیادہ چیلنجز لے کر آئی ہے۔ اسی میں نونہالان و نوجوانان امت کا مساجد سے دور رہنا بھی ہے۔ ایک بڑی تعداد دین اسلام اور اس کے مرکزی سیکرٹریٹ یعنی مساجد سے دور نظر آتی ہے۔ وجوہات کیا کیا ہوسکتے ہیں؟ اس پر ہم اپنی اپنی آراء وقتا فوقتا پیش کرتے ہی رہتے ہیں۔ اس مسئلہ کا حل کیا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہم سوچتے رہتے ہیں۔
یہ بھی ہمیں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارا دعوتی انداز حالات زمانہ کے پیش نظر مؤثر ہے بھی یا نہیں؟ کیا اس میں تبدیلی لانے یا اسے اپڈیٹ کرنے کی ضرورت تو نہیں ہے؟
"نونہالان امت بارگاہ الہی میں" ایک ایسی کتاب ہے جس میں چالیس احادیث کی روشنی میں نوخیز بچوں کو مساجد میں لانے اور اس سے جوڑنے پر علمی و دعوتی انداز سے ترغیب دلائی گئی ہے۔ نونہالان امت کو مساجد اور دینی مراکز سے جوڑنا کتنا اہم کام ہے، ہم سب کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کی ضرورت ہے۔ کتاب کے شروع میں ایک جامع مقدمہ ہے، جس میں اس عمل کے سارے اہم پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔
کتاب کا مختصر تعارف تو آپ کو پیش کردیا ہے۔ کتاب کتنی اہم اور مؤثر ہے، یہ آپ خود اسے حاصل کرکے جاننے کی کوشش کریں۔ اب صاحب کتاب کا مختصر تعارف پیش ہے:
اس "اربعین" کے مرتب، ہمارے محب گرامی علامہ مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب ہیں، ہمارے پرانے کتابی ساتھی اور دوست ہیں، کئی علمی و تحقیقی کاموں میں معاون ہوتے ہیں۔ جامعہ علیمیہ(جمدا شاہی، انڈیا) میں فیضان مبلغ اسلام عبد العلیم میرٹھی علیہ الرحمہ سے مالا مال ہونے کے بعد طرابلس، لیبیا پہنچے اور وہاں سے "كلية الدعوة الإسلامية" سے فراغت حاصل کی۔ موجودہ مسائل و چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ان کی آراء ہم سب سے مختلف ہوتی ہیں، جسے میں بھی مؤثر جانتا اور سراہتا ہوں۔ "نونہالان امت بارگاہ الہی میں" ان کی دسویں اربعین ہے، اس سے قبل آپ کی جمع کردہ اربعین "تدبر قرآن" اور "راستوں کے حقوق" ہم شائع کرچکے ہیں جبکہ باقی اربعینات بھی اسی سال ان شاءاللہ تعالی منظر عام پر آجائیں گی۔ اربعینات کے جمع و ترتیب پر ہم نے ۵ سال قبل باقاعدہ پروجیکٹ شروع کرکے اپنے متعلقین علما کو وقتا فوقتا اس طرف راغب کرنا شروع کیا تھا۔ تب سے لے کر اب تک جن شخصیات نے ہمارا بھرپور تعاون فرماتے ہوئے نئے نئے عنوانات پر اربعین تیار کیے ہیں، ان میں محب گرامی توحید صاحب کئی لحاظ سے منفرد ہیں۔ عنوانات کے انتخاب سے لے کر روایات کی جمع و ترتیب سب نرالے ہوتے ہیں۔ ہر اربعین پر خود ایک جامع مقدمہ لکھتے ہیں، ذیلی عنوانات و ابواب قائم کرتے ہیں، ہر حدیث کی تفصیلی تخریج کرتے ہیں، ضرورت پڑنے پر روایات کی عمدہ تشریح بھی پیش کرتے ہیں، پھر کتاب کو ممکنہ طور پر سیٹ بھی کردیتے ہیں جس سے ہمارے لیے کافی سہولت ہوجاتی ہے۔ حسن ترتیب میں یہ اربعیانات اپنی مثال رکھتی ہیں۔ علما اور مشائخ میں کافی پسند کی جاتی ہیں۔ ہر کسی کو یہی انداز اپنانے کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن اور مولانا توحید علیمی صاحب قبلہ کی یہ پیش کش بھی سابقہ اربعینات کی طرح عوام کے لیے نفع بخش بناے اور اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین!
بشارت علی صدیقی
اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن
حیدرآباد دکن
الخميس، 1 ديسمبر 2022
کلمات شکر وامتنان
کلمات شکر وامتنان
استاذ الاساتذہ شیخ المشائخ حضرت مولانا فروغ احمد اعظمی صاحب سے تقریباً ایک دہائی شرف تلمذ حاصل رہا ہے، جس میں پہلی فارسی سے لے کر مسلم شریف تک آپ کی زبان فیض ترجمان سے پڑھنے کی سعادت میسر آئی۔
آپ کو ہمیشہ ایک مشفق استاذ اور طلبہ کا خیر خواہ خاص کر ان کی تعلیم وتربیت سے متعلق متفکر پایا، جب بھی علیمیہ کی تاریخ قلم بند کی جائے گی آپ کی خدمات سنہری حروف میں لکھی جائے گی اور مورخ کو آپ کی ذات ستودہ صفات پر لکھنے کے لیے ایک ضخیم دفتر درکار ہوگا۔
یہ آپ کی بزرگانہ شفقت ہے کہ آپ نے خادم کو فراغت کے سال تحریری اجازت روایت حدیث کی سند عنایت فرمائی تھی اور اب اجازت علوم کے ساتھ اس اجازتی وثیقہ کو دوبارہ مرحمت فرما رہے ہیں، جس کے لیے میں آپ کا صمیم قلب سے شکر گزار ہوں۔
مولی کریم سے دعا ہے کہ آپ کو صحت وعافیت عطا فرمائے اور ناعاقبت اندیشوں کے حسد اور ان کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور آپ کا درسی، علمی اور روحانی فیض عام تشنگان پر جاری وساری رکھے، آمین یارب العالمین۔
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
ساکن- جمدا شاہی، بستی، یوپی
الجمعة، 25 نوفمبر 2022
الأربعاء، 10 أغسطس 2022
السبت، 30 يوليو 2022
لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ
دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یو پی کے سابق استاذ حضرت علامہ مولانا محمد تفسیر القادری قیامی صاحب حفظہ الله ورعاہ کی حیات وخدمات پر شائع ہونے والی یہ پہلی کتاب ہے۔
اس کی اشاعت مبلغ اسلام ریسرچ سینٹر ممبئ سے ہو رہی ہے، جس کے موسس اعلی حضرت علامہ مولانا محمد شفیق الرحمن مصباحی عزیزی صاحب (مفتی اعظم ہالینڈ، وسربراہ اعلی دار العلوم علیمیہ) ہیں۔
کتاب کی پروف ریڈنگ اور طباعت کی ساری ذمہ داریاں حضرت علامہ مولانا مظہر حسین علیمی صاحب (ایڈیٹر ماہ نامہ سنی دعوت اسلامی، ممبئی) کے سر جاتی ہے، جس کے لیے میں آپ دونوں حضرات کا تہہ دل سے ممنون ومشکور ہوں۔
ان شاء الله تعالیٰ اس کتاب کی رو نمائی مصطفی بازار ممبئی میں منعقد عرس علیمی میں ہونا طے پایا ہے۔
الأربعاء، 20 يوليو 2022
حضرت مولانا مفتی محمد اختر حسین صاحب علیمی کو صدمہ
استاذ گرامی حضرت مولانا مفتی محمد اختر حسین علیمی صاحب کی والدہ ماجدہ حسب دستور قدرت آج بعد نماز ظہر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں، إنا لله وإنا إليه راجعون.
یہ کیا دستِ ازل کو کام سونپا ہے مشیت نے
چمن سے پھول چننا اور ویرانے میں رکھ دینا
قبر آخرت کی پہلی منزل ہے، مولی کریم مرحومہ کی اس منزل اور دیگر منازل کو اپنے حبیب ﷺ کے صدقے آسان تر فرمائے اور روز حساب لواء الحمد کے تلے اٹھائے۔
نیز مرحومہ کے پسماندگان خصوصا استاذ گرامی کو صبر جمیل اور اس پر اجر جزیل عطا فرمائے۔
اللَّهمَّ اغفرْ لَها وارحمها، وعافِها واعف عنها، وأكْرِم نُزَلَها، ووسِّع مُدَخلَها، واغسلْها بالماءِ والثَّلجِ والبَردِ، ونقِّهها منَ الخطايا كما نقَّيتَ الثَّوبَ الأبيضَ منَ الدَّنسِ، وأبدِلها دارًا خَيرًا مِن دارِها، وأهلًا خَيرًا مِن أهلِهِا، وأدخِلها الجنَّة، وأَعِذها مِن عذابِ القبرِ، آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
جمدا شاہی، بستی، یوپی
الرسالة المفيدة پر تبصرہ
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد المرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين.
اما بعد، الله تعالی نے اپنے بندوں کی رہ نمائی کے لیے انبیائے کرام اور رسولان
عظام کو مبعوث فرمایا، آخری نبی محمد مصطفی ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کیا،
اور آپ پر قرآن وحدیث کو بذریعہ وحی نازل فرمایا، قرآن کریم کو متن اور حدیث نبوی
کو اس کی تفسیر کا درجہ عطا کیا، جب علمائے اسلام نے مصادر شرع کی حد بندی کی، حدیث
شریف کو قرآن کے بعد دوسرا مصدر قرار دیا، جب کہ تیسرا مصدر اجماع اور چوتھا قیاس
قرار پایا، یہ درجہ بندی تتبع اور استقراء کے بعد عمل میں آئی۔ عہد رسالت میں حدیث
شریف کی کتابت اور اس کی حفاظت کی جزوی کوششیں ہوتی رہیں، قرآن کریم کی طرح اس کے
حفظ وکتابت کا اہتمام نہیں کیا گیا، اس کی ایک خاص وجہ یہ تھی کہ مسلمان وسائل کی
کمی کی وجہ سے قرآن کریم کے ساتھ حدیث بھی لکھ لیا کرتے تھے، جب اس بات کو آقائے
کریم ﷺ نے ملاحظہ فرمایا تو آپ نے قرآن کے ساتھ حدیث نہ لکھنے کی تاکید فرما دی،
تاکہ قرآن وحدیث میں تفریق رہے۔ جب خلافت کی باگ دوڑ حضرت عمربن عبد العزیز رحمۃ
اللہ علیہ کے سپرد ہوئی، آپ نے امام زہری کو جمع حدیث کے اہم کام پر متعین کیا، آپ
کی کاوشوں سے پہلی دفعہ بڑے پیمانے پر جمع وتدوین کا کام انجام پایا، ورنہ اس سے
قبل صحابہ کرام وتابعین عظام کے پاس ان کے جمع کردہ اجزاء ہی تھے، یا وہ حکم نامے
یا خطوط محفوظ تھے، جنھیں رسول کریم ﷺ نے لکھوایا تھا۔ جب تصنیف وتالیف کا دور شروع
ہوا، اس وقت امام مالک کی موطا نے کافی شہرت پائی، جسے بلند پایہ علما امراء اور
حکام نے سماعت کرنا اور اس کی روایت کرنا اپنے لیے باعث سعادت گردانا، وقت گزرتا
رہا، یہاں تک کہ امام محمد بن اسماعیل بخاری کا زمانہ آیا، آپ نے الجامع الصحیح
المختصر تالیف فرمائی، اس میں احادیث صحیحہ کا خصوصی اہتمام رکھا، اور آثار سے
اجتناب کیا، آپ کی اس تالیف کو کتب احادیث میں وہ شہرت دوام حاصل ہوئی، جوکسی دوسری
کتاب کو نہیں مل سکی، علما نے اس کی مختلف زبانوں میں شروحات لکھیں، حواشی چڑھائے،
اس کے روات پر جرح وتعدیل کی، صرفی اور نحوی تعلیلوں اور وجوہات کو بیان کیا، بلاغی
اور ادبی نقطہ نظر سے بحث ومباحثہ کیا، سماجی اور تاریخی پہلوؤں کو زیر بحث لائے،
غرض کی ہر جہت سے کچھ نہ کچھ ہمیشہ لکھا جاتا رہا، اسی کی ایک کڑی الرسالہ المفیدہ
بھی ہے، جس کے مصنف فہد بن علی کشی ہیں، انھوں نے اس رسالے میں ایسے مفید قواعد
بیان کیے ہیں، جن کے ذریعے صحیح بخاری کے ان راویوں کے اسماء کا درست تعین ہوجاتا
ہے، جن کی صرف کنیت یا شہر کی نسبت ذکر کی گئی ہے، یا ایک نام کے اگر کئی راوی ہیں
تو مبینہ قواعد سے ان کے مابین تفریق کا سلیقہ آجائے گا، عوامی طور پر دیکھا جائے
تو یہ ایک خشک موضوع ہے، مگر طلبا اور علما کے لیے ایک بیش بہا تحفہ ہے، خاص کر
تحقیقی مزاج رکھنے والے علما اور اسلامیات کے باحثین کے لیے یہ ایک گراں قدر علمی
کارنامہ ہے۔ اس رسالے کو عالی قدر نوجوان عالم دین مولانا ابو الابدال محمد رضوان
طاہر فریدی صاحب نے بڑی ہی جانفشانی کے بعد اردو قالب میں ڈھالا ہے، ساتھ ہی ساتھ
ابتداء میں بہت سے اضافات بھی کیے ہیں، رسالہ حجم کے اعتبار سے کہتر ضرور ہے، مگر
بہت سی ضخیم کتابوں سے بہتر ہے۔ اس رسالے کی ترجمہ نگاری اور اضافات کے لیے مولانا
موصوف کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، مولی تعالیٰ موصوف کے اس قلمی کاوش کو قبول
فرمائے اور مزید علمی کارناموں کی توفیق رفیق عطا فرمائے، آمین۔ ابو الفواد توحید
احمد طرابلسی جمدا شاہی، بستی، یوپی، بھارت 3/جولائی 2022ء بروز اتوار
الأحد، 13 فبراير 2022
بچوں پر شفقت رسول پر ایک تبصرہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم،
والصلاہ والسلام علی رسولہ الکریم
اما بعد ۔
معاشرتی زندگی میں رویہ کو بہت اہمیت حاصل ہے، خاص طور پر شفقت ومحبت کو کہ مذہب اسلام نے ہر ایک کو اس پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے ، جہاں پر چھوٹوں کو عزت کرنے کا حکم دیا ، وہیں پر بڑوں کو شفقت کرنے حکم دیا، اس لحاظ سے رسول اکرم ۔صلی اللہ علیہ و سلم ۔کی ذات مبارکہ ایک الگ شناخت رکھتی ہے، خصوصا بچوں پر شفقت کے لحاظ سے نبی اکرم کی ذات ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
زیر نظر رسالہ حضور استاذ محترم علامہ ابوالفواد توحید احمد علیمی طرابلسی (استاذ دارالعلوم اھل سنت حبیب الرضا، بگی روڈ، گونڈہ) کا ہے، جسے میں نے بنظر عمیق مطالعہ کیا، جو اس پر فتن دور میں ایک رہبر کی حیثیت رکھتا ہے، اس دور میں معاشرتی مسائل میں مغربی تہذیب نے اپنا رنگ جما رکھا ہے، چاہے وہ نوخیز کلیوں کے اسما کا تعین، یا پھر اور کچھ جب کہ اس پر فتن دور میں لوگوں کے اندر بہت ساری رسم جاہلانہ نے جنم لے رکھا ہے۔
صاحب رسالہ نے "بچوں پر شفقت رسول" نامی رسالہ لکھ کر ان رسموں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، اور اس رسالے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں جن آیات، اور احادیث مبارکہ سے استفادہ کیا گیا ہے، ان کو بحوالہ ذکر کیا گیا ہے
اور رسالے کے آخر میں مصادر ومراجع کو یک جا کر دیا ہے، رسالہ کا طرز بیاں عام اور تطویل واختصار مخل سے خالی ہے جس سے امید ہے کہ عام مسلمانوں کو اس سے زیادہ فائدہ ہو گا ۔
اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مصنف موصوف کو مزید خدمت دین کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین ۔صلی اللہ علیہ و سلم ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عبدہ المذنب عبدالحلیم الرضوی،
متعلم دارالعلوم اھل سنت حبیب الرضا،گونڈہ-
بروز شب جمعہ مبارکہ 22جمادی الآخر 1442ھ
4فروی 2021ء
حضرت مولانا شاہد سعدی صاحب کا تبصرہ
ماشاءاللہ!
میں نے دیکھا ہے کہ محب گرامی حضرت مولانا ابوالفواد توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب زید مجدہم اک جواں سال، باصلاحیت اور بڑے متحرک عالم دین ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں مطالعہ کی وسعت، تحلیل و تجزیہ کی لیاقت اور اسلامی افکار و نظریات کو بہترین ، عام فہم اور سادہ انداز میں پیش کرنے کی صفت سے نوازا ہے۔
علم سے گہری وابستگی، سادہ مزاجی اور مجلس احباب میں ان کی اعلی اخلاقی اور ملنساری یہ سب ان کے وہ خصائص ہیں جو انھیں اپنے حلقۂ احباب میں مزید پروقار اور محبوب بنا دیتے ہیں۔
موصوف فی الحال گونڈہ کی سرزمین "دارالعلوم اہل سنت حبیب الرضا" بگی روڈ میں تدریسی خدمات پر مامور ہیں۔ اس مصروفیت کے باوجود ان کی یہ خلوص وللہیت ہی ہے کہ ملت اِسلامیہ کی رہبری کے لیے لخت لخت موضوعات پر ان کے درجنوں مقالات اور کتابیں ہندوپاک کی سرزمین پر حیاتِ نو کا پیغام دے رہی ہیں۔
دعا ہے رب کریم ان کو صحت و عافیت اور خیر سے بھری لمبی عمر نصیب فرمائے اور زیادہ سے زیادہ خدمات دین کی توفیق بخشے۔ آمین
✍️ #شاہدسعدی
30/03/2021ء
الأربعاء، 12 يناير 2022
رزقہ احمد بنت ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
رزقہ احمد بنت ابو الفواد توحید احمد طرابلسی
ولادت 23/ دسمبر 2021، بروز جمعرات، بوقت آٹھ بج کر دس منٹ شام بعد مغرب
سیاست حاضرہ اور اویسی صاحب کے نام نعمانی صاحب کانامہ
نام نہاد سیکولر پارٹیاں اویسی کو گٹھ بندھن میں لینے کے لیے تیار نہیں ہیں، انھیں خوف ہے کہ اگر مسلم اکثریتی علاقے والی دس بارہ سیٹ بھی اویسی کو دے دیں گے تو ووٹ متحد ہونے کی بنا پر جیت جائے گا، پھر مسلمانوں کو سیاسی حصے داری دینی ہوگی، اور اگلے الیکشن میں مزید مسلم علاقوں کی سیٹ بھی دینی پڑے گی، اس کے برعکس اویسی کو اگنور کرنے میں انھیں فائدہ دکھ رہا ہے، مسلم دری بچھانے اور ای رکشہ میں ہی خوش ہیں، کچھ لوگ مخالفت کر رہے تو یہ چند لاکھ ووٹر کیا کر لیں گے؟ اگر یہ نام نہاد سیکولر پارٹیا ہار جائیں گی تو کہتے پھریں گی کہ اویسی نے ہرا دیا۔
نعمانی صاحب کہہ رہے ہیں کہ چالیس پچاس سال قبل سیاسی مضبوطی لانی چاہیے تھی، مگر نعمانی صاحب یہ بھول گئے کہ ہر الیکشن مسلمانوں کے لیے زندگی اور موت کے سوال پر لڑا گیا ہے، آج بھی وہی حالات بنے ہوئے ہیں، اب تو حالات نازک تر ہوگئے ہیں، اگر اب بھی نہ جاگے تو آنے والا وقت اور بدتر ہوگا، سیانے کہہ گئے ہیں جب جاگو تبھی سویرا، جو لوگ اپنی قوم کو متحد کرنے، اور ان میں سیاسی حصے داری کا شعور پیدا کرنے کی بجائے اغیار کے جوتے چاٹنے میں خوش ہیں انھیں کسی صورت سمجھایا نہیں جا سکتا، ایسے لوگ کبھی بھی قوم کے لیے سود مند نہیں ہوسکتے ہیں، قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو متحد ہوتی ہیں، جو اپنوں کو جتانے اور اور ان کو آگے بڑھانے کے لیے سعی کرتی ہیں، مگر یہاں تو دوسروں کو جتانے میں اپنی جیت سمجھی جا رہی ہے، ستر سال سے یہی کرتے آرہے ہیں، نتیجہ ہر بار صفر آتا ہے، مگر پھر اسی روش پر لگ جاتے ہیں، ہر بار ظلم کے نئے پہاڑ توڑے جاتے ہیں مگر دل سے سیکولر پارٹیوں کی محبت نکلنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
الاشتراك في:
الرسائل (Atom)






