التسميات

الجمعة، 8 ديسمبر 2023

اتحاد امت اور احادیث نبویہ

::: اتحاد امت اور احادیث نبویہ ::: (جمع الأربعين في اتحاد المسلمين) - ایک تعارف --------- اتحاد واتفاق پر جا بجا قرآن وحدیث میں زور دیا گیا ہے، صحابہ کرام، تابعین عظام اور آئمہ مجتہدین نے بھی اپنے فرمودات میں اس کی اہمیت پر خوب روشنی ڈالی ہے، مگر ہر دور میں کچھ معاملات ایسے درپیش ہوتے رہے ہیں، جن کی بنا پر امت اختلاف کا شکار ہوتی رہی ہے، وہیں کچھ اختلاف علمی بھی ہوئے، جن سے امت کو بے شمار فوائد حاصل ہوئے ہیں اور انھیں نبوی فرمود میں رحمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اہل اسلام کے آپسی اختلافات کی بنا پر بعض ملکوں میں اسلامی حکومتیں بھی زوال پذیر ہوئیں، خاص کر بر اعظم یورپ میں واقع اسپانیا کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا۔ حالیا دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے داخلی اختلافات کے سبب ساری دنیا ہمارے خلاف ظالم کی حمایتی ہوگئی ہے، اس کا جیتا جاگتا ثبوت غزہ ہے، جہاں ہزاروں کم سن بچوں عورتوں اور بے گناہوں کو بے رحمی سے مار دیا گیا اور مسلسل مارا جا رہا ہے، مگر سوائے اہل یمن کے کسی نے اس ظلم کو روکنے کی عملی کوشش نہیں کی، اہل اسلام اسلامی اخوت کو پس پشت رکھ کر صرف اپنے مفاد کی تکمیل کے لیے اپنی ساری تگ ودو صرف کر رہے ہیں۔ اسی پر بس نہیں ہے، بل کہ مصر کی طرف سے اہل غزہ کی سرحد بھی بند کر دی گئی ہے، جب کہ امارات وغیرہ دیگر ممالک نے اسرائیل کو امریکا اور یورپ سے ملنے والے اسلحوں کو اپنے فضائی حدود سے گزرنے کی بحالت مجبوری اجازت دے دی ہے، ہم پر یہ ذلت ورسوائی صرف اور صرف آپسی اتفاق سے دوری کی وجہ سے مسلط کی گئی ہے۔ اسی طرح جب ہم ملکی معاملات کو دیکھتے ہیں تو ہماری آپسی چپقلش عروج پر نظر آتی ہے، نہ ہم دینی اعتبار سے منظم ہیں، نہ مسلکی، نہ مشربی اور نہ ہی سیاسی، اس انتشار کا فائدہ اغیار نے بخوبی اٹھایا اور اس نے ہماری شبیہ برادران وطن کی نگاہوں میں خراب کر دی، جس کی وجہ سے آج نہ ہماری جان، مال عزت وآبرو محفوظ ہے، نہ ہی ہماری مساجد ومدارس ان کے دست تعدی سے دور ہیں، اس طرح خون مسلم نہایت ہی ارزاں ہو کر رہ گیا ہے۔ ایسے ماحول میں نا چیز نے کوشش کی کہ اتحاد پر دلالت کرنے والی چالیس احادیث نبویہ ﷺ کو یک جا کیا جائے اور حالات حاضرہ کو پیش نظر رکھ کر اس پر ایک مبسوط مقدمہ بھی لکھا جائے۔ چنان چہ مختلف مشاغل سے جو وقت بچتا اس میں اس کام کو کرتا رہا اور چند ماہ میں یہ کام پایہ تکمیل تک پہنچ گیا، میں اپنی اس کوشش میں کتنا کامیاب ہوا، اس کا فیصلہ میں قارئین کرام پر چھوڑتا ہوں۔ دیگر کتابوں کی طرح خادم کی یہ کتاب بھی اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن کی رہین منت ہے، جس کے لیے میں محترم المقام، قابل صد احترام ابو البرکات محمد بشارت علی صدیقی اشرفی کا ممنون ومشکور ہوں، مولی تعالیٰ ان کی صحت وتن درستی اہل خانہ اور کاروبار میں برکتیں نازل فرمائے اور ہم سبھی کو صراط مستقیم پر گامزن رکھے، آمین ثم آمین۔ ابو الفواد توحید احمد طرابلسی نزیل حال- ممبئی، مہاراشٹر 8/دسمبر 2023 بروز جمعہ المبارکہ ترسیل تعارف: بشارت علی صدیقی قادری، اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن،

الأربعاء، 6 ديسمبر 2023

کتابی تحفہ از مولانا بلال احمد مند سوری

شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ

سالوں کے انتظار کے بعد بالآخر وہ حسین گھڑی آگئی، جب یہ کتاب شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام پریس کے حوالے ہو رہی ہے۔ اردو زبان میں شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام پر بہت لکھا گیا ہے، مگر عمومی طور پر طوفان نوح اور قوم نوح کے مظالم کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کرنے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ انبیاء کرام علیہم السلام میں آپ سب سے زیادہ عمر پانے والے ہیں۔ چنان چہ آپ کی دعوت وتبلیغ کا کام صدیوں پر محیط ہے، مگر صد افسوس کی آپ کے اسلوب دعوت وتبلیغ پر اردو زبان میں مستقل کوئی کتاب معارض وجود میں نہیں آپائی، لھذا اس خلا کو بھی پُر کرنے کی یہ ایک کوشش ہے، امید ہے دیگر اہل قلم اس جانب متوجہ ہونگے۔
اس سال طباعت ہونے والی ناچیز کی یہ دوسری کتاب ہے، اس سے قبل صراط پبلکیشنز سے "کیا دہن نبوت سے نکلے ہر بات وحی الہی ہے؟" نام کتاب شائع ہوچکی ہے۔ حسب معمول اس کتاب کی طباعت بھی اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن کے بانی عالی جناب ابو البرکات بشارت علی صاحب کے مرہون منت ہے، جس کے لیے میں آپ کا سراپا سپاس ہوں۔ ابو الفواد توحید احمد طرابلسی نزیل حال- ممبئی 6/دسمبر 2023ء، بروز بدھ

شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کا اسلوب دعوت وتبلیغ

::: شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کا اسلوب دعوت و تبلیغ - ایک تعارف ::: انبیاءکرام میں حضرت نوح علیہ السلام کی دعوتی زندگی اپنی قوم کے لیے سب سے زیادہ مدت یعنی لگ بھگ ۹۵۰ سال تک رہی۔ قرآن مجید میں جن پانچ انبیاء کرام کو "اولوالعزم" قرار دیا گیا ہے، ان میں آپ کی ذات گرامی بھی ایک ہے، بلکہ اولو العزم انبیاء میں آپ ہی سرفہرست ہیں، اسی طرح قرآن مجید میں ایک مکمل سورت آپ کے نام گرامی سے موسوم ہے اور تقریبا 43 بار آپ کا اسم قرآن مجید میں مختلف مقامات پر بڑے ہی دل چسپ انداز میں آیا ہے۔ شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کی سیرت اور دعوتی اسلوب پر ہمارے محب گرامی علامہ توحید احمد طرابلسی صاحب* نے ایک جامع کتاب، 60 سے زائد مستند اور قیمتی مصادر و مراجع کی روشنی میں قلم بند فرمائی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور انوکھا کام ہے۔ کتاب کُل چھہ (6) ابواب پر مشتمل ہے۔ *پہلا باب* حیات نوح علیہ السلام پر مشتمل ہے۔ *دوسرا باب* حضرت نوح علیہ السلام کا مقصد بعثت کی تفاصیل پر لکھا گیا ہے۔ *تیسرا باب* حضرت نوح علیہ السلام کی داعیانہ صفات پر تحریر کیا گیا ہے۔ *چوتھا باب* قوم نوح کی صفات پر قلم بند کیا گیا ہے۔ *پانچواں باب* حضرت نوح علیہ السلام کے اہل خانہ کی بے وفائی کے داستان پر لکھا گیا ہے۔ *چھٹا باب* حضرت نوح علیہ السلام کے اسلوب دعوت و تبلیغ پر ۵ فصلوں میں تقسیم کرتے ہوئے لکھا گیا ہے۔ *پہلی فصل* میں حضرت نوح علیہ السلام کی مزاج شناسی پر ۵ مطالب پیش کیے گئے ہیں۔ *دوسری فصل* حضرت نوح علیہ السلام کو دی گئی بشارتوں پر مبنی ہے۔ *تیسری فصل* میں ترغیبات نوح علیہ السلام بیان کیے گئے ہیں۔ *چوتھی فصل* میں ترھیبات نوح علیہ السلام اور *پانچویں فصل* میں تفکیر نوح علیہ السلام پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ بقول بعض علما اور مشائخ یہ کتاب مولانا توحید احمد علیمی طرابلسی صاحب قبلہ کی اب تک کہ سب سے اہم اور اپنے موضوع پر اردو میں اولین کتاب ہے۔ کتاب پر حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شفیق الرحمن عزیزی مصباحی صاحب قبلہ (سربراہ اعلی دار العلوم علیمیہ، جمدا شاہی، انڈیا و مفتی اعظم ہالینڈ)، نوجوان ادیب و صحافی علامہ مولانا محسن رضا مصباحی صاحب اور علامہ مولانا اعجاز احمد نظامی جامعی صاحب قبلہ جیسے اکابر اور حساس علماے اہل سنت کی تقاریظ شامل ہیں۔ کتاب کا انتساب مؤلف نے اپنے مربی و استاذ حضرت علامہ مولانا محمد تفسیر القادری قیامی علیہ الرحمہ کے نام کیا ہے۔ میں نے اپنی عادت کے مطابق آخر میں مولانا موصوف کی تفصیلی پروفائل بھی شامل کرنا مناسب سمجھا، جس سے ان کی تعلیمی سرگرمیاں اور تحریری خدمات بھی اجاگر ہو جائیں، اور لوگ ان کی خاموش تحقیقی خدمات کے معترف بھی ہوں اور قدر دان بھی ہوں۔ مؤلف کتاب علامہ توحید احمد طرابلسی صاحب میرے اور میرے ادارے اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن کے قدیم علمی معاون اور رفیق رہے ہیں۔ مولانا صاحب کے ساتھ مل کر کچھ ایک درجن سے زائد کتابوں پر کام کرنے اور تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا ہے، کچھ کتابیں ہمارے ادارے سے منظر عام پر بھی آچکی ہیں۔ بہت سی ان شاءاللہ تعالی اس سال اور اگلے سال تک سامنے آجائیں گی۔ امید ہے کہ یہ کتاب بھی موصوف کی سابقہ کتابوں کی طرح علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی۔ بشارت علی صدیقی اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن، حیدرآباد دکن

الاثنين، 30 أكتوبر 2023

ایک شخص سارے گھر کو ویران کر گیا

اک شخص سارے گھر کو ویران کر گیا ----------- موت ایک اٹل حقیقت ہے، اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، مگر بعض لوگوں کا جانا پورے اہل خانہ یا گاؤں یا شہر یا ملک کے لیے غم ناک ہو جاتا ہے، جامعہ غوثیہ نجم العلوم سنی دعوت اسلامی ممبئی کے مشہور استاد حضرت مولانا مظہر حسین علیمیؔ صاحب کے والد گرامی ابھی کچھ وقت پہلے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں، جس سے احباب و اقارب می غم کی لہر دوڑ گئی ہے، إنا لله وإنا إليه راجعون۔ آپ کی رحلت اہل خانہ، احباب ومتعلقین کے لیے ایک سانحہ جانکاہ ہے، میں اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے حضرت مولانا مظہر حسین علیمیؔ صاحب اور آپ کے اہل خانہ کو تعزیت پیش کرتا ہوں اور اس مصیبت کی گھڑی میں ہم آپ کے شریک غم ہیں: اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیں روئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے الله تعالی مرحوم کے صغائر وکبائر اپنے پیارے حبیب ﷺ کے صدقے وطفیل معاف فرمائے، آخرت کی ساری منازل کو آسان کرے اور روز حشر لواء الحمد تلے اٹھائے۔ نیز مولانا موصوف اور آپ کے اہل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازے اور اس پر اجر جزیل بھی عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔ سوگوار ابو الفواد توحید احمد طرابلسی فاضل- کلیۃ الدعوۃ الاسلامیۃ، طرابلس، لیبیا مقیم حال- ممبئی

الخميس، 5 أكتوبر 2023

عالی جناب سلیم انصاری ادروی صاحب کا ایک تبصریاتی فیس بک پوسٹ

یہ ہیں عزیزم توحید احمد طرابلسی Tauhid Ahmad فاضل لیبیا اور فیض یافتہ دبستان علیمیہ۔ ان کی تصنیفات وتالیفات کے موضوعات سے معلوم چلتا ہے کہ انہیں قرآنیات، حدیثیات اور اصلاحیات میں خاص دل چسپی ہے۔ ویسے موصوف نے برصغیر کے سنی علما کی قرآنی وتفسیری خدمات سے متعلق میرے لکھے کئی کتابچے اور مضامین کو اپنے پیج علمائے برصغیر کی تفسیری خدمات پر اپلوڈ کیا تھا۔ جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ ❤ ❤

الأربعاء، 27 سبتمبر 2023

موت العالم موت العالم

جو بادہ کش تھے پرانے، وہ اٹھتے جاتے ہيں کہيں سے آب بقائے دوام لے ساقي! ----- امیر القلم حضرت مولانا مقبول احمد سالک مصباحی بانی ومہتمم جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی دہلی (ساکن وپوسٹ لال پور، ضلع مہراج گنج، یوپی) اس دار فانی سے دار جاودانی کی طرف کوچ فرما چکے ہیں، إنا لله وإنا إلیه راجعون. آپ کی رحلت ملت اسلامیہ کے لیے ایک بہت بڑا خسارہ ہے، خاص کر اہل دہلی کے لیے یہ خبر جان گسل ہے، ابھی چند ماہ قبل علامہ یاسین اختر مصباحی صاحب کے سانحہ ارتحال سے اہل دہلی سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ یہ دوسرا حادثہ رونما ہوگیا، جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے وہ کم ہے۔ اس کم مایہ کی آپ سے ایک ملاقات ہے، 2011 میں جب بیرون ملک تعلیم کے غرض سے جانا تھا، اس وقت استاذ گرامی حضرت مولانا محمد معراج الحق بغدادی صاحب کی معیت میں دہلی حاضر ہوا، تاکہ ویزا کا حصول کیا جاسکے، رہائش کے لیے مٹیا محل گئے، مگر حسن اتفاق وہاں سالک مصباحی صاحب سے ملاقات ہوگئی، جب انھوں نے یہ سنا کہ بغدادی صاحب ہوٹل میں قیام کرنا چاہتے ہیں تو کافی ناراض ہوئے اور اپنے ساتھ جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی لے گئے۔ اتفاق سے ان دنوں لیبیا کا ایک جہاز لینڈنگ کے وقت کریش ہوگیا تھا، جس میں عام لوگوں کے ساتھ کئی حکومتی عہدے داران اور وزراء بھی مارے گئے تھے، اس لیے ملکی سطح پر چند ایام کے سوگ کا اعلان ہوا تھا، جس کی بنا پر سفارت خانہ بند تھا اور ویزا ملنا دشوار ہو رہا تھا، ادھر علیمیہ میں تدریس جاری تھی، اس لیے بغدادی صاحب مجھے جامعہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی میں مولانا سالک مصباحی کے زیر نگرانی چھوڑ کر واپس جمدا شاہی تشریف لے گئے۔ دہلی میں رہتے ہوئے جن کاغذات پر مہر یا ترجمے کی ضرورت محسوس ہوئی، اسے سالک صاحب نے خود جا کر کروایا اور اکثر کا صرفہ بھی خود برداشت کیا، جب میں دینے کی کوشش کرتا تو کہتے ابھی طالب علم ہو، جب کمانا تب دینا۔ انہی ایام میں ایک دفعہ بائیک سے سفارت خانہ بھی لے گئے اور مسلسل رابطہ کی کوشش بھی کی، مگر ٹیلیکس نمبر ہوتے ہوئے بھی تقریباً ایک ہفتہ لگ گیا، تب جاکر کہیں یہ نوید آئی کہ آکر ویزہ لگوا لیں، اس وقت بھی آپ نے بائیک سے لے چلنے کی پیشکش کی، مگر میں نے بائیک سے جانے سے منع کردیا، کیونکہ ایک بار آپ کی برق رفتاری اور کم جگہ میں چابک دستی سے نکلنے کی مہارت دیکھ چکا تھا، خیر تب بھی آپ نے اکیلے نہ جانے دیا، محترم طبرانی صاحب کو ساتھ میں روانہ کیا۔ تب سے آپ سے روابط ہیں، گاہے گاہے آپ کی طرف سے یا میری طرف سے سوشل میڈیا پر پوسٹ وغیرہ کا بھی تبادل ہوتا رہتا تھا، ابھی چند ماہ قبل جب میں نے ملیشیا کی ایک یونیورسٹی کے اعلان داخلہ کو فیس بک پر شیئر کیا تو آپ نے فون کیا اور تفصیل جاننا چاہی، آپ کا ارادہ وہاں سے پی ایچ ڈی کرنے کا تھا، مگر وہاں یونیورسٹی میں کوئی رابطہ کا بندہ نہیں ملا، جس کے سبب معاملہ آگے نہیں بڑھ پایا۔ آج جب آپ رخصت ہوگئے ہیں تو آپ کی شفقتیں اور آپ کی نصیحتیں یاد آ رہی ہیں، آپ کی قلمی، لسانی اور تعمیری خدمات کو تاریخ کبھی فراموش نہیں کرپائے گی۔ الله رب العزت آپ کو اپنے حبیب کے صدقے جنت الفردوس میں اعلی سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور آپ کے پسماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۔ ابو الفواد توحید احمد طرابلسی رے روڈ، ممبئی 27/ستمبر 2023

خطبات حضور شیخ الھند قدس سرہ جلد اول

خطبات حضور شیخ الھند قدس سرہ جلد اول --------------------------------- لوگوں کی رشد وہدایت کے لیے اولین ذریعہ تواصل تقریر ہی ہے، جب ہابیل اور قابیل کے شرعی معاملات نے سنگین رخ اختیار کر لیا اور معاملہ قتل کی دھمکی تک جا پہونچا تو ہابیل نے قابیل کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ۔ انسانی تاریخ میں زمین پر یہ پہلا خطاب تھا، جس میں تقریر کے ذریعے ایک آدمی کی اصلاح کی کوشش کی جا رہی تھی، پھر یہ سلسلہ وقت کے ساتھ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا، جب انسان نے قلم پکڑا تو تقاریر کی تدوین بھی شروع ہوگئی۔ چونکہ ہزاروں سال سے لوگوں سے روابط کا اولین وسیلہ یہی خطاب رہا ہے اور آج بھی اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، لھذا دیگر زبانوں کی طرح اردو زبان میں بھی مختلف علمائے کرام ومشائخ عظام کے علمی، فنی، اصلاحی اور انقلابی خطابات کے گوہر بے بہا کو یکجا کیا جاتا رہا ہے، جس میں سے کچھ مدونات نے کافی شہرت حاصل کی اور عوام وخواص نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ زیر نظر کتاب "خطبات حضور شیخ الھند قدس سرہٗ" بھی اسی سلسلۃ الذہب کی ایک حسین کڑی ہے، جو حضرت علامہ پیر سید کمیل اشرف الاشرفی الجیلانی رحمۃاللہ علیہ کے زبان فیض ترجمان سے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے سد باب کے لیے مختلف مقامات پر ہوا تھا، یہ مجموعہ خطبات مختلف الجہات ہیں، چنانچہ وحدانیت، رسالت ونبوت، گوشہ سیرت، شان اہل بیت، شان اولیاء اللہ، عقائد و معمولات اہل سنت اسلامی تعلیمات اور متفرقات کے تحت لعل و گوہر کا ایک بحر بے کراں ہے، جسے قرآن، حدیث اور اسلاف امت کے اقوال سے سجایا اور سنوارا گیا ہے، وہیں اسے ادبی لبادہ بھی پہنایا گیا ہے، جو صاحب خطاب کے قوت علم وفکر کی بلندی کا عکس جمیل ہے۔
اس مجموعہ خطبات کی ترتیب وتدوین حضرت مولانا مظہر حسین علیمی صاحب اور حضرت مولانا مفتی محمد عرفان علی عارفی نوری صاحب نے کی ہے، جسے فروری 2023 میں اشرفی لطیف فاؤنڈیشن ممبئی نے شائع کیا ہے، کتاب پر نظر ثانی کا کام بڑی باریک بینی سے کیا گیا ہے، جب کہ حوالہ جات کی تخریج نے سونے پہ سہاگا کا مصداق بنا دیا ہے۔ بہت ضروری ہے کہ کتاب کے ٹائٹل اور اوراق کے متعلق بھی چند باتیں عرض کر دی جائے، جہاں مجلد دیدہ زیب ٹائٹل دعوت نظارہ دے رہا ہے، وہیں از اول تا آخر کلر فل اعلی درجے کے صفحات ذوق سلیم کا بھی پتہ دے رہے ہیں، حقیقت میں کتابوں کی طباعت ایسے ہی اعلی ترین معیار پر ہونا چاہیے، جسے پڑھنے پر ہر آدمی بے خود ہوجائے۔ قابل مبارک باد ہیں اشرفی لطیف فاؤنڈیشن ممبئی کے بانیین و متعلقین جنھوں نے اس بلند پایہ کام کو سر انجام دیا، انھوں نے صرف اپنے شیخ کے عرس پر اکتفا نہ کیا، بل کہ ان کی فکر کی ترسیل کے ذریع کو بھی تلاش کیا، بزرگان دین کا اعراس ایک مستحسن عمل ہے، مگر ان کے لسانی اور قلمی سرمایہ کو محفوظ رکھنا، اسے دوسروں تک پہنچانا عروج فکر پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سب شاید ممکن نہیں ہو پاتا، اگر محترم المقام جناب حافظ محمد بلال اشرفی صاحب اور آپ کے احباب کی جہد مسلسل کار فرما نہ ہوتی، آپ سبھی حضرات قابل ستائش ہیں۔ مولی تعالیٰ مدونین اور ناشرین کو صحت وتن درستی عطا فرمائے، ان سے مزید علمی کام لے اور ان پر بزرگان دین کا سایہ عاطفت دراز فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ کتاب کے حصول کے لیے رابطہ فرمائیں: جناب عبداللہ اشرفی صاحب، ممبئ 9167334439 -{°÷°÷°÷°÷°÷°÷°÷}- ابو الفواد توحید احمد طرابلسی نزیل حال- مصطفی بازار، ممبئی 24/ستمبر 2023ء، بروز اتوار